.... چلا جا رہا ہوںکنارے کنارے

.... چلا جا رہا ہوںکنارے کنارے
.... چلا جا رہا ہوںکنارے کنارے

  

 نئے زمانے کے جن الفاظ نے میری زندگی مشکل بنا دی ہے ان میں سیر کرنے کے لئے ’واک‘ کی فیشن ایبل اصطلاح بھی شامل ہے ۔ ایک تو یہ ہے ہی انگریزی زبان کا لفظ ، جس سے دہری شہریت والے آدمی کی لسانی وفاداری بھی مشکوک ہو جاتی ہے ۔ دو سرے ، یہ ایک شعوری رویے یا کوشش کا احساس دلاتا ہے ۔ گویا پیدل چلنا بھی ہنسنے ، مسکرانے یا رونے جیسی کوئی فطری حرکت نہ ہو بلکہ دفتر جانے ، دکان کھولنے یا ہوائی جہاز اڑانے کی طرح ایک باقاعدہ کام ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کسی بھی معروف سیرگاہ یا جوگنگ ٹریک کا رخ کر لیں ، ہر ماڈل اور سائز کے ’واکر‘ ایک بھرپور عزم کے ساتھ کسی خیالی ٹارگٹ کا پیچھا کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ، جیسے کوئی شرارتی لڑکا ہاتھ کا اشارہ دے کر چھیڑنے کے انداز میں کہہ دے ’آہو ، ایدھر ای گیا جے‘ ۔

 عمر ، صنف اور تراش خراش کی رنگا رنگی کے باوجود اتنے لوگوں میں پیدل ورزش کا یہ جہادی جذبہ آخر پیدا کیسے ہو گیا ؟ اس ہجوم میں تیس سالہ کوالیفائینگ سروس والے وہ متاثرین تو خیر دور سے پہچانے جاتے ہیں جنہیں ڈاکٹر نے سختی سے ایسا کرنے کا مشورہ دے رکھا ہے ۔ پیشگی احتیاط والے اس کے علاوہ ہیں جو جوانی کے ابتدائی مرحلے میں فٹنس کے شعور سے بہرہ ور ہو گئے اور یہ سوچنے لگے کہ آدمی چونکہ ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے ، لہذا اس ناپائیدار دنیا میں تین چار ہزار سال زندہ رہنے کی کوشش میں پیدل چلنا اور لمبے لمبے سانس لینا ضروری ہے ۔ ایک تیسرا گروہ اس فارغ البال طبقے کا ہے جن کی واک خوشحالی کا صدقہ اور وقت گزاری کا بہانہ ہوا کرتی ہے، مگر سج دھج ایسی جیسے کسی افسر نے چھٹی کے اوقات کے بعد بھی وردی پہن رکھی ہوئی ہو ۔ آپ پوچھیں گے کہ بھئی ، تمہارا مسئلہ ہے کیا ؟

 مسئلہ ہے ’واک‘ اور سیر کا تضاد ، جن میں ظاہری مشابہت سے انکار نہیں ۔ دونوں کا تعلق پیدل چلنے سے ہے ، جس کے لئے گھر سے باہر کی فضا میں ہاتھ پاﺅں ہلائے بغیر چارہ نہیں ہوتا ، مگر دونوں سرگرمیوں کے درمیان ایک باریک سا کیفیتی فرق ہے جسے اہل دل ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ ایک کا مقصد ہے شروع سے آخر تک محض جسمانی ورزش ، دوسری میں ہلکی ہلکی ذہنی آسودگی کا سامان بھی ۔ یہ کیفیت نہ تو ٹریک سوٹ اور جوگرز کی محتاج ہوتی ہے ، نہ کسی کڑے ٹائم ٹیبل کے مطابق کار پہ سٹیڈئم ، کلب یا پارک کے اندر پہنچ کر افسرانہ پھوں پھاں کی متمنی ۔ بس ایک ایسا آوارہ مزاج بے ساختہ پن چاہئیے کہ جو ’فصل گل و لالہ کا نہیں پابند ‘ ۔ کسی باغ کی روش ، گھر سے دودھ کی دکان تک کا فاصلہ یا تپتی دوپہر میں قصباتی بازاروں کی مہرباں چھولداریاں ، یہ سب سیر گاہیں ہی ہوا کرتی ہیں ۔

 اگر یہ بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو ذرا لمحے بھر کے لئے انسانی شخصیت کو بھی ایک کیمرا تصور کر لیں اور اس کے ذریعہ کسی خارجی منظر پہ نگاہ ڈالیں ۔ کیا آپ دو فٹ کے فاصلے سے تاج محل کی تصویر کھینچ سکیں گے ؟ کیمرا عمارت کے صحن جتنا بلند رکھیں یا ہیلی کاپٹر کی مدد سے دو ہزار فٹ اونچا ؟ اور ہاں ، دھوپ کتنی ہونی چاہئیے اور کس رخ سے ؟ یہی نہیں ، فاصلہ ، روشنی اور زاویے صرف دھوپ چھاﺅں کا نہیں ، رنگوں کا کھیل بھی کھیلتے ہیں ۔ پھ بھی سب سے بڑھ کر ہے آپ کے مشاہدے کا دورانیہ ۔ رفتار کم کر دیں تو مشاہدے میں شدت آئے گی ، بڑھا دیں تو سب غائب ۔ تین سال پہلے ایک دوست نے سٹاف کار چھوڑ کر سائیکل پہ دفتر جانے کی عادت اپنائی تو اس کی آنکھوں پہ فطرت ، تمدن اور سماج کے نئے دریچے طلوع ہونے لگے ، یوں جیسے ’گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے ‘ ۔

 میرے دوست کی خوش قسمتی کہ وہ جی او آر میں رہائش پذیر تھے جہاں رفتار گھٹا کر اپنے مشاہدے کا دورانیہ بڑھا دینا ایک کیف آگیں تجربہ ہے ۔ ایک تو شہر کے بے ہنگم شور کے مقابلے میں ٹریفک انتہائی کم ، دوسرے ’صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں‘ ۔ پھر ہر بنگلے کے گیٹ پر کھڑا چوکیدار ، مالی اور صاحبوں کے گھروں میں کام کرنے والی ’فری لانس‘ مائیاں جن کے پاس سے آپ ہر صبح ’شوں‘ کرکے گزر جایا کرتے تھے ، اب سچ مچ کے زندہ کرداروں میں بدلنے لگتی ہیں اور ان کی سمجھ میں بھی آجاتا ہے کہ بال بچوں کا حال پوچھنے والے اس ’سوٹڈ بوٹڈ‘ آدمی کی نظر میں انسانیت کی جھلک کا واحد سبب یہ نہیں کہ اس کی آنکھ پتھر کی ہے ۔ کار یا گینڈا نما گاڑی کی بلندی ، سپیڈ اور سیٹ کا محل وقوع انسانی ’ویو پوائنٹ‘ کے ساتھ جو ڈرامہ کرتا ہے ، اس سے خدا بچائے ۔

اپنی ’عینک‘ کا نمبر درست رکھنے کے اور طریقے بھی ہوں گے ، لیکن سب سے کار آمد دور ، نزدیک اور درمیانی فاصلے کا وہ ’ویری فوکل‘ چشمہ ہے جو قدرت نے کسی انسان کو لگا دیا ۔ مثال کے طور پر ، ان شہر و دیہات میں جہاں قریب سے کوئی دریا ، نہر یا ندی نالہ گزرتا ہو ، نو عمر لڑکے ارادے کے بغیر یونہی دیکھا دیکھی تیراکی سیکھ جایا کرتے ہیں ۔ اسی طرح اگر آپ کا آبائی محلہ میری طرح شہر کے ایک اونچے پہاڑی نما ٹیلے پر واقع ہو تو پھر یہ تو ممکن ہی نہیں کہ بچپن میں چیچک ، ہیضہ اور ٹائیفائڈ کے ٹیکے لگانے والوں کی طاقتور جیپ کے سوا کبھی کوئی بس ، کار یا تانگہ آپ کے دروازے تک پہنچا ہو ۔ اس صورتحال میں اگر آپ کو اپنے دادا کی انگلی پکڑ کر ٹبہ ککے زئیاں ، ٹانچی محلہ یا نائیوں والی گلی کی چڑھائی پیدل چڑھنے اور اترنے کی عادت ہو جائے تو اس میں حیرت کی بات کونسی ہے ۔

لفظ ’سیر‘ کے اصلی معانی دیکھیں تو ان میں چلنے پھرنے کے علاوہ گرد و پیش کا جائزہ لینے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا پہلو بھی ہے ۔ ہم گھر سے نکلتے تو پہلے مولوی فاضل کی ہٹی ، چند قدم پہ چاچے اقبال کا تھڑا ، اس سے دائیں مڑ کر ظہور نام کا ٹیڑھا میڑھا سا آدمی جسے سب ’جورا‘ کہتے ۔ پھر الٹے ہاتھ پہ قصائیوں کے گھر ، سامنے لیڈی ڈاکٹر سرفراز کا چھوٹا سا بورڈ ، ذرا آگے ماسٹر محمد دین ثاقب کا مکان اور اسی کے باالمقابل پھوپھا جمال دین ، جو شاعر مشرق اور ان کے بڑے بھائی کو بابو اقبال اور بابو عطا محمد کہہ کر یاد کرتے تھے ۔ یہاں پہنچ کر پیدل سفر کی جبری حدود ختم ہو جاتیں ۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ گھاس منڈی ، ڈرماں والا چوک یا کچہری والے پھاٹک تک تانگہ پکڑ لیں یا ’ چلا جا رہا ہوں کنارے کنارے‘ ۔

کنارے کنارے چلتے رہنے کے عمل میں بس اتنی تبدیلی آتی رہی کہ ٹینس کے کھلاڑیوں کی طرح کبھی سنگل مقابلے اور کبھی ڈبل ، البتہ مکسڈ ڈبل کی نوبت کم ہی آئی ۔ واہ کی مال کے بیشتر کلاسیکی اہل سیر گواہی دیں گے کہ حسن ابدال اور ٹیکسلا والے بیرئر کے درمیان میوزک کمپوزر خادم حسین ، اتھلیٹ جاوید خان اور میر ایاز آف شاہواں دی ڈھیری کے ہمراہ سب سے زیادہ چکر کس نے لگائے ہیں ۔ جاوید خان کی ہمدمی میں چال قدرے تیز ہوتی ، خادم حسین کی موجودگی میں ذرا معتدل جبکہ میر ایاز کے ساتھ ، جو نو عمری میں بھی میر صاحب ہی کہلائے ، انتہائی سست روی سے چلنا پڑتا ۔ اس کی بدولت آرڈننس کلب ، اسلم مارکیٹ اور پی او ایف اسپتال سے نکلنے اور داخل ہونے والے کرداروں کے بارے میں ہماری گفتگو میں گہرائی آجاتی ، اور میر صاحب مزے لے لے کر اس طرح کے شعر سناتے :

اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب

دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

 بعد کے برسوں میں اس سیر کے ایک مستقل ساتھی مقامی کالج کے پرنسپل عبید اللہ خان تھے ، جن کی پیش قدمی شمال میں موجودہ خیبر پختونخوا کے خان پور ڈیم اور جنوب کی طرف مرگلہ پہاڑی کے اس مقام تک ہوتی جہاں جنرل نکلسن کی یاد میں ایک مینار کھڑا ہے ۔ اس راستے میں سارا زور گپ شپ پہ ہوتا ۔ عبید اللہ خان کی لوک دانائی ، نرول حس مزاح اور بار بار یہ جملہ ’بھرا جی کیا کروں ، انگریزی نہیں آتی ۔ یہ اسی ’پیشہ ورانہ‘ ٹریننگ کا نتیجہ تھا کہ گورڈن کالج ، راولپنڈی میں دوستوں کے ساتھ مری روڈ پہ سیٹلائٹ ٹاﺅن ، سید پور روڈ کے راستے آئی نائن اور چھاﺅنی کی طرف لالہ زار کے آخری سرے پر دھمیال ائر بیس تک کا علاقہ مجھے ، آصف ہمایوں قریشی اور ’میجر تان سین‘ کو ہمیشہ اپنے ہی زیر نگیں لگا ۔

لاہور میں تدریس سے وابستگی کے دوران قیصر ذوالفقار بھٹی اور طاہر یوسف بخاری کی ہمراہی میں اس نفلی ریاضت کا دیکھتے ہی دیکھتے ایک باجماعت سرگرمی بننا بھی ایک واقعہ ہے ۔ اب یہ اعتراف کرلینے میں بھی کوئی خطرہ نہیں کہ ایک مرتبہ عید میلاد النبی کی رات ہم نے بعد ازاں حکومت پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن بننے والے ایک افسر کی قیادت میں پہلے تو ایک ناواقف سوزوکی پک اپ والے سے سرکلر روڈ کا پورا چکر لگوانے کی فرمائش پوری کرائی ، پھر ایک مشہور دکان سے سبز کشمیری چائے پی کر بغیر پیسے دئیے کھسکے اور آخر میں لوہاری دروازے کے باہر جب ایک عوامی دھمال میں والہانہ رقص کرتے ہوئے پائے گئے تو گورنمنٹ کالج کے دو حیران و پریشان شاگردوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ یار ، اس خبر کو عام نہ کرنا ۔ بس ، ایک عجیب رولا رپا تھا اور ’وچ مرزا یار پھرے‘ ۔

اب مرزا یار پریشان ہے کہ شام کی سیر میں ’ویری فوکل‘ عینک لگا کر بھی اسے نزدیکی فاصلے سے کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیتا ۔ صرف ولائتی ٹریک سوٹوں میں لدے پھندے بچے اور جوان ، دوپٹوں کو کراس بیلٹ کی طرح باندھے چیونگم چباتی غیر شناسا خواتین اور عمر سے چھوٹے دکھائی دینے کا شوق رکھنے والے وہ بوڑھے جنہیں دیکھ کر خوامخواہ 23 مارچ کی پریڈ کا خیال آنے لگتا ہے ۔ دل تو اب بھی یہی چاہتا ہے کہ روزانہ ’واک‘ کے لئے کوئی مخصوص پارک ’مل‘ لینے کی بجائے مغلیہ شہر ، برطانوی عہد کے لاہور اور آزادی کے بعد کی ساری بستیوں کو پھر سے اپنی سیرگاہ سمجھنا شروع کر دوں ۔ کیا خبر ، کاروں کی جگہ بسیں رائج کرنے کی خواہش رکھنے والے کسی دن ’موڈ ‘ میں آ کر پیدل چلنے والوں کے لئے فٹ پاتھ بھی بنوا دیں ۔     ٭

مزید :

کالم -