اکلوتی شہریت کے ساتھ جینے کی خواہش

اکلوتی شہریت کے ساتھ جینے کی خواہش
اکلوتی شہریت کے ساتھ جینے کی خواہش

  

”میرا گھر، میری جنت“.... سفر یا بدیس میں جب اجنبیت اور مسائل انسان کو گرفت میں لیتے ہیں تو یہ محاورہ بے اختیار یاد آ جاتا ہے۔ علاقائی زبانوں میں بھی اس محاورے کی کئی شکلیں عام ہیں، جو سکون اپنی چھجو کے چوبارے میں ہے، وہ بھلا بلخ اور بخارے میں کہاں.... پنجابی کے اس محاورے کو سنتے سنتے ہم جوان ہوئے، تمام تر تلاش اور خواہش کے باوجود چھجو کا چوبارہ تو نصیب نہ ہوا، البتہ اس محاورے کی روح سے بھرپور حظ اٹھایا۔ اپنا گھر، گاﺅں، شہر، ملک، سب کی اپنائیت نے مشامِ جاں کو ہمیشہ ترو تازہ کئے رکھا۔ قریہ قریہ، ملک ملک گھومنے کے بعد ایئر پورٹ پر پہلا قدم رکھتے ہی ماں کی آغوش میں واپس آنے کا انمول احساس....” میرا گھر میری جنت“۔

”میرا گھر اور میری جنت“ سالہا سال سے حادثات کے تھپیڑوں میں بے حال ہے۔ احباب سے گفتگو کے دوران اور اخبارات سے علم ہوتا ہے کہ جنہیں باہر جانے اور رہائش اختیار کرنے کے مواقع ملتے ہیں، وہ پہلی فرصت میں یہی کام کر رہے ہیں، دید اور شنید بھی یہی ہے کہ کراچی میں مسلسل بدامنی، بھتہ خوری اور خوف کی وجہ سے بے تحاشا سرمایہ کار بیرون ملک کا رُخ کر رہے ہیں۔ ان ہی خبروں میں ایک خبر یہ بھی تھی کہ پاکستان کے حالات سے گھبرا کر بنگلہ دیش جانے والے صنعت کاروں کو چند ہی سال میں اپنے فیصلے پر پچھتانا پڑ رہا ہے۔ لسانی اور علاقائی تعصب، میزبان مسلمان ملک ہونے کے باوجود وہاں سوہانِ روح بن گیا ہے۔ آئے روز ہڑتالوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے متعصب رویے اور بنکوں کی جانب سے بھی ایسے ہی سلوک نے انہیں خاصا دلبرداشتہ کر دیا ہے۔ کوریا اور چین وغیرہ سے آئے ہوئے سرمایہ کاروں کی تو خوب آﺅ بھگت ہے، لیکن پاکستانی سرمایہ کاروں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد.... کرپشن کا بازار وہاں بھی خوب گرم ہے۔

ایک جریدے نے خاصے تردد کے بعد ایک رپورٹ مرتب کر کے شائع کی ہے کہ ان سرمایہ کاروں میں سے بیشتر اب پریشان ہیں کہ جائیں تو کدھر جائیں۔ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری جیسے خوش نصیب بہت کم ہیں، جنہیں کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں دہری شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ بھلی چنگی قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ چھاڑ، اپنے تعلیمی اداروں کا انتظام اپنے رفقاءکے ذمے لگا کر کینیڈا کے مکین ہو گئے۔ سوالوں کے ہر نشتر کے بعد یہی نکتہ سمجھایا کہ کینیڈا کے پاسپورٹ کی موجودگی میں سفر کی سہولت بہت ہے۔ 90ملک ہیں، جن میں جال بچھا ہے، سو وطن سے محبت اپنی جگہ، فرض کی صدا اپنی جگہ۔ ایک ڈاکٹر طاہر القادری کیا درجنوں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بھی بالآخر بے نقاب ہوئے، جنہوں نے وفاداریوں کی افراط کا حل دہری شہریت میں ڈھونڈ رکھا تھا.... کچھ وفاداریاں یہاں، کچھ وہاں.... پڑھے لکھے افراد اور پیشہ ورانہ احباب میں بھی ایک خاص بڑی تعداد ہے، جو ”میری جنت“ سے گریز ہونے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے لاکھوں روپے اور کئی کئی پاپڑ بیلنے میں ہلکان ہو رہے ہیں، لیکن 18 کروڑ کی آبادی میں سے بیشتر تمام مصائب ، بے اطمینانی اور مایوسی کے باوجود اِسی گھر میں چھپی جنت تلاش کرنے کی متمنی ہیں۔

