شیخ الاسلام کے سوالوں کے جواب اور صرف ایک سوال

شیخ الاسلام کے سوالوں کے جواب اور صرف ایک سوال
شیخ الاسلام کے سوالوں کے جواب اور صرف ایک سوال

  

  شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری جن مقاصد کے لئے پاکستان تشریف لے گئے، وہ تو بالآخر ان کی زبان پر آ ہی گئے۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ کسی جماعت کو اقتدار میں آنے سے اگر روک سکیں تو روکیں، لیکن اس کے لئے دستور میں واضح ہدایات موجود ہیں، وہ چاہیں تو اپنے سابق مربی پرویز مشرف اور ان کے حلقہ مریدین ہی کو اہل صفا قرار دے دیں، لیکن سپریم کورٹ میں انہوں نے جو مداری پن دکھانے کی کوشش کی، اس پر کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان کے جواب تلاش کئے جائیں تو شاید اس سے بہت سوں کا بھلا ہو اور شیخ الاسلام کے اندھے عقیدت مندوں کو بھی کچھ اندازہ ہو کہ ان کے شیخ الاسلام میں بس شیخی ہی شیخی ہے یا کچھ اسلام بھی ہے؟

  شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری جو آئین شناسی اور قانون دانی کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے، سپریم کورٹ میں گئے تو ساری ترکی بھول گئے۔ انہوں نے اپنی جیب سے چیف جسٹس کی تصویر نکالی اور سوال کیا کہ کیا انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ شعبدے بازی کے جوہر دکھانے کا تمام سامان ساتھ لے کر گئے تھے۔ یہ تصویر اتفاقاً تو ان کی جیب سے نکل نہیں آئی ہوگی۔ معزز جج صاحبان کے نام و مرتبے سے یہ بات فرد تر تھی کہ وہ ایک شعبدے باز سے مناظرے یا مباحثے میں الجھ جاتے۔ لیکن شیخ الاسلام نے بزعم خویش چیف جسٹس کو پی سی او کا حلف اٹھانے کا طعنہ دے کر زچ کرنے کی کوشش کی۔ اب شیخ الاسلام کو اسلام سے اگر واقعی کوئی سروکار ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ غلطی کی اصلاح کر لینے والے کا کیا مقام ہے اور غلطی پر اصرار کرنے والے کا کیا مقام ہے؟.... چیف جسٹس سے ماضی میں ایک” غلطی“ سرزد ہوئی، انہوں نے اس کی اصلاح کرلی اور نہ صرف اپنی اصلاح کی، بلکہ انہوں نے ہمیشہ کے لئے ایسی غلطی کے ارتکاب یا امکان کے راستے ہی بند کر دیئے اور آج وہ اسی لئے ایک بلند اور محترم مقام پر فائز ہیں۔ یہ مقام عدلیہ کی سربراہی نہیں، عوام کے دلوں میں ہے۔

دوسری طرف شیخ الاسلام ملکہ برطانیہ اور کینیڈا کے آئین سے حلف وفاداری کو برقرار رکھنے پر مصر ہیں۔ جب کوئی کافر کلمہ شہادت پڑھ لیتا ہے تو اس کے بعد اس کے ماضی کے کفر کا طعنہ اسے دیا جا سکتا ہے؟اپنے عمل سے اپنی توبہ کو ثابت کرنے والے پر طعنہ زنی کیا اسلام میں جائز ہے؟ جناب شیخ الاسلام نے کیلی فورنیا کے سابق گورنر آرنلڈ شوازنگر کا حوالہ دیا ہے کہ وہ امریکہ میں گورنر بن گیا۔شوازنگر پیدائشی طور پر آسٹروی شہری تھا۔ جب اس نے امریکی شہریت حاصل کرلی تو امریکہ میں گورنر کے مقام پر پہنچ گیا.... اس نے واپس آسٹریا جا کر وہاں گورنر بننے کی کوشش تو نہیں کی؟ امریکی شہریت کا حلف اٹھانے کے عمل سے از خود اس کی آسٹروی شہریت ختم ہو گئی، اس لئے امریکہ میں اس کے گورنر بننے پر کوئی پابندی نہیں ہو سکتی، لیکن پھر بھی چونکہ وہ پیدائشی امریکی نہیں ہے، اس لئے وہ امریکی صدر نہیں بن سکتا، نہ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ تیسرے درجے کا شہری ہے کہ اس کے صدر بننے پر پابندی ہے۔ 2005ءمیں سزائے موت کے ایک قیدی کو معافی نہ دینے پر اس کے آبائی قصبے گریز نے اپنے ہونہار سپوتوں کے صفحے سے اس کا نام مٹا ڈالا اور اس نے 1999ءمیں اپنے قصبے کی طرف سے ملنے والا اعزاز واپس کردیا اور کہا کہ اب اس کا اپنے قصبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دہری شہریت ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کے لئے ہر ملک کا الگ الگ قانون اور طریقہ ہے۔ عام طور پر یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جب کوئی شخص کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی سابق شہریت سے دست بردار ہو جاتا ہے ۔امریکی چیف جسٹس جان رٹلیج نے رولنگ دی تھی : ”ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دو حکومتوں (نجانے انہوں نے حکومتیں کیوں کہا) کا شہری ہو سکتا ہو، لیکن امریکہ شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام سابق وفاداریوں سے دست بردار ہو کر امریکی آئین سے وفاداری کا حلف لے“....لیکن برطانیہ میں اس کے لئے اسے باقاعدہ درخواست دینا ہو گی کہ وہ برطانوی شہریت سے دست بردار ہو رہا ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو خود بخود امریکی شہریت مل جاتی تھی، لیکن اب اس کے لئے کچھ پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ آسٹریا اور جرمنی کے شہری دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرلیں تو وہ اپنے ملک کی شہریت سے محروم ہو جاتے ہیں، لیکن وہ خصوصی درخواست یا اپیل کے ذریعے اپنی شہریت برقرار رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کا اطلاق ہر ایک پر نہیں ہوتا۔ سپین اپنے شہریوں کو لاطینی امریکہ کے بعض ممالک کی شہریت اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ان مخصوص ملکوں کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرلی جائے تو سپین کی شہریت خود بخود کالعدم ہو جاتی ہے۔ سعودی عرب کا شہری بھی اگر پیشگی اجازت نامہ حاصل نہ کر ے تو دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے پر سعودی شہریت سے محروم ہو جاتا ہے۔ بھارت دہری شہریت کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ سوائے پیدائش پر کسی بچے کو کسی دوسرے ملک کی شہریت اگر خود بخود مل جائے تو الگ بات ہے، لیکن ایسا بچہ بھی بھارتی پاسپورٹ کے ساتھ کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ نہیں رکھ سکتا۔

پاکستانی آئین میں اس سلسلے میں ایسی وضاحت نہیں ہے، جیسی بھارت کے آئین میں ہے، لیکن امریکی چیف جسٹس کے مطابق امریکی شہریت کا حلف لینے والا اپنی تمام سابق وفاداریوں سے دست برداری کا حلف اٹھاتا ہے۔بھارت نے اپنے شہریوں کے طویل عرصے تک بیرون ملک قیام کی وجہ سے بھی بعض پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، خواہ انہوں نے دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہ کی ہو۔ پاکستانی شہری جب کسی دوسرے ملک سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے اور اپنی سابق وفاداریوں سے دست برداری کا اقرار کرتا ہے تو اصلاً تو وہ پاکستانی شہریت سے محروم ہو جاتا ہے، لیکن پاکستان ایک رعایت کے طور پر اسے بعض مراعات دیتا ہے۔ جن میں پاکستان میں داخلے کے لئے ویزے سے استثنا ،(بعض شرائط کے ساتھ) کاروبار، بینک اکاﺅنٹ وغیرہ کھولنے کی اجازت اور مدت قیام کی تجدید سے استثنا وغیرہ۔ میرے ایک استاد فرمایا کرتے تھے کہ لوگ رعایت کو حق اور پھر قانون بنا لیتے ہیں۔ گویا اب عوامی نمائندگی میں بھی دہری شہریت کو روا سمجھنے والے رعایت کو قانون بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور شوکت عزیزوں اور معین قریشیوں کے لئے راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ ہمارا آئین یہ راستے کھلے رکھنے میں حائل ہے اور سپریم کورٹ آئین پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے۔

