پانچ منٹ کا افسانہ

پانچ منٹ کا افسانہ
پانچ منٹ کا افسانہ

  

شیخ الانقلاب علامہ طاہرالقادری نے تو یہ مژدہ بھی سنایا تھا کہ ان کے دھرنے کے دوران مارشل لاءپانچ منٹ کے فاصلے پر تھا جس پر پرویز رشید نے نقطہ اٹھایا تھا کہ قوم کو اس جملے کی وضاحت چاہئے کہ کس طرح مارشل لاءپانچ منٹ کے فاصلے پر تھا؟....لیکن کوئٹہ میں ہونے والی اندوہناک دہشت گردی کے بعد وہاں فوج کے مطالبے پر چیف نے جس طرح Restraintکا مظاہرہ کیا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ الیکشن کے اتنے قریب کسی ایسے اقدام کے حق میں نہیں جس سے ماورائے آئین اقدامات کی بو آنے لگے اور بے یقینی میں مزید اضافہ ہو،واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی میں فوج کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اب عالمی میڈیا بھی کراچی کو ایک اور بیروت سے تشبیہ دے کر جلتی پر تیل پھینکنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کچھ قوتیں مل کر ملک کے اندر وہ انارکی پیدا کرنا چاہتی ہیں جس سے انتخابی عمل سبوتاژہو جائے، سینیٹر رضا ربانی نے حال ہی میں کہا ہے کہ الیکشن کے التوا کی کوششوںمیں بیرونی عوامل کارفرما ہیں، ادھر ن لیگ کے احسن اقبال بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتخابات کے حق میں نہیں، سوال یہ ہے کہ علامہ قادری دھرنے کے دوران کن کے لئے انگریزی زبان میں تقریریں کرتے رہے اورحکومت نے کیونکر انہیں بلا چوں چراں پارلیمنٹ کے سامنے کنٹینر دھرنے کی اجازت دی اور شرکاءکو کمبل اور بریانیاں بہم پہنچائیں،کیا پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بیرونی طاقتوں کے چنگل میں ہے!

چارو ناچارپیپلز پارٹی کے حلقے اب دبے لفظوں اقرار کرنے لگے ہیں کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے، تاہم ایک موہوم سی امید ابھی بھی ہے کہ جب آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت ٹیکسوں اور قرضوں کے نادہندگان کو انتخابی عمل سے باہر کیا جائے گا تون لیگ کی اکثریت نااہل ہو جائے گی.... گویا کہ باقی سب فرشتے ہیں اور ساری خرابیاں ن لیگ میںہیں کہ بروقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے !

پیپلز پارٹی کی قیادت یہ بات فراموش کئے ہوئے ہے کہ مرضی حد سے بڑھ جائے تو مرض بن جاتا ہے، اس میں شک نہیں کہ انتخابات میں التوا کا اصل فائدہ پیپلز پارٹی، ق لیگ، ایم کیو ایم، تحریک انصاف، پاکستانی عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ کو ہوتا نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ تمام جماعتیں ایک دوسرے کے قرب و جوار میں گھومتی نظرآتی ہیںاور ن لیگ سمیت جماعت اسلامی، جمعیت علماءاسلام ، بلوچ سردار، فنکشنل لیگ اور سندھی قوم پرست جماعتوں کی راہ کھوٹی کرنا چاہتی ہیں،لیکن پیپلزپارٹی کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ انتخابات کے انعقاد میں درآنے والی بے یقینی کا نقصان صرف اور صرف اسی کو ہوگا کیونکہ حکومت میں ہونے کے ناطے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ الیکشن کے بروقت انعقاد پرپھیلی بے یقینی کو ختم کرے کیونکہ یہ بے یقینی تو ختم ہو جائے گی جیسے عید کے چاند کا اعلان ہوتے ہی لوگ پورے یقین سے عید کی تیاری کرتے ہیںلیکن خطرہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہوگا!

یہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے، اس کا اعتبار جاتا رہا ہے، بابر اعوان سے ملک ریاض اور ملک ریاض سے فیصل رضا عابدی تک عدلیہ مخالف تحریک ہو یاشیخ الانقلاب علامہ قادری کی الیکشن مخالف تحریک ،ہر جگہ پیپلز پارٹی کی قیادت گھنٹہ گھر کی طرح سامنے موجود رہی ہے،اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت کے باوجود سب کچھ صدر مملکت کی ذات کے گرد گھوم رہا ہے اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے اس جملے کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں کہ ’میں PMہاں پرایہہ میکوں Peonسمجھدے نیں!‘

پاک فوج کے ترجمان کی موجودہ وضاحت کے بعد اس میں کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ ملک میںجمہوری عمل کو ڈی ریل کیا جائے گا، اب لوگوںکو یقین آجانا چاہئے کہ قادری دھرنے کے دوران کسی قسم کا کوئی مارشل لاءپانچ منٹ کے فاصلے پر نہ تھا، امید ہے کہ پاک فوج کے تازہ بیان کے بعد قوم صورتِ حال کو سمجھ گئی ہوگی!

مزید :

کالم -