18کروڑ کی آبادی کا تخمینہ بھی1998ءکی مردم شماری کی بنیاد پر ہے، بڑے زور شور سے مردم شماری کے نئے سائنسی تخمینے کا جو ڈول دو اڑھائی سال قبل ڈالا گیا، اس کے نتیجے میں آبادی کا شمار19کروڑ سے زائد نکلا، شہروں کی آبادیوں اور علاقوں میں آبادیوں کے بنیادی تناسب میں اس بڑے اتھل پتھل سے سیاسی نظام میں اتھل پتھل کا خطرہ سامنے آ گیا۔ انتخابات کے لئے حلقوں کی تقسیم، حد بندیاں، علاقوں اور شہروں کی آبادی کی بنیاد پر معاشی محاصل کی ازسر نو تقسیم کا جھنجھٹ، پنڈورا باکس کھلتے دیکھ کر حکومت نے اپنی روائتی صلاحیت، یعنی چپ سادھنے کا فیصلہ کیا،یوں آبادی کا تخمینہ 18کروڑ پر ہی اٹکا رہا، ورنہ اب تک20کروڑ کا ڈنکا بج چکا ہوتا۔ سپریم کورٹ کی خواہش اور الیکشن کمیشن کی نیم دلانہ کوشش کے باوجود اب تک کراچی کی حد بندیوں اور ووٹرز لسٹوں کا قضیہ حل نہیں ہو سکا۔ آبادی کے اصل اعدادو شمار سے کھلنے والا پنڈورا باکس شاید پورے سسٹم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا، سو عافیت اسی میں سمجھی گئی کہ لشٹم پشٹم جو جیسے چل رہا ہے ،اسے یونہی چلنے دیا جائے۔

وقت اگر کسی صوبائی یا مرکزی حکومت کا اہلکار ہوتا تو شاید ”یونہی چلنے“ کی خواہش بھی پوری ہو جاتی، لیکن وقت قدرت کے نظام کا آزاد پہیہ ہے، اس کا بنیادی امتیاز یہی ہے کہ وقت بدلتا رہتا ہے، پہیہ چلتا رہتا ہے۔ عروج و زوال کبھی اس کے ماتھے پر اور کبھی اس کے پاﺅں کی دھول ہوتا ہے۔ ہر پل دھیان میں رہنے والوں کو افسانہ بنتے دیر ہی نہیں لگتی۔ پاکستان اور اس کے پاس خطے میں سیاسی اور عسکری حالات بھی وقت کی رو میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی اب خطے سے انخلا چاہتے ہیں۔ انخلا بھی ایسا کہ پیچھے اپنی ایک مضبوط موجودگی بھی چھوڑیں اور ایک ایسا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ بھی تشکیل دے جائیں، جس کے پردے میں سے ان کے اشاروں کنایوں سے سامنے کا منظر ترتیب پائے۔ 2014ءکی آمد ہے۔ حامد کرزئی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ پاکستان میں ”جمہوریت کا پانچ سالہ“ دورانیہ مکمل ہونے کو ہے۔ حکومت اور اتحادوں سے استفادہ کرنے والے کسی ایسے انتظام کی کوشش میں ہیں کہ زندگی اقتدار کی غلام گردشوں میں ہی بسر ہو۔ حکومت سے باہر تمام جماعتوں نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے کہ اقتدار کی الفت گاہ میں شہید ہوئے بغیر اُن کی زندگی ناکام ہے۔

اس ملکی اور علاقائی منظر نامے میں جو پیش منظر ہے، وہ ہر گزرتے دن خوفناک اور خون آلود ہو رہا ہے۔ کراچی میں بھتہ خوری اور امن و امان کی بدتر ہوتی صورت حال نے اب کئی نئی جہتیں دریافت کر لی ہیں۔ مذہبی، لسانی، علاقائی، اپنی، پرائی، کئی نئی بنیادیں ہیں، جنہوں نے شہر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ لوکل گورنمنٹ آر ڈی نینس کا دھندا ہے، جو ایم کیو ایم اور پی پی پی کو گندا کر رہا ہے۔ انتہا پسندی کا عفریت ہر روز اپنا خراج طلب کرنے پر بضد ہے۔ گورنر عشرت العباد ایک بار پھر استعفے کی رسم نبھانے پر آمادہ ہیں۔

