ذمہ داری تو سب کی ہے!

ذمہ داری تو سب کی ہے!
ذمہ داری تو سب کی ہے!

  

ابھی ہزارہ قبیلے کے افراد کو اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ کوئٹہ سبزی منڈی میں ایک دلخراش واقعہ بپا ہوتا ہے اور پھر وہی آہیں، سسکیاں اور غم.... یہ واقعات بہر کیف اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے دشمن ایک نہیں بہت سے ہیں۔ اس کے دشمن وہ بھی ہیں جو خطے میں انتشار بپا کر کے پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔ وہ ہر ایسا کام کرتے ہیں، جس سے پاکستان کی سُبکی ہو اور اس کے وقار کی دھجیاں اُڑیں۔ پاکستان کے دشمن وہ ہیں، جنہوں نے اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں کبھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ انہوں نے اس کے اندر رہتے ہوئے اپنے گھناو¿نے ایجنڈے کی تکمیل جاری رکھی۔ ان کا ایجنڈا ابھی ختم نہیں ہوا، وہ خدانخواستہ اس مملکت کو اس سے بھی بڑا زخم لگانے کے لئے بے تاب ہیں۔ پاکستان کے دشمن وہ بھی ہیں، جنہوں نے یہاں مذہب کے نام پر سیاست اور فرقہ واریت کو ہوا دی اور مذہب میں تشدد کو فروغ دیا۔ اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو پاکستان دشمنوں کے آلہ کار بن کر اپنی ہی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں؟

یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ کا سامنا ہے اور اب یہاں بم دھماکے اور خودکش حملے کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی۔ اس کے اثرات جہاں پورے ملک پر پڑے ہیں، وہاں کراچی اور کوئٹہ جیسے شہر اس کی لپیٹ میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ خراب حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں کراچی میں بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ مافیا پوری طرح سے آزادانہ کارروائیاں کر رہا ہے، شہر میں لگے خفیہ کیمرے اس امر کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کس طرح سے موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرز مذہبی رہنماو¿ں اور دیگر شہریوں کو تسلی سے ٹارگٹ کر کے نکل جاتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ کوئٹہ میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے شدت پکڑی اور اس حد تک بڑھی کر حکومت کو گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ کوئٹہ شہر کے حالات بالعموم خراب ہوتے تو ان کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شاخسانہ قرار دیا جاسکتا تھا، لیکن یہاں تو صرف ایک ایسے فرقے اور قبیلے کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو پُرامن اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ سچے مسلمان ہیں۔ ایسا یقیناً اس لئے کیا جا رہا ہے تا کہ یہ پُرامن لوگ بھی اپنے ہاتھوں میں اسلحہ تھام کر گلیوں، محلوں میں نکل کھڑے ہوں اور پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے

 ایسے ایسے واقعات کے بعد اس وقت اور بھی دل دُکھتا ہے، جب پاکستان کے اندر ہی کی بعض تنظیمیں اس کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں۔ دل دہل جاتا ہے کہ کیسے ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر اس طرح سے وار کر سکتا ہے؟ ایسا مذہب کہ جس میں غیبت کرنے کو کسی بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہو، اس مذہب کے ماننے والے کیونکر اس قسم کے گھناو¿نے اقدامات کریں گے؟....

کوئٹہ میں جو حالیہ واقعہ ہوا ہے اس کے حوالے سے بھی مختلف طبقات ساری ذمہ داری خفیہ اداروں پر ڈال کر خود بَری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔ یقیناً خفیہ اداروں کا رول بہت اہم ہے اور انہوں نے اس حوالے سے بہترین خدمات انجام بھی دی ہیں جو تاحال جاری ہیں۔ دہشت گردی کی جو بہت ساری کوششیں وہ ناکام بناتے ہیں، ظاہر ہے ان کا عوام کو معلوم نہیں ہوتا، لیکن جب بعض عناصر کوئی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سارا نزلہ ان پر گرتا ہے۔

 یہ ٹھیک ہے کہ ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ جہاں جہاں سے بارود بھری گاڑیاں گزرتی ہیں، ان ان علاقوں کے تھانوں اور چیک پوسٹوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں میں سے کسی کی نظر تو ایسی گاڑیاں پر پڑنی چاہئے۔ فرائض میں کوتاہی کہیں تو ہے، وہ بارود سے بھری گاڑی آسمان سے بھر کر تو نہیں لائی گئی ہوتیں۔ وہ کسی محلے یا گلی میں واقع کسی گھر یا احاطے میں بارود سے لادی گئی ہوتی ہےں۔ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ مشکوک افراد کو دیکھیں تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے موقعوں پر کہیں نہ کہیں پر کسی نہ کسی تو آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ یہ دلخراش واقعہ اپنی جگہ درد ناک ہیں، لیکن ایک کوتاہی قومی سطح پر بھی تو پائی جاتی ہیں کہ اینٹی ٹیرر ایکٹ کی ابھی تکLegislation ہی مکمل نہیں ہوسکی۔ خود اعلیٰ ترین عدالت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کا اتنی بڑی تعداد میں چھوٹ جانا قابلِ تشویش ہے۔ ملک میں صرف پراسیکیوشن کا نظام بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہی نہیں، یہاں تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ان واقعات کا سدِ باب اور اس کا مو¿ثر حل تمام ادارے، فرقے اور مختلف طبقات کے لوگ مل بیٹھ ہی تلاش کر سکتے ہیں۔      ٭

مزید :

کالم -