کیا وہ میرے رب سے زیادہ سیانے اور طاقت والے ہیں؟

کیا وہ میرے رب سے زیادہ سیانے اور طاقت والے ہیں؟
کیا وہ میرے رب سے زیادہ سیانے اور طاقت والے ہیں؟

  

 آج سے پانچ چھ سال پہلے تک میرا یہی خیال تھا کہ کوئٹہ کا بہت بڑا ایشو لوکلز اور سیٹلرز کے درمیان ہے، کچھ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جن کے باپ دادا کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آئے، وہاں تجارت، تعلیم اور دیگر میدانوں میں خدمات سرانجام دیں، پھر ان کے ہی نہیں بلکہ ان کے بچوں کے بچے بھی وہاں پیدا ہوئے، پلے بڑھے، وہ نسلوں سے وہاں رہنے کے باوجود بلوچستان کے وفادار نہیں ہوسکتے بلکہ وہ تو ایسے غاصب ہیں جوبلوچوں کے وسائل کھا رہے اوران کی نوکریوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ یہی سوچ سندھ میں بھی پیدا کی گئی جس کی قیمت آج بھی کراچی ادا کر رہا ہے۔ میں پانچ چھ سال پہلے امن و امان کے ایشو پر پروگرام کرنے کے لئے کوئٹہ گیا تو وہاں کے سینئر صحافی مجیب الرحمان نے میرا ، پروگرام کے پروڈیوسر جواد بٹ اور دیگر ٹیم کا ہزارہ کمیونٹی کے گڑھ کا وزٹ بھی رکھوا دیا، ان کے پہاڑوں میں بنے گھرعلیحدہ ہی نوعیت کے ہیں، ایک گھر میں ہونے والی محفل میںہمیں بتایا گیا کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ منگول نسل سے ہیں جو سنٹرل ایشیاءسے افغانستان اور انیسویں صدی کے وسط میں کوئٹہ منتقل ہو گئے، ماضی کو ٹٹولیں تو پتا چلتا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی نے افغان جنگوں میں انڈین امپریل آرمی کا ساتھ دیا لہذا پشتون علاقوں میں افغان ان کی موجودگی بالکل پسند نہیں کرتے، ہزارے اپنی چینیوں جیسی شکلوں کے باعث دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں، یہ منگول نسل اور شکل کے تو ضرور ہیں مگرامن پسند ہونے کے باوجود ان کے لئے کوئٹہ کے بازاروں میں جا کے شاپنگ کرنا ممکن نہیں ہے، کئی سال پہلے بتائی جانے والی یہ بات مجھے یاد ہے کہ کوئٹہ میں کوریا کے کچھ سیاح آئے، وہ وہاں خریداری کررہے تھے کہ انہیں ہزارے سمجھ لیا گیا، بازار میں تصادم ہی ہوجاتا اگر وہ اپنی زبان بول کر لوگوں کو مطمئن نہ کرتے۔

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطابق ہزارہ کمیونٹی اپنی نسل اور عقیدے دونوں ہی کی بنیاد پر پچھلے بارہ ، تیرہ برسوں سے کچھ زیادہ ہی نشانہ بن رہی ہے، یہ سال شروع ہونے سے پہلے اس عرصے میں آٹھ سو ہزارے مار دئیے گئے تھے اور اب چند ہفتوں کے دوران ہونے والے دو بڑے دھماکوں میں مزید دو سو کی جان لے لی گئی۔ ہزارہ کمیونٹی نے اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ دھرنے دے کر پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوفناک احتجاج بھی کیا، ان کا کہنا ہے کہ جان و مال کو لاحق خطرات کی وجہ سے دو لاکھ ہزارے بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں ، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کراچی سے کوئٹہ اور وہاں سے پشاور تک آج کے مہذب دور میں بھی موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، یہ بات تو سقراط کے دور کے لوگوں کو ہی سمجھ آجانی چاہیے تھی کہ مخالف کو مار دینا، مسئلے کا حل نہیں ہے جو ہمارے آج کے دور کے لوگوں کے دماغوں میں راستہ نہیں بنا پا رہی۔ یہ بات ان امریکیوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی جوہمارے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرتے اور وہاں برسائے جانے والے ننانوے فیصد ڈرون بے گناہ لوگوں کو موت کی سزا دے دیتے ہیں ۔اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جن بچوں کے باپ اور یا جن باپوں کے بچے مارے جاتے ہیں وہ اسی زبان میں جواب دینے کے لئے بے چین ہوجاتے ہیں جس ظلم، بربریت اور ناانصافی کی زبان میں ان سے بات کی گئی ہوتی ہے۔ مجھے کراچی کے ان سیانوں سے یہی شکوہ ہے جو وہاں کا امن برباد ہونے کی بات کرنے پر اپنے ہزاروں شہیدوں کاذکر کرنے لگتے ہیں، کیا ان سب کو یہ علم نہیںہوتا کہ یہ کل جگ نہیں کرجگ ہے، اس ہاتھ جو آپ دیتے ہیں ، دوسرے ہاتھ سے آپ لے بھی لیتے ہیں۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بارود بونے والے کیا یہ نہیںجانتے کہ یہ فصل بہت تیزی کے ساتھ جوان ہوتی ہے۔

ہم آپس میں لڑنے والے کون ہیں، دیوبندی اور شیعہ آپس میںلڑ رہے ہیں تو کیا پاکستان سے تمام شیعوں کو ختم کیا یا دیس نکالا دیا جا سکتا ہے اور اگر پاکستان سے آپ یہ ناممکن ، ممکن بنانے کا خواب بھی دیکھ لیں تو ایران، عراق اور دیگر ممالک بارے کیا خیال ہے۔ اسی طرح شیعہ کمیونٹی کسی طور یہاں سنیوں کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ شیعہ ، سنی اختلافات ، تاریخ اور علم کی بنیاد پر ہیں، تاریخی اختلافات تب ہی ختم ہوسکتے ہیں اگر آپ اپنے ماضی کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، ہم چودہ، پندرہ سو سال پرانی تاریخ کیسے بدل سکتے ہیں جب ہم چودہ ، پندرہ منٹ پرانے واقعے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہاں ہم ایسے واقعات کے بعدانصاف کی بنیاد پر پرامن بقائے باہمی کا راستہ ضرور تلاش کر سکتے ہیں، اسی طرح علمی نوعیت کے اختلافات پر بحث و تکرار کا حق علماءکو ہے اور وہی ہیں جو اختلاف کے ساتھ ساتھ اتفاق سے رہنے کا درس بھی دے سکتے ہیں۔کراچی میں پیپلزپارٹی کے بینر تلے امن کمیٹی اور ایم کیو ایم بندوق کی بجائے دلیل سے بات کریں تو معاملہ وہاں بھی حل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کوئٹہ اور ملحقہ علاقوںسے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے آباد کار لوٹ گئے ہوں مگر ابھی بھی وہاں اتنے موجود ہیں کہ ان کے باقاعدہ ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں۔ یہاں ہر جگہ بات ہو سکتی ہے اور اگر بات نہیں ہونی چاہئے تو ان جرائم پیشہ لوگوں سے نہیں ہونی چاہئے جنہوں نے اپنی لوٹ مار کو تحفظ دینے کے لئے نظریاتی اختلافات کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ یہ امر بھی ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے کہ بہت سارے علاقوں کے سکہ بند جرائم پیشہ عناصر، سیاسی اور مذہبی تحریکوں میں شامل ہو گئے حالانکہ ان کا مذہب اور سیاسی نظریات سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں۔ اس بنیاد پر انہوں نے اپنی غیر قانونی حکومتیں قائم کر لیںجنہوں نے مخالفین سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا۔

اب وقت آگیا ہے کہ پوری دنیا سوچ کو جان او ر مان لے کہ مخالف کو ماردینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم اپنے تمام مخالفوں کو نہیں مار سکتی اور نہ ہی ایم کیو ایم کے مخالف اس کی تنظیم میں شامل تمام مہاجروں کو ختم کرسکتے ہیں۔ شیعہ ، سنیوں کو اور سنی تمام شیعوں کو نہیں مار سکتے، امریکہ اگر یہ سمجھتا کہ وہ اپنی فوج اور اسلحے کی بنیاد پر طالبان کی نسل تک ختم کر دے گا تو وہ غلطی پر ہے اور اسی طرح طالبان امریکہ اوراس کے اتحادیوں کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹا سکتے تو پھر یہ سب مل جل کر رہنا کیوں نہیں سیکھ لیتے۔ یہ سب انسان ہیں اور ان کو آپس میں ایک دوسرے کا دشمن ہونے کی بجائے اس کا دشمن ہونا چاہے جو انسانوں کا دشمن ہو، جو انسانیت کا دشمن ہو۔ یقینی طور پر مکالمے میں فتح اسی کی ہوگی جو سچ بول رہا ہو گا اور حق بات کی دعوت دے رہا ہوگا۔ ہمیں سوچ لینا چاہئے کہ ہم کسی کو ختم کر سکتے ہیں تو صرف دلیل کے ذریعے قائل کر کے ہی کر سکتے ہیں، جب ہمارا دشمن ہماری دلیل سے قائل ہوجائے گا تو ہمارا دشمن ختم ہوجائے گا اور اگر ہم اپنے مخالف کی دلیل سے قائل ہوجائیں گے تو ہمارے مخالفین کا ایک دشمن ختم ہوجائے گا۔ ہمیں مکالمے کا آغاز کرنا چاہئیے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کودلیل سے قائل کیا تھا اور رہ گئی اختلاف رائے کی بات، تو رائے کا اختلاف ہر دور میں تھا اور آنے والے ہر دور میں رہے گا، یہ دنیا اور اس میں رہنے والے ختم ہو سکتے ہیں مگر انسان کی فطرت میں اختلاف کا جو مادہ قدرت نے رکھ دیا ہے وہ ختم نہیںہو سکتا،عقل جیسی نعمت سے جڑے ہمارے دلوں اور ذہنوں میں موجود اختلاف کے اس مادے کو ہمیں اس دنیا اور دنیا والوں کو تباہ کرنے کی بجائے اسے بہتر بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ قرآن میں تمام جہانوں کو پیدا کرنے والے نے اپنے محبوب ﷺ سے بار ہا کہا کہ تم ایمان نہ لانے والوں کے بارے ہلکان کیوں ہوتے ہو، تمہارا کام تو حق کی دعوت دینا ہے اور اگر یہ کام زور اور زبردستی سے ہی کرنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ زور آور اور طاقت ور کون ہے، میرے رب نے کہا کہ وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایمان والا بنا دیتا مگر وہ لوگوں کو جانچنا چاہتا ہے کہ کون فلاح کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون شیطان کا پیروکار بنتا ہے۔ اب جو لوگ زور اور زبردستی کر کے، بم دھماکے کر کے اور جانیں لے کر اپنے عقیدے کی بالادستی کو یقینی بنانا چاہ رہے ہیں تو وہ صرف اتنا بتادیں کہ کیا وہ محمد عربی ﷺ کے رب سے بھی زیادہ عقل اور طاقت والے ہیں؟

مزید :

کالم -