کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے!

کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے!
کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے!

  

 

مشہور مقولہ ہے کہ ”یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے“.... یہی بات کسی بھی کام کے سلسلے میں کہی جاسکتی ہے کہ ”یہ نہ دیکھو کس نے کیاکام کیا ہے، بلکہ دیکھو کہ کام کیسا کیا ہے“.... لیکن بھائی یہ سیاست کا میدان ہے ۔ یہاں کام کیسا ہی اچھا کیوں نہ ہو ، مخالف فریق نے اس میں کیڑے نکال دکھانے ہیں ۔ یہی معاملہ ”لاہور میٹرو بس سروس“ کا ہے، جس کو پرویز الٰہی جنگلہ بس سروس کہہ رہے ہیں ۔ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ کام وقت کی ضرورت تھا، بلکہ جو صاحبان تنقید کررہے ہیں ،ان ہی کے دور میں اس قسم کے کاموں کا آغازہونا چاہئے تھا۔ انتہائی کم ریکارڈ وقت میں اتنا بڑا منصوبہ عمل میں آنا بلاشبہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔پنجاب حکومت کی کارکردگی دوسری صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت سے نہ صرف بہتر رہی ہے، بلکہ ذاتی لحاظ سے بھی شہباز شریف اپنے کام سے مخلص نظر آئے، خصوصاً بیرون ممالک کے دوروں میں انہوں نے خزانے پر بوجھ نہیں ڈالا او زیادہ تر ذاتی خرچ سے ہی کام چلایا، جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نہ تو ملک کے ساتھ ،نہ عوام کے اور نہ ہی نام نہاد ”جمہوریت“ کے ساتھ مخلص نظر آئی ۔

صرف ایک مثال.... سابق وزیر اعظم گیلانی آخری دنوں میں جب لندن کے دورے پر گئے تو لمبا چوڑا وفد ساتھ لے گئے اور بے مقصد دورے پر ملکی خزانے سے کروڑوں خرچ کر ڈالے، یہی کام موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے بھی پنجابی محاورے کے مطابق خوب”لا ءکڈھیا“ ہے کہ اقتدار کی جاتی بہار میں خاندانی دورے کو سرکاری دورے کا درجہ قرار دے کر عوام کے خون پسینے کی کمائی کے ٹیکسوں سے اکٹھے خزانے سے ”مال مفت دل بے رحم“ کے مصداق لمبا چوڑا کروڑوں کا بے مقصد خرچ کر ڈالا ہے، جس کی تفصیل سبھی قوی اخبارات میں آئی ہے ۔انہی وجوہ کی بناءپر شاید پی پی پی کی ڈوبتی کشتی سے گھاگ شکاریوں نے چھلانگیں لگانا شروع کردی ہیں اور ان کا رخ اوررجحان مسلم لیگ (ن) ہی کی جانب نظر آرہا ہے۔تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں ہوگا،لیکن امکان یہی ہے کہ ” اس بار“ مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے میں کامیاب رہے گی۔ ”اس بار“ پر زور اس لئے ہے کہ دھڑا دھڑشمولیت اختیارکرنے والے نئے پرانے لوٹوں کی مدد سے مسلم لیگ (ن) اگر حکومت بنانے میں کامیاب ہو بھی گئی تو ایسے ”منافقین“ کی موجودگی میں کارکردگی کے لحاظ سے وہ بھی کم و بیش ایسے ہی نتائج دے گی، جیسے موجودہ حکومت نے دیئے ہیں ، اسی لئے لفظ”اس بار“ استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ ”اگلی بار“ تحریک انصاف کی ہو یا کسی اور کی بہرحال مسلم لیگ (ن) کی نہیں ہوگی ۔ بقول خالد مسعود خان:

پہلے اودھروں، فیر ایدھروں اب فیر کھڑا ہے اودھروں              پبلک تنگ ہے لیکن لوٹا لوٹا ای ہوتا ہے

 دس پندرہ سال پرانا یہ گلابی شعر آج بھی ترو تازہ ہے ۔قوم کی بدقسمتی کہ پہلے کی طرح آج بھی صورت حال ایسی ہی ہے ۔ نظریاتی اور اصولی سیاست تقریروں اور نعروں کی حد تک ہی ہے۔ ہمارے لیڈر اگر چاہیں تو ان لوگوں یا لوٹوں کو گھاس نہ ڈال کر قوم کی گردن سے لپٹی ان جونکوں سے جان چھڑا سکتے ہیں، خصوصاً میاں نواز شریف تو کئی بار ان لوٹوں کے ڈسے ہوئے ہیں، مگر نہ جانے کیوں پھر سے ان کی ہمنوائی کا ایک اور تجربہ کرنا چاہ رہے ہیں ۔ ان لوگوں سے ان کو امید ہے کہ وہ وفا کریں گے، لیکن عوام پر اعتماد نہیں ہے، گویا وہی بات:

 بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی

مجھے بتا توسہی اور کافری کیا ہے

بہرحال تنقید والا کام ہو تو تنقید اور تعریف والا کام ہو تو تعریف ۔ کالم کا آغاز میٹرو بس سروس کے حوالے سے ہواتھا۔ شہباز شریف کے حامی اس کو بہت بڑا کارنامہ کہہ رہے ہیں، جبکہ محالفین کہہ رہے ہیں کہ اربوں روپے لگا کر اربوں ضائع بھی کئے گئے ہیں ۔ ہمارا مخالفین سے کہنا یہ ہے کہ پانچ سال میں آپ نے پورے کا پورا ضائع کیا ہے یا اپنی جیب میں ڈالا ہے ۔ ہمیں ہر ادارہ تباہ حال ہی نظر آیا ہے ۔شہباز شریف بقول آپ کے کم از کم آدھا تو لگاتا ہے، یعنی اس حساب سے بھی آپ سے اچھا ہے ۔ خالد مسعود خان ہی کا ایک گلابی شعر ہے جس کے پہلے مصرعے میں ایک بیٹا باپ سے شکایت کرتا ہے کہ دوسرا بھائی منڈیر پر بیٹھ کر لڑکیوں کو چھیڑتا ہے تو باپ جواب میں کہتا ہے کہ ” تم سے پھر بھی اچھا ہے، کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے“۔

  ہم بھی بات دہرائے دیتے ہیں کہ بھلے لوگو، عوام کی بھلائی کے لئے تم نے ایک پیسے کا کام نہیں کیا۔ شہباز شریف تم سے پھر بھی اچھا ہے کہ ” کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے“۔

کاش ! دونوں شریف بھائی لوٹوں کے ساتھ تصویریں اتروانا بند کریں، لوٹوںکی جان چھوڑیں یا لوٹے ان کی جان چھوڑیں، مگر لگتا یہی ہے کہ وہ صبح ابھی دور ہے، جب لوٹوں کے کالے چہروں اور کرتوتوںسے قوم کی جان چھوٹے گی ۔بہرحال امید پر دنیا قائم ہے ، قارئین سے بھی اس سلسلے میں دعا کی اپیل ہے۔ ٭

مزید :

کالم -