ویمن یونیورسٹی،دماغی صحت کی آگاہی بارے سیمینار

ویمن یونیورسٹی،دماغی صحت کی آگاہی بارے سیمینار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان(نیوز رپورٹر)ویمن یونیورسٹی کے شعبہ زوالوجی کے زیر اہتمام دماغی صحت کی آگاہی بارے سیمینار منعقد ہوامتی تل کیمپس میں ہونے والے سیمینا رسے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ لوگوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے کافی شعور بیدار ہوا ہے اور اب وہ اپنے علاج کیلئے بغیر شرم محسوس کیے سائیکاٹرسٹ سے رجوع (بقیہ نمبر60صفحہ6پر)
کرتے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے بے حد کام کرنے کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق لوگوں میں ذہنی امراض تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں جبکہ 2030 تک ڈپریشن دنیا کا سب سے بڑا مرض ہوگا جو انتہائی تشویشناک ہے جب ذہنی امراض کے حوالے سے آگاہی کا کام شروع ہوا تو لوگ ہمیں سنجیدگی سے نہیں سنتے تھے مگر آج دہائیاں گزرنے کے بعد اس میں کافی بہتری نظر آرہی ہے۔پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی، سائیکاٹرسٹ ویلفیئر سوسائٹی و دیگر تنظیمیں پاکستان میں اس حوالے سے موثر کام کررہی ہیں،۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں چیلنجز زیادہ جبکہ ماہرین کی تعداد کم ہے۔ انٹرنیشنل سپیکر ڈاکٹر احتشام الحق مسعود نے کہا کہ ذہنی صحت کو جتنا زیادہ خطرہ اب لاحق ہے ماضی میں نہیں تھا کیونکہ اب زندگی کی رفتار بہت تیز ہے۔ اب جو شخص خود کو تبدیل نہیں کرتا اس کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہے۔ 20 ویں صدی کی سکلز والے افراد 21 ویں صدی میں نہیں چل سکتے لیکن اگر وہ پرانی تربیت کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے تو مشکلات پیدا ہوں گی۔ اب ورچوئل دنیاہے جس میں رابطے تیز ہیں اور اب بات ایک خاندان سے نکل کر پوری دنیا تک پہنچ چکی ہے لہذا خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ شرم کی وجہ سے لوگ اپنے مسائل چھپاتے ہیں اور دوستوں یا عزیزو اقارب سے شیئر نہیں کرتے حالانکہ یہ لوگ ان کی مشکلات کو کم کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر سجاد صدیقی، اور ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی اس دنیا میں نوجوانوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جن کی وجہ سے ان میں ذہنی دباو و دیگر دماغی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ عصر حاضر میں نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر انہیں دنیا کے برابر چلنا ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق انٹرنیٹ اور سیلفی ایڈیکشن بھی دماغی بیماریاں ہیں، جن کا علاج ضروری ہے۔ اس موقع پر فوکل پرسن ڈاکٹر آسیہ بی بی اور دیگر شعبوں کی چیئرپرسنز بھی موجود تھیں۔