گلگت اور بلوچستان میں زیارتوں کے لئے جانے والی بسوں سے مسافروں کی شناخت سے شروع ہونے والا خونی کھیل اب کوئٹہ میں خیمہ زن ہے۔ احتجاج نے انصاف اور داد رسی نہ پا کر حکومت سے معافی اور گورنر راج سے تلافی چاہی، لیکن گورنر راج میں بھی دہشت کا راج رہا۔91سے زائد جانیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ ذمہ داروں کے تعین میں انگلیاں انٹیلی جنس اداروں سے ہوتی ہوئی ایک کالعدم تنظیم پر آ کر رکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جاری کشت وخون اپنی جگہ جاری ہے۔ سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی شہادت کے بعد ایک عدد اے پی سی سے کفارہ ادا کیا گیا، اب مذاکرات کے ذریعے سجدہ¿ سہو کی کوشش ہو رہی ہے۔ الزامات جس قدر زیادہ ہو رہے ہیں، تیروں کی بوچھاڑ بھی بڑھ رہی ہے۔ سیاست دانوں، انتہا پسندوں، حکومتوں اور میڈیا کے تیر اپنی اپنی زد میں آئے کچھار میں چلائے جا رہے ہیں۔ آئی ایس آئی نے اس بوچھاڑ میں سے اپنے حصے میں آنے والے الزامات کا دفاع یوں کیا ہے کہ انہیں سسٹم سے کوئی پرخاش ہے، نہ کسی تنظیم سے واسطہ۔ سپریم کورٹ برس رہی ہے کہ وزیراعظم اور گورنرجواب دیں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہمیں اقدامات کا ٹھیک سے اندازہ نہیں، لیکن سندھ یونیورسٹی کو ضرور اندازہ ہے، جنہوں نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو اُن کی خدمات پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی خدمات کے اعتراف میں ایک رئیل اسٹیٹ شہزادے نے انہیں لاہور میں بلاول ہاﺅس کا تحفہ دے کر پنجاب سے اپنی خدمت کا حساب چکتا کر دیا ہے۔ عمران خان مصر ہیں کہ ایک ذرا سی دیر ہے ،آتے ہی وہ90روز میں کرپشن سمیت ہر مسئلے کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیں گے۔

سنجیدگی کے اس جھمیلے میں ڈاکٹر عبدالحفیظ نگران حکومت کے امیدوار کا مذاق کرنے اپنی نشست سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین جاتے جاتے گیس کا مذاق ہی مذاق میں ملبہ عوام پر ڈالنے پر آمادہ ہیں، بلکہ اُن کی حکم عدولی کی سزا میں اوگرا کو بھی ٹھکانے لگانے پر بضد ہیں۔ چودھری نثار علی نگران وزارت عظمیٰ کی مشاورت کے لئے کہانیوں کی بڑھیا کی طرح سیخ پا ہو رہے ہیں، جس نے گاﺅں والوں کو سبق سکھانے کے لئے مرغ بغل میں داب کر اپنی راہ لے لی تھی.... غالب کو کبھی تو داد دینے کو جی چا ہتا ہے، کبھی کوسنے کو....”مشکلیں اتنی پڑیں مُجھ پرکہ آساں ہو گئیں“.... ڈیڑھ سو سال بعد بھی ان کا یہ مصرعہ حلق میں اٹکا ہوا ہے۔ 18کروڑ ہیں یا 20کروڑ، عام پاکستانی حصہ بقدر جثہ نہیں مانگتے۔ عام پاکستانی صرف جینا چاہتا ہے، عزت سے، وقار سے، انہیں اپنی اکلوتی شہرت عزیز ہے، لیکن اس نقار خانے میں طوطی کی سننے والا کون ہے؟ ہر ایک نے انگلی دوسرے پر اُٹھا رکھی ہے، مر کر چین پانے کا رسک لینے کی بجائے عام پاکستانی اپنی دھرتی پر جی کر چین پانا چاہتا ہے.... امید پر دُنیا قائم ہے!!!    ٭

مزید :

کالم -