مالی سال 22-21ء میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے کا رجحان رہا: سٹیٹ بینک 

    مالی سال 22-21ء میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے کا رجحان رہا: سٹیٹ بینک 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد (این این آئی)بینک دولت پاکستان نے مالی سال 2021-22 ء کیلئے نظام ادائیگی کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی جس میں ٹرانزیکشنز کے مجموعی خلاصے کے ساتھ ملک میں ادائیگیوں کے ایکوسسٹم میں ہونیوالی اہم پیش رفتوں کو اجاگر کیا گیا تفصیلات کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ اور توسیع دینے کے سلسلے میں اپنی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں سٹیٹ بینک نے راست فرد تا فرد (P2P) متعارف کرایا جس کے ذریعے افراد، کاروباری اداروں اور دیگر اداروں کے مابین ادائیگیوں کی ٹرانزیکشنز کے بروقت تصفیے کو یقینی  بنایا گیا رپورٹ کے مطابق جون 22ء تک P2P راست استعمال کنندگان کی تعداد 15 ملین تھی جنہوں نے 102.1 ارب روپے مالیت کی 7.9 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں رپورٹ میں کہا گیاکہ مالی سال 22ء کے دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ بینکاری کے استعمال کنندگان کی تعداد بالترتیب 8.4  ملین اور 12.3 ملین تک پہنچ گئی ٹرانزیکشنوں کے لحاظ سے سال کے دوران موبائل فون بینکاری 100.4 فیصد اضافے کیساتھ بڑھ کر 387.5 ملین، جبکہ انٹرنیٹ بینکاری 51.7 فیصد اضافے سے بڑھ کر 141.7 ملین تک پہنچ گئی مالیت کے لحاظ سے موبائل فون بینکاری اور انٹرنیٹ بینکاری بالترتیب 141.1 فیصد اور 81.1 فیصد نمو کیساتھ بڑھ کر 11.9 ٹریلین روپے اور 10.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ای کامرس کی ٹرانزیکشنز میں بھی ایسے ہی رجحانات دیکھے گئے اور ان کا حجم 107.4فیصد نمو کے ساتھ 45.5ملین اور  مالیت 74.9فیصد اضافے کے ساتھ 106.0ارب روپے تک پہنچ گئی۔مالی سال 22ء کے دوران مجموعی طور پر ملک میں 32958 پی او ایس مشینیں نصب کی گئیں، جس کے نتیجے میں پی او ایس مشینوں کا نیٹ ورک 45.8 فیصد اضافے سے بڑھ کر 104865 مشینوں تک پہنچ گیا اس مدت کے دوران بینکوں سے رجسٹرڈ ای کامرس مرچنٹس کی تعداد 3003 سے بڑھ کر 4887 ہوگئی۔ ملک میں اے ٹی ایم کا نیٹ ورک 4.8 فیصد سال بسال اضافے سے 17133 اے ٹی ایم تک پہنچ گیا۔ پی او ایس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی مجموعی تعداد 137.5 ملین رہی، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54.5 فیصد زیادہ تھی، اور ٹرانزیکشنز کی مالیت بڑھ کر 0.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو اس میں 56.1 فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اے ٹی ایم کے ذریعے کْل 692.3 ملین ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مالیت 9.6 ٹریلین روپے ہے، یعنی مالی سال 21ء سے 19.2 فیصد زیادہ۔ مالی سال 22ء   میں 42.4 ملین پیمنٹ کارڈز زیرِ گردش رہے، جن میں 71.1 فیصد یا 30.16 ملین  ڈیبٹ کارڈز، 24.3 فیصد یا 10.3ملین سماجی بہبود کارڈ، 4.2 فیصد یا 1.79 ملین کریڈٹ کارڈ اور بقیہ پری پیڈ اور اے ٹی ایم کارڈ شامل ہیں پاکستان کے ریئل ٹائم گراس سیٹل منٹسسٹم  (آر ٹی جی ایس) کے ذریعے بڑی مالیت کی ٹرانزیکشنز کی تعداد بڑھ کر 4.37 ملین تک پہنچ گئی جن کی مالیت 53.3 فیصد سال بسال نمو کے ساتھ 681.6 ٹریلین روپے رہی۔ مالی سال 22ء کے دوران کاغذی لین دین میں بلحاظ حجم 1.0 فیصد کمی آئی مگر بلحاظ مالیت 190.4 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 25.6 فیصد کی سال بسال نمو کا عکاس ہے۔
رپورٹ

مزید :

صفحہ آخر -