خواتین کی معاشی ترقی وقت کا تقاضا ہے،اجالا سحر

خواتین کی معاشی ترقی وقت کا تقاضا ہے،اجالا سحر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


تخت بھائی(تحصیل رپورٹر)  خواتین کی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں شرکت سے معاشرے میں  خوشحالی  آئیگی، خواتین کی معاشی  طور پر خود مختاری سے ہی انکی سیاسی خودمختاری وابستہ ہے، سماج سے تشدد کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب خواتین معاشی طور پر خودمختار  ہو، حکومت  اور سماجی تنظیموں نے خواتین کی ترقی کے لئے کئی سکیمیں اور پروگرام شروع کر رکھیں ہیں مگر آگاہی نہ ہونے کے وجہ سے خواتین  ان سے فائدہ نہیں  اٹھا سکتیں، ان خیالات کا اظہار  اجالا سحر مردان، وومن چیمبر اف کامرس مردان اور فرسٹ وومن بینک کی جانب سے  منعقدہ مشترکہ کاروباری تربیتی ورکشاپ سے مقررین خطاب کرتے ہوئے کیاجبکہ وومن چیمبر اف کامرس  مردان کی جانب سی16 کاروباری خواتین  کی تربیت  دی گئی، اس موقع  پر وومن  چیمبراو کامرس کی صدر شبنم نورین  نے کہا کہ خواتین  میں  کاروباری سرگرمیوں  میں شرکت کی کافی پوٹینشنل موجود ہیں  مگر سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے وہ کاروبار جانب نہیں  آتیں  انہوں نے کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں  اور پوری دنیا میں  خواتین  اپنی  صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں ہماری خواتین  بھی اگے بڑھ کر معاشی  اور کاروباری سرگرمیوں میں  حصہ لیں اور اپنی خاندان، بچوں اور معاشرے کی سماجی ترقی میں  اپنا کردار ادا کریں۔ وومن چیمبر اف کامرس  ان کے لئے تربیت  کے ساتھ  ساتھ مختلف سکیموں میں  اسانی فراہم کر رہی ہیں خواتین آکر ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں، اس موقع  پر فرسٹ وومن بینک  مردان برانچ کی مینیجر سمیعہ نے کہا کہ فرسٹ وومن بینک نیخواتین کے لئے مختلف  قرضہ جات اور گرانٹس سکیمیں متعارف کرا رکھیں ہیں جو خواتین چھوٹی  قرضے اور کاروباری قرضے فراہم کررہی ہیں  سماجی اور کاروباری تنظیمیں اگے بڑھ کر خواتین کو ان سکیموں  سے آگاہ کریں اس موقع  پر اجالا سحر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر  جلوہ سحر نے کہا کہ ہمارا مقصد  خواتین  کو سیاس اور معاشی  طور پر مستحکم بنا کر معاشرے میں ان کا جائز مقام دلانا ہیتاکہ ظلم اور تشدد سے پاک معاشرہ وجود میں آسکیں جس کا واضح ثبوت پچھلی بلدیاتی انتخابات میں چار خواتین کا بلا مقابلہ منتخب  ہونا اور آج سولہ خواتین  کا کاروباری تربیت  اور ان کا وومن چیمبر  اف کامرس  اور فرسٹ وومن بینک  سے لنک کرانا ہیں، اس موقع  پر سولہ خواتین میں  سرٹیفیکیٹس تقسیم کی گئی۔