حکومت متعدد سیاسی فوائد کی خاطر اسمبلی کی مدت پوری کرنے کو ترجیح دے

حکومت متعدد سیاسی فوائد کی خاطر اسمبلی کی مدت پوری کرنے کو ترجیح دے

  

پیپلزپارٹی کی حکومت ، اگلے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو سکروٹنی اور دیگر معاملات میں کم سے کم وقت دینے ۔ نگران حکومت کے قیام میں اپوزیشن کے سخت رویےسے بچنے اور متعدد سیاسی فوائد کے حصول کے لیے 16مارچ سے قبل اسمبلی توڑنے کی بجائے اسمبلی کی مدت پوری کرنے کو ترجیح دے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی قبل ازوقت تحلیل نہیں کی جائے گی اور اسمبلی 16مارچ تک اپنی مدت پوری کرے گی۔ وزیر اعظم کا یہ بیان پیپلز پارٹی کی پالیسی کا حقیقی عکاس ہے۔ کیونکہ 16مارچ کو اسمبلی کی مدت پوری ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی متعدد سیاسی فوائد حاصل کرسکتی ہے۔ مدت کی تکمیل پر اسمبلی ختم ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی کو سب سے پہلا اور بڑا سیاسی فائدہ الیکشن کمیشن کو سکروٹنی اور دیگر معاملات میں کم سے کم وقت کا ملنا ہوگا ۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 224(1)کے تحت اگر مقررہ مدت سے پہلے اسمبