مسائل و محدود وسائل کے باوجود بہتر کام کررہے ہیں، سیدہ شہلا رضا

 مسائل و محدود وسائل کے باوجود بہتر کام کررہے ہیں، سیدہ شہلا رضا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر ترقء نسواں سندھ سیدہ شہلا رضا نے کہا ہے کہ مسائل زیادہ ہیں اور وسائل محدود ہیں لیکن اس کے باوجود بہتر کام کررہے ہیں، این جی اوز کا تعاون خواتین کو درپیش مسائل کے حل میں خاطر خواہ نتائج فراہم کررہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ترقء نسواں سندھ، یو این ایف پی اے (UNFPA)،  پاتھ فائنڈر انٹرنیشنل اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے اشتراک سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی (MSCC) کی دو روزہ سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل احمد راجپوت، یو این ایف پی اے کی رینوکا سوامی، پاتھ فائنڈرر انٹرنیشنل کی ورشہ قاضی، اسپیشل سیکریٹری محکمہ داخلہ عدنان ارشد، پاتھ فائنڈر انٹرنیشنل کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عائشہ و دیگر موجود تھے۔ صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ خواتین و بچیوں سے متعلق مسائل کے سدباب کے لیے ہمیں برادریوں کو متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے کو متوازن رکھنے کے لیے قانون و انصاف کے نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھرپور آگاہی و تربیتی پروگرامز کی بدولت صنفی بنیاد پر تشدد (Gender Based Violence) کے واقعات کا رپورٹ ہونا باعث اطمینان ہے جبکہ اس سے قبل گھریلو و معاشرتی دبا یا قوانین سے متعلق آگہی و معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اس موقع پر تکنیکی ورکنگ گروپس اور پینلسٹس نے سندھ میں خواتین دوست قانون سازی کی تعریف کی اور صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور ردعمل کے لیے رکاوٹوں اور آگے بڑھنے کے راستوں، متعلقہ مقدمات کے جواب دینے کے لیے کیس مینجمنٹ اپروچ اپنانے، متعلقہ محکموں میں اہلکاروں کو فعال و متحرک کرنے اور صوبائی و مقامی سطح پر متعلقہ محکموں کے درمیان تعاون اور استحکام کو مضبوط بنانے پر بحث کی اور بحث کی روشنی میں سفارشات چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل احمد راجپوت کو پیش کیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سفارشات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف اپنے عزم کا اعادہ کیا اور آئندہ ہفتے ذیلی کمیٹی کے سربراہوں کے ساتھ فالو اپ میٹنگز کا بھی اعلان کیا۔ کانفرنس سے رینوکا سوامی، ڈاکٹر عائشہ رشید و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