تمباکو ٹیکس سینیٹ کمیٹی نے مسترد کردیا ہے،مولانا عطاء الرحمان 

تمباکو ٹیکس سینیٹ کمیٹی نے مسترد کردیا ہے،مولانا عطاء الرحمان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مردان(بیورورپورٹ)جے یو آئی کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہاہے کہ تمباکو پر لگائے گئے ٹیکس ان کی سربراہی میں قائم سینٹ کمیٹی نے مسترد کردیاہے قومی اسمبلی بھی سینٹ کمیٹی کی سفارشات پر من وعن عمل درآمد یقینی بنائیں،ہماری پارٹی کاشتکار وں اور چھوٹے صنعتکاروں کے حقوق کی تحفظ کے لئے ان کے ساتھ ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کے خاتمے اور تمباکو سے وابستہ لاکھوں خاندانوں کے معاشی قتل عام کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر او رباہر آواز اٹھائیں گے وہ جمعہ کے روز سینیٹر حاجی دلاورخان کے حجرے میں مردان،صوابی،چارسدہ،نوشہرہ،بونیر اور دیگر اضلاع کے تمباکو کاشتکاروں اور چھوٹے سگریٹ سازاداروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے اجلاس سے سینیٹر حاجی دلاورخان، جے یو آئی کے مرکزی نائب امیر مولانافضل علی حقانی اورضلعی جنرل سیکرٹری مولانا امانت شاہ کے علاوہ کسان بورڈ کے صدر حاجی رضوان اللہ،انجمن کاشتکاران کے صدر حاجی نعمت شاہ،افتخار باچہ اوردیگر نے خطاب کیا مولانا عطاء الرحمان نے کہاکہ سینٹ میں ان کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی نے تمباکو پر فی کلو 390روپے ٹیکس کو متفقہ طورپر مسترد کردیاہے انہوں نے کہاکہ تمباکو کاشتکاروں کے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے جے یو آئی وزیراعظم سے بات کرے گی اورہم قومی اسمبلی سے اپیل کریں گے کہ وہ سینٹ کی خصوصی کمیٹی سفارشات کو منظورکرکے اس ظالمانہ ٹیکس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کیاجائے انہوں نے کہاکہ ہم عوامی حقوق کے لئے پارلیمنٹ کے اندر جنگ لڑرہے ہیں اورجب بھی ضرورت ہوئی تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی بھی گریز نہیں کریں گے سینیٹر حاجی دلاورخان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کا خصوصی شکریہ اداکیا اورکہاکہ تمباکو کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لئے مولانا فضل الرحمان نے فی الفور اقدام اٹھایاجس پر صوبہ بھر کے کاشتکار برداری اور چھوٹے صنعتکار ان کے مشکورہیں انہوں نے کہا تمباکو کے ایک کلو گرام پر 390روپے ٹیکس انہتائی ظالمانہ ہے ایف بی آر نے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے گھٹ جوڑ کر کے اور کک بیکس لے کر کاشتکاروں کے مفادات کے خلاف یہ ظالمانہ ٹیکس عائد کیا ہے انہو ں نے کہاکہ تمباکو کاشت سے 20لاکھ خاندان وابستہ ہیں اگر حکومت نے سینٹ کمیٹی کے فیصلے پر ہمددرانہ غورنہ کیا تولاکھوں خاندانوں ورکرز بے روزگار ہوکران کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ اس ظالمانہ ٹیکس سے صرف دو ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تسلط قائم ہو جائے گا اور کاشتکاروں سے تمباکو اپنے من مانے قیمتوں پر خریدیں گے جس سے خیبر پختون خوا اپنے نقدآور فصل سے اور مرکزی حکومت 130 ارب روپے کی ریونیو سے محروم ہو جائے گی حاجی دلاورخان نے کہاکہ پہلے ہی سے زیادہ تر کارخانے آزادکشمیر اور سابقہ فاٹا کے علاقوں کو منتقل ہوچکے ہیں نوے فیصد کارخانے ٹیکسوں کی بھر مار کے باعث بند پڑے رہے ہیں رہی سہی صنعت بھی بند ہوجائے گی۔