شیخ الاسلام سپریم کورٹ کے فیصلے سے اس قدر بے مزہ ہوئے کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کو کثیر زرمبادلہ بھیجنے والوں کو تیسرے درجے کا شہری قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دہری شہریت کے حوالے سے دیئے گئے تاثر سے بھی زیادہ گمراہ کن تاثر ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی کثیر تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہے اور یہی لوگ سب سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں شہریت دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں جو پاکستانی رہتے ہیں، سال ہا سال رہنے کے باوجود وہ بدستور پاکستانی ہیں۔ انہیں پاکستان کے تمام شہری حقوق حاصل ہیں۔ بھارت کے برعکس یہ پاکستانی تین سال سے یا تیس سال سے بھی زیادہ عرصہ باہر رہنے کے باوجود ووٹ کے حق سے محروم ہوتے ہیں نہ عوامی نمائندگی کے حق سے نہ کسی اور حق سے، کیونکہ نہ انہوں نے کوئی دوسری شہریت حاصل کی، نہ ان کی پاکستانی شہریت اس بناءپر متاثر ہوئی ۔ امریکہ اور یورپ وغیرہ میں رہنے والے پاکستانی جیسے تیسے ان ممالک میں وارد ہوتے ہیں۔ بعض قانونی طور پر آ کر قیام کو طول دے کر غیر قانونی ہو جاتے ہیں۔ بعض آتے ہی غیر قانونی طریقے سے ہیں۔ بعض وہیں سے شہریت حاصل کرکے آتے ہیں جیسے لاٹری پر آنے والے یا شہریت پا لینے والوں کے بیوی بچے۔

 جب تک امریکہ اور یورپی ممالک میں رہنے والے پاکستانی قانونی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے، ان کے لئے کاروبار، بینک اکاﺅنٹ وغیرہ ایک مشکل امر ہوتا ہے۔ انہیں یہ خوف بھی لاحق رہتا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت ڈی پورٹ کر دیا جا ئے گا۔ اس صورت میں اگر انہوں نے یہاں کسی طور بینک اکاﺅنٹ کھول کر اس میں یا کسی اور صورت میں پیسہ ر کھا ہو گا تو وہ پیسہ یہیں رہ جائے گا۔ اس ڈر سے وہ یہاں صرف اپنے گزارے کے لئے پیسہ رکھتے ہیں،باقی پاکستان بھجوا دیتے ہیں۔ اس طرح گویا وہ اپنے پیسے کو پاکستان میں محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ قانونی حیثیت کے حامل نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے اکثر کے بیوی بچے بھی پاکستان میں ہوتے ہیں۔ جنہیں خرچہ بھجوانا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب یہ لوگ لیگل ہو جاتے ہیں تو یہاں بینک اکاﺅنٹ کھول لیتے ہیں۔ انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب انہیں ڈی پورٹ ہونے کا خطرہ نہیں رہا تو وہ اپنا پیسہ یہیں رکھنے لگتے ہیں اور بال بچوںکو بغرض ضرورت بھجواتے ہیں۔ جب شہریت حاصل کر لیتے ہیں اور ان کے بال بچے آ جاتے ہیں تو یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ اب انہیں یہاں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، گویا جب وہ شہریت بدلتے ہیں تو ان کے پیسہ بھیجنے کی صورت حال بھی بدل جاتی ہے۔ وہ پاکستان پیسہ بھجواتے ہیں تو پاکستان کی محبت سے مجبور ہو کر نہیں بھجواتے، اپنے حالات کی وجہ سے بھجواتے ہیں۔ جب حالات بدل جاتے ہیں تو زرمبادلہ کی یہ ترسیل رک جاتی ہے۔ یوں بھی ان کو اپنی کمائی سے کچھ حصہ دینا سعادت مندی ہے۔ اس کا احسان جتانا یا صلہ طلب کرنا اس سعادت مندی سے محرومی اور ناخلف ہونے کی علامت ہے۔

شیخ الاسلام نے پی سی او کے حلف اور ملکہ برطانیہ سے وفاداری کے حلف کو برابر قرار دینے کی کوشش کی ہے، شکر ہے انہوں نے اپنے حلیف اور حامی الطاف حسین کی دلیل کا سہارا نہیں لیا، لیکن شیخ الاسلام کو عاشق رسولہونے کا دعویٰ ہے۔ ان کے ایسے دعاوی سن کر ان کے اندھے عقیدت مندوں کو ایک وڈیو میں ان کے قدموں میں سر رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے، لیکن کیا ستم ہے کہ شیخ الاسلام نے اس کے لئے برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، جس نے ایک مسلمہ گستاخ رسول سلمان رشدی کو ”سر“ کا خطاب دے رکھا ہے۔ شیخ الاسلام چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے پاکستانیوں نے بھی تو ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، جنہوں نے کینیڈا یا برطانیہ کی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔ بجا....لیکن ان بے چاروں کو تو شاید اس قدر معلومات نہ ہوں، انہیں عشق رسول کا بھی ایسا دعویٰ ہی نہیں ،وہ شیخ الاسلام ہی نہیں ہیں۔ یہ سوال تو ایک عاشق رسول کے دعویدار اور شیخ الاسلام ہی سے کیا جاسکتا ہے ۔ جناب اتنی بلندی اور اتنی پستی؟      ٭

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید :

کالم -