آئیے مسکرائیں 

آئیے مسکرائیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

٭ایک شخص کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک چراغ ملا۔ چراغ پر چھوٹی سی چٹ چپکی ہوئی تھی جس پر لکھا ہوا تھا:”اس چراغ کو گھس کر اپنی قسمت کو چمکائیے۔“ اس شخص نے چراغ کو اٹھایا اور اسے گھسا تو چراغ پر لگی چٹ ہٹ گئی۔ نیچے لکھا تھا:”برائے مہربانی چٹ دوبارہ چپکا کر چراغ وہیں رکھ دیں۔ مجھے پتا تھا کہ آپ ہی وہ بے وقوف انسان ہیں جو اس چراغ کو اٹھائیں گے۔“
٭ایک صاحب ماہر فلکیات تھے۔ ایک رات وہ دُور بین آنکھوں سے لگائے تاروں کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے چوکیدار نے آسمان پر ایک ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا تو بولا ”واہ صاحب! کیا نشانہ ہے“۔
٭اسمبلی کا امیدوار تقریر کرنے کے بعد خاموش ہوا تو کسی نے زور دار آواز میں کہا:”تم جھوٹے اور بے ایمان ہو میں تمہارے مقابلے میں شیطان کو ووٹ دینا پسند کروں گا“۔ امیدوار نے مسکراتے ہوئے کہا:”ٹھیک ہے جناب! اگر آپ کا دوست الیکشن میں کھڑا نہ ہوا تو پھر آپ مجھے ہی ووٹ یجیے گا“۔
٭گھر پر کوئی نہیں تھا دودھ والے نے گھنٹی بجائی اندر سے طوطے کی آواز آئی: ”کون ہے؟“۔ دودھ والے نے کہا:”دودھ والا“۔ طوطے نے پھر پوچھا:”کون ہے؟“۔ دودھ والے نے پھر جواب دیا:”دودھ والا“۔ آخر بار بار ایک ہی سوال سے تنگ آ کر دودھ والے نے پوچھا:”آخر تم کون ہو؟“۔ طوطے نے کہا:”دودھ والا“۔

مزید :

ایڈیشن 1 -