ٹریفک، شہری شعور اور صحت کے ماہرین کا موازنہ!

ٹریفک، شہری شعور اور صحت کے ماہرین کا موازنہ!
ٹریفک، شہری شعور اور صحت کے ماہرین کا موازنہ!

  

اساتذہ کہتے ہیں کہ قلم ہو تو قلم کی عصمت کا بھی خیال رکھنا لازم ہے اور تحریر میں ذاتی مسئلے سے گریز اور اجتناب ہی کرنا چاہئے تاہم اگر کسی لکھنے والے کو ایسی پریشانی لاحق ہو جائے، جو عام لوگوں کی ہو تو اس کے بارے میں اظہار خیال سے گریز کیوں، دو روز قبل جو واقعات ہمارے ساتھ پیش آئے وہ اس معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ہمارے دل نے ایک بار پھر دھڑکنا شروع کیا اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی نوبت آ گئی۔ کوشش تو کی کہ نظر انداز کر کے خود کو سنبھال لیا جائے، لیکن جب تکلیف کا احساس زیادہ ہوا تو بیٹا عاصم چودھری ہمیں ڈیفنس کے ایک بڑے نجی ہسپتال میں لے گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو دکھایا انہوں نے مختصر سی تحقیق اور دل کے بائی پاس والی فائل دیکھنے کے بعد تھیلیم سکین کی تجویز دی اور نسخہ لکھ کر ہمارے حوالے کر دیا، جس میں ادویات بھی تحریر تھیں۔ یہ ادویات شروع کیں اور صاحبزادے نے شوکت خانم ہسپتال پر اعتماد کرتے ہوئے ایکسرے اور سیکننگ کے لئے وقت لے لیا۔ یہ عمل دو روز میں مکمل ہونا تھا، پہلے روز ہزارہ قبیلہ کے سوگواروں کے دھرنے کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے میں دشواری ہوئی۔ بہرحال وقت سے چند منٹ بعد پہنچے اور عمل میں شریک ہوئے۔ ایکسرے کرانے کے بعد سکیننگ کے مراحل سے نکلے اور اگلے روز کے لئے وقت لے کر آ گئے۔ دوسرے روز یہ عمل مکمل ہوا، شوکت خانم ہسپتال کے بہترین نظم اور ڈیفنس کے نجی ہسپتال کے کنسلٹنٹ کا ذکر بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے اس مسئلے کی طرف آئیں، جس نے ذہن پر کچوکے لگائے۔ انتظامیہ، حکومت، ترقیاتی اداروں اور خود پر بھی غصہ آیا۔

ہوا یوں کہ جمعہ کو ساڑھے سات بجے کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا تھا اس کے لئے گھر سے ساڑھے چھ بجے روانہ ہوئے۔ لارنس روڈ سے صاحبزادے کو ساتھ لینا تھا۔ ڈرائیور نے وحدت روڈ سے نہر والا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مسلم ٹاﺅن موڑ سے فیروز پور روڈکے راستے مزنگ چونگی سے لا رنس روڈ کی طرف آنے والا راستہ اختیار کیا۔ اچھرہ تک آہستہ آہستہ پہنچ گئے۔ خیال تھا کہ خادم اعلیٰ کی شبانہ روز محنت اور اربوں روپے کے اخراجات سے میٹرو بس چلی اور دو رویہ سڑک بھی کافی بڑی ہو گئی ہے، اس لئے جلد پہنچ جائیں گے، لیکن یہ تو اُلٹ بات ہو گئی۔ میٹرو بس کا افتتاح ہو چکا ہے جو چل بھی رہی ہے۔ تاہم ابھی تک میٹرو کے پلوں، اس کے سٹیشنوں اور پلوں کے نیچے مسلسل کام جاری ہے جبکہ دو رویہ سڑکیں بھی ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ سروس روڈ کو الگ کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔ اس کے علاوہ ابھی شمع چوک، ٹولنٹن مارکیٹ والی سڑک اور مزنگ چونگی سے نامکمل کام کو بھی مکمل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس روز شہر میں ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی، اچھرہ سے آگے بڑھے تو ٹریفک جام تھی اور ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی، ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک پھنسے رہے اور بمشکل جوں کی چال چلتے ہوئے شمع چوک تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہاں پہلے کوئی ٹریفک وارڈن سرے سے موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے سمن آباد، مزنگ چونگی اور شادمان کی طرف سے آنے والے حضرات نے ایک دوسرے کا دھیان نہ کیا۔ پہلے خود نکلنے کی کوشش میں آمنے سامنے ماتھا لگا کر ٹریفک بند کر دی۔ یوں دو طرفہ گاڑیوں کی قطار لگتی چلی گئی، کوئی بھی دوسرے کو راستہ دینے پر تیار نہیں تھا، پھر چند لوگوں نے رضا کارانہ طور پر فرائض انجام دیئے اور ٹریفک بحال کرائی، اتنے میں ایک ٹریفک وارڈن بھی تشریف لے آئے۔ یوں بڑی بڑی سڑکوں سے گزر کر وقت بچانے کی حسرت دل میں رہی اور ایک سے سوا گھنٹہ یہیں گزر گیا۔ اس کے بعد صاحبزادے سے ملاقات ہوئی، جو خود لے کر ڈیفنس کی طرف روانہ ہوئے۔

اب ایک دوسرا مرحلہ درپیش تھا۔ جب شیر پاﺅ پل تک پہنچے تاکہ شامی روڈ چوک سے ڈیفنس کی طرف جا سکیں تو یہاں ایک دیرینہ مسئلے سے واسطہ پڑ گیا، گاڑیوں کی قطاریں گلبرگ کی طرف سے جانے والی سڑک تک تھیں اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھیں، وجہ یہ کہ پل سے نیچے اُترتے ہی چیک پوسٹ ہے جہاں سے گاڑیاں دیکھ بھال کر کے گزاری جاتی ہیں کہ آگے سارا کینٹ کا علاقہ ہے یہاں ہونے والی تاخیر نے بھی بلڈ پریشر بڑھا دیا، حیرت تو اس امر پر ہے کہ کینٹ جو کبھی چھاﺅنی تھا اور اب رہائشی اور تجارتی علاقے میں تبدیل ہو چکا ہوا ہے، چند بیرکیں، دفتر اور رہائش گاہیں حساس ادارے کی ہیں، باقی تو سویلین کے پاس ہیں۔ اس کی حفاظت کے لئے یہ زبردست طریقہ اختیار کیا گیا کہ ایک ایک گاڑی گزاری جا رہی تھی اور پھر ایک آدھ گاڑی کو پڑتال کے لئے بھی روک لیا جاتا تھا۔ ویسے یہاں بھی وی آئی پی کلچر ہے اور ایک راستہ ای ٹیگ بنایا گیا ہے، جس گاڑی پر بااختیار اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ای سٹیکر ہو وہ ایک الگ راستے سے پڑتال کے بغیر گزر جاتی ہے اور یہ سٹیکر قدرتی طوور پر جن کو ملے ہوں گے اُن کی حیثیت کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی تاخیر ہوئی اور نتیجے کے طور پر ڈیفنس کی ٹریفک کو عبور کرتے ہوئے ہم ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

سوال یہ ہے کہ ہم مریض اگرچہ ڈاکٹر کے پاس مشورے کے لئے جا رہے تھے۔ ہماری جگہ ایمبولینس اور فوری طبی امداد کا طالب مریض ہو تو اسے بھی اتنی ہی تا خیر ہو گی جبکہ ایئر پورٹ جانے کے لئے بھی کنٹونمنٹ انتظامیہ کی چیک پوسٹوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے اور مریض تڑپتے رہتے ہیں ۔کیا اس سے بہتر طریقہ نہیں ہو سکتا کہ عوام الناس پریشان نہ ہوں۔ اگر شہریوں کو ٹریفک کے شعور کی ضرورت ہے، ٹریفک انتظامیہ کو بہتر انتظامات اور ترقیاتی اداروں کو کام بروقت اور بہتر طریقے سے مکمل کرانے کے لئے توجہ دینا ہے تو کیا کنٹونمنٹ بورڈ والوں کو عوام کی مشکلات کا اندازہ نہیں، ان کو بھی تو خیال کرنا چاہئے، ویسے دہشت گرد تو ان چیک پوسٹوں سے گزرنے سے رہے، اُن کے لئے کینٹ میں داخل ہونے کے کئی اور راستے بھی تو ہیں۔

اب ذرا نجی ہسپتال کی تعریف سن لیں، پہلے وقت میں پانچ منٹ لگائے گئے اور ٹیسٹ لکھ دیا، دوسری بار اس سے کم وقت میں مکمل بات سنے بغیر ٹیسٹ رپورٹ دیکھ کر پہلی ادویات جاری رکھنے اور پھیپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر سے مزید مشورہ کی ہدایت دے کر فارغ کر دیا گیا۔ دونوں بار پوری فیس لی گئی، مریض کی تسلی اور تشفی کی فکر نہ کی گئی۔ اس کے برعکس شوکت خانم کا انتظام قابل تعریف ہے، سکیننگ کے لئے گئے تو باری کا پورا اہتمام تھا، ہر مریض باری آنے پر بلایا جاتا، ڈاکٹر مرض اور ٹیسٹ کی پوری ہسٹری لیتے اور پھر ٹیسٹ کے تمام مراحل اور اس دوران ممکنہ تکالیف کا بھی تفصیل سے بتاتے تھے، پھر جب لیزر (ایٹمی) مشین پر لے جانے سے پہلے انجیکشن لگائے گئے تو دو ماہر ڈاکٹر عملے کے ساتھ موجود رہے اور مشین کو بھی دیکھتے رہے، ایسا ہی سکیننگ کے وقت کیا گیا، پوری طرح سمجھایا گیا اور دوران سکیننگ پریشانی کے حوالے سے تسلی بھی دی جاتی رہی اور پھر جو وقت دیا گیا رپورٹ اس کے مطابق مہیا کر دی گئی۔ یہ عمل ڈاکٹری نسخے کے بغیر نہیں ہوتا۔     ٭

مزید :

کالم -