چارسد ہ،سوئی گیس کی ناروا لوڈشیدنگ اور کم پریشرسے عوام پریشان

چارسد ہ،سوئی گیس کی ناروا لوڈشیدنگ اور کم پریشرسے عوام پریشان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چارسدہ(بیورورپورٹ)سوئی گیس کی ناروا لوڈشیدنگ اور کم پریشر نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔خواتین کو اْمور خانہ داری ادا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔چارسدہ کے عوام کے ساتھ سوئی گیس کی مد میں سخت سردی میں ظلم اور ناروا سلوک کیا جارہاہے۔وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء  کی بلند وبانگ دعووؤں اور وعدوں کے باوجودپورے ضلع چارسدہ میں سوئی کا ابھی تک پتہ نہ چل سکا۔دوسری جانب چارسدہ کے سوئی گیس آفس زیرو پوائنٹ جیسا ماحول پیش کررہا ہے۔سوئی گیس آفس چارسدہ کے گیٹ پر ہر آنے والے شخص سے قومی شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے۔اور ایسی پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔جیسے انسان کسی حساس علاقے میں کسی حساس کام کیلئے جانا چاہتا ہوں۔سوئی گیس آفس کے گیٹ کیپرز سمیت آفس کا تمام کے تمام عملہ کے بدزبانی اور رویے سے بھی چارسدہ کے عوام اور خصوصاً خواتین ضعییف العمر افراد کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر چارسدہ کے سٹی ایریا کی بات کی جائے تو چارسدہ کے ایم سی ون ٹو تھری فور سمیت شہری علاقوں میں سوئی گیس کا نام ہی مٹ چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار چارسدہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سے حضرات وتاجر برداری نے  منعقدہ سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ہیں۔اس موقع پر سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے حاجی محمد فیاض خان،عاطف خان۔حاجی ریاض خان۔عاصم جان۔آیاز خان۔عمر خان۔میاں مفرق شاہ۔باچاجی سمیت دیگر نے کہا کہ گزشتہ دو مہینوں سے ضلع چارسدہ اور ملحقہ علاقہ جات میں سوئی گیس کی ناروا ظالمانہ اور غیر اعلانیہ لودشیڈنگ اور کم پریشر نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔صبح سے شام اور شام سے صبح تک سوئی گیس کا نام ونشان تک نہیں ہوتی۔وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء  کی بلند وبانگ دعووؤں اور وعدوں کے باوجودپورے ضلع چارسدہ میں سوئی کا ابھی تک پتہ نہ چل سکا۔دوسری جانب چارسدہ کے سوئی گیس آفس زیرو پوائنٹ جیسا ماحول پیش کررہا ہے۔سوئی گیس آفس چارسدہ کے گیٹ پر ہر آنے والے شخص سے قومی شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے۔اور ایسی پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔جیسے انسان کسی حساس علاقے میں کسی حساس کام کیلئے جانا چاہتا ہوں۔سوئی گیس آفس کے گیٹ کیپرز سمیت آفس کا تمام کے تمام عملہ کے بدزبانی اور رویے سے بھی چارسدہ کے عوام اور خصوصاً خواتین ضعییف العمر افراد کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر چارسدہ کے سٹی ایریا کی بات کی جائے تو چارسدہ کے ایم سی ون ٹو تھری فور سمیت شہری علاقوں میں سوئی گیس کا نام ہی مٹ چکا ہے۔انہی علاقوں کے عوام لاکھوں روپے کے سوئی گیس بلز دینے پر مجبور ہے۔ان لوگوں نے کہا کہ کچھ پہلے ضلع چارسدہ کے خوئیداد خیل۔شیرپایان،پْرانا بازار،باغ کورونہ پائندہ خیل اور ملحقہ عوام نے غلام حسین خان،حاجی حسن خان پر مشتمل علاقہ عوام کا جرگہ بناکر ایک بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔جس پر جی ایم رحمت اللہ خان نے اتوار ہی کے دن پشاور سے چارسدہ تشریف لاکر چارسدہ کے عوام کو مختلف وعدوں اور دعووؤں سے ٹرخایا تھا۔جس کی وجہ سے بھی انہی علاقوں میں سوئی گیس کی محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کے حوالے سے کافی سخت موقف اختیار ہورہا ہے۔کہ انہی افسران نے ایک بار پھر عوام کے ساتھ دھوکے پہ دھوکہ کیا ہے۔اسی ساری صورتحال پر ایم این اے عمران خان،سابق ایم پی ایز۔ایم این زیز صرف سوشل میڈیا کے استعمال اور تصاویر کی شئیرنگ تک محدود ہوگئی ہے۔جبکہ عوام کو عموماً عملاً کچھ فاء ئدہ نہیں ہورہا۔اور نہ ہی احتجاجوں کے ڈر سے یہ محکمہ اور اس کے اہلکار ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔دوسری جانب حکومتی نمائندہ،ضلعی انتظامیہ،ڈپٹی کمشنر،سوئی گیس انچارج سمیت عوامی نمائندوں نے بھی خاموشی نہ توڑنے کی قسم کھا رکھی ہے۔کہ سوئی گیس کے مسائل خصوصا ً لوڈشیڈنگ اور کم پریشر پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ فون پر بھی گفتگو سے پرہیز کیا جاتا ہے۔جس ہی کی وجہ سے عوام کے ساتھ ساتھ صحافی حضرات بھی حیران وپریشان ہے کہ عوام مسائل اور خصوصا ً سوئی گیس لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کس سے پوچھا جائے۔تاکہ عوامی مسائل کا خاتمہ ہوسکیں۔چارسدہ کے علاقوں سٹیشن کورونہ،میراخیل،کلاڈھیر،ایم سی فور،اسلام نمبر۱،اسلام آباد نمبر۲،سمیت نواحی علاقوں میں صرف سوئی گیس کی میٹر اور پائپ لائینز بچھا کر عوام سے لاکھوں روپے ناجائز طریقے سے وصول کئے جارہے ہیں۔چارسدہ کے بازار کے تاجروں،عوامی حلقوں سمیت طلباء  طالبات خواتین نے بھی ایم این اے سابق وزیراعظم عمران خان،چارسدہ کے ڈپٹی کمشنر،سوئی گیس جی ایم پشاور سے ضلع چارسدہ میں سوئی گیس کی غیر اعلانیہ،ناروا اور بدترین لوڈشیڈنگ اور لوپریشر کا فوری نوٹس لینے اور سوئی گیس آفس چارسدہ کے عملہ کی اخلاقی تربیت فوراً کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