کماد پاکستان کی اہم اور نقد آور فصل ہے،زرعی تحقیقاتی ادارہ

کماد پاکستان کی اہم اور نقد آور فصل ہے،زرعی تحقیقاتی ادارہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
لاہور(لیڈی رپورٹر)کماد پاکستان کی اہم اور نقد آور فصل ہے جو کہ ملکی زرعی معیشت کے ساتھ چینی کی صنعت میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔پاکستان کا شمار گنے کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوارکے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پرہے۔ پاکستان میں کماد کے کل کاشتہ رقبہ کے 95.5 فیصد پر زرعی تحقیقاتی ادارہ کماد، فیصل آباد کی متعارف کردہ اقسام کاشت ہوتی ہیں۔پنجاب میں گنے کی اوسط پیداوار تقریباً 690 من فی ایکڑ ہے جبکہ عالمی فی ایکڑ پیداوار تقریبا 709 من فی ایکڑ ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اشتیاق حسین،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل(فارم اینڈ ٹریننگ) زراعت، پنجاب نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ کماد 2023-24کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کے شرکاء  سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ڈاکٹر شاہد افغان، سی ای او شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے شرکاء کو کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے متعلق بتایا کہ پاکستان کی زرعی معیشت اور شکر سازی میں گنے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ 

زرعی سائنسدانوں کی متعارف کردہ کماد کی نئی اقسام کی کاشت کے فروغ سے نامساعد حالات کے باوجود قومی غذائی تحفظ کے حصول کے ساتھ کاشتکاروں کی خوشحالی بھی ممکن ہوئی ہے۔

مزید :

کامرس -