ہماری کرکٹ کا المیہ۔۔۔

ہماری کرکٹ کا المیہ۔۔۔
ہماری کرکٹ کا المیہ۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یوں تو کرکٹ ایک کھیل ہے اور اِس میں بھی اور کھیلوں کی طرح ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور ہم اِس میں کوئی  پہلی دفعہ نہیں ہارے، مگر جس بُرے طریقے سے اِس  بار ہارے ہیں بلکہ چاروں شانے چت ہوئے ہیں اُس کی نظیر ملکی کرکٹ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔کسی بھی مہمان ٹیم سے اپنی من پسند وکٹوں پر اپنے ہی تماشائیوں  کے سامنے ایسی ہزیمت اور عبرتناک شکست اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ لڑ کر ہارتے تو اتنا دُکھ نہ ہوتا،اِن ظالم گوروں نے تو میچ بھی پورے پانچ روز چلنے نہیں دیے اور اوپر سے وائٹ واش کا stigma۔۔۔اگرچہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور کسی زمانے میں ایشین چیمپئن شپ سے لے کر ورلڈ چیمپئن اور اولمپک چیمپئن تک ہاکی کا ہر اعزاز ہمارے پاس ہی تھا مگر یہ سب یاد ماضی اور قصہ ئ پارینہ بن چکا۔ہم نے ہاکی میں تنزلی کی تمام منازل بڑی تیزی سے طے کیں اور آج ہم کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لئے بعض اوقات کوالیفائی بھی نہیں کر پاتے۔کھیلوں کے اِس زوال پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر آج کرکٹ پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کرکٹ پاکستان میں اُس وقت بھی مقبول تھی جب ہاکی اپنے جوبن پر تھی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب میڈیا کرکٹ میں کود پڑا تو سوائے فٹ بال کے بقیہ سب کھیلوں کو پیچھے چھوڑ گیا مگر پاکستان میں اِس کی مقبولیت نمبر ون پر ہی رہی۔ زمانہ طالب علمی میں جب ابھی کرکٹ میچ لائیو نہیں آتے تھے تو ٹرانسسٹر ریڈیو پر کمنٹری کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والی سیریز کی کمنٹری سننے کے لئے راتوں کی نیند قربان کرنا پڑتی تھی۔ عمر قریشی، افتخار احمد،چشتی مجاہد اور منیر حسین کی دلفریب اور دلکش کمنٹری بھلا کیسے بھلائی جا سکتی ہے؟


ٹیسٹ کرکٹ سے ون ڈے کرکٹ کا سفر بھی بڑا دلچسپ ہے۔پاکستان میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میرے آبائی شہر سیالکوٹ کے زیر تعمیر سٹیڈیم میں 16 اکتوبر 1976ء کو کھیلا گیا۔کالج سٹوڈنٹ کی حیثیت سے غالباًپانچ روپے کا ٹکٹ لے کر گراؤنڈ میں سارا دن کھڑے ہو کر یہ میچ دیکھا۔ پاکستان کی طرف سے مشتاق محمد،جو بڑے دلیر اور کامیاب کپتان تھے،حنیف محمد کے چھوٹے بھائی تھے جبکہ نیوزی لینڈ کی طرف سے گلین ٹرنر نے کپتانی کی۔ ون ڈے کرکٹ سے پہلے کرکٹ شرفاء اور لارڈز کا کھیل تھا۔پھر ٹی ٹونٹی آنے کے بعد یہ سٹے بازوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ کرکٹ کا جنون تو بڑھا مگر کرکٹ کے ساتھ جڑی عمدہ روایات دم توڑ گئیں۔ کرکٹ روایتی  ہاتھوں سے نکل کر میچ فکسنگ اور بکیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی اور کارپوریٹ دنیا کا غلبہ اِس پر چھا گیا۔اِس طرح یہ کھیل مکمل کمرشل ہو گیا اور پھر بہت سی اعلیٰ و ارفع روایات کا اِس کھیل سے خاتمہ ہو گیا۔ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کی مقبولیت کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کا متاثر ہونا فطری امر تھا مگر باقی ممالک نے اپنی ٹیسٹ کرکٹ کو گرنے نہیں دیا بلکہ مضبوطی سے سنبھالا دیا جبکہ ہمارے نصیب میں تعمیر کی بجائے بگاڑ زیادہ ہے سو ہم نے ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو ہم نے  اپنے دیگر اداروں کے ساتھ کیا۔


دیگر ممالک نے کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے الگ الگ کپتان اور ٹیمیں بنا لیں مگر ہمارے ذہین و فطین منصوبہ سازوں نے ایک ہی کپتان تینوں فارمیٹس کے لئے مقرر کر دیا۔ ہمارے ہاں کرکٹ کا کپتان مقرر کرنے کے لئے اُس کی کرکٹ کی سوجھ بوجھ کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اُس کی بیٹنگ یا باؤلنگ فارم کو دیکھا جاتا ہے،لہٰذا نتیجے کے لئے کسی راکٹ سائنس کا جاننا ضروری نہیں ہے۔ ہم نے کرکٹ میں حفیظ کاردار، مشتاق محمد اور عمران خان جیسے کامیاب اور تگڑے کپتان پیدا کیے۔ ہمارے پی سی بی کے موجودہ چیئرمین رمیز راجہ ایک شریف النفس کھلاڑی تھے،جب تک کمنٹری کرتے تھے لگتا تھا کہ اُن سے بہتر کرکٹ کی سمجھ شاید ہی کسی کو ہو مگر جب سے چیئرمین پی سی بی بنے تو لگتا کمنٹری کرنے والا رمیز راجہ کوئی دوسرا شخص تھا  اور اُن کی کرکٹ کے بارے میں سمجھ بوجھ کے بارے میں اچھا خاصا شک ہونے لگا۔عمران خان صاحب اپنے بارے میں خود کہتے ہیں کہ وہ اچھے مردم شناس نہیں اور یہ بات اُنہوں نے کرکٹ بورڈ کی چیئرمینی کے انتخاب میں سچ ثابت کی ہے۔کمزور کپتانی، غلط ٹیم سلیکشن، دوست نوازی، گروپنگ اور پھر ناقص منصوبہ بندی بلکہ عدم منصوبہ بندی کہا جائے  تو زیادہ مناسب ہے، پھر اِس بات پر اَڑنا کہ چیئرمین اور سلیکشن کمیٹی ہی عقل ِ کُل ہے۔22 کروڑ پاکستانیوں کی دِل شکنی کا باعث ہے، جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کھیل رہی ہوتی ہے تو پوری پاکستانی قوم اپنے سارے گروہی،لسانی، مسلکی اور سیاسی اختلاف بُھلا کر ایک قوم بن کر اپنی ٹیم کی جیت کے لئے دعائیں کر رہی ہوتی ہے۔یہ بات بلامبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ کرکٹ اِس سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر تقسیم شدہ قوم کے لئے ایک بائنڈنگ فورس ہے جو کچھ وقت کے لئے پوری قوم کو جوڑ دیتی ہے۔


افسوس ہے کہ اِس کرکٹ کے ساتھ بھی ہم نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ صرف پچھلے چند ماہ کی کہانی بڑی درد ناک ہے کہ ہماری شکستوں کا سلسلہ یو اے ای سے ہوتا ہوا آسٹریلیا اور پھر اپنے ہوم گراؤنڈ تک آ پہنچا مگر مجال ہے بورڈ کے چیئرمین یا بھولے کپتان نے اپنی کسی غلطی کا اعتراف کیا ہو یا قوم سے معافی مانگی ہو۔جس چیئرمین پی سی بی، سلیکشن کمیٹی اور کپتان کو یہ خبر ہی نہ ہو کہ دنیا بھر میں ٹیسٹ کرکٹ سے کرکٹر ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں آتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہمارے تینوں فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور  حارث رؤف ٹیسٹ کرکٹ کا بوجھ نہ اٹھا سکنے کے باعث اَن فٹ پڑے ہیں اور ہمارے پاس کوئی متبادل کھلاڑی نہیں۔نیوزی لینڈ کی ٹیم چند روز تک پاکستان پہنچنے والی ہے اور نتیجہ پھر وہی متوقع ہے۔ اگر کھلاڑی بار بار اور متواتر ٹیسٹ کرکٹ میں فیل ہو رہے ہیں، کوئی کارکردگی نہیں دکھا رہے،مڈل آرڈر تواتر سے فیل ہو رہی ہے تو اِس کا کوئی حل تو بورڈ کے پاس ہو گا۔کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم گراؤنڈ میں گیارہ کھلاڑی تو ذہنی و جسمانی طور پر فٹ اتاریں۔ تھوڑی دیر کے لئے دوستیوں اور گروپ بندیوں کو اِس خوبصورت کھیل اور اِس قوم کی خاطر بھول جائیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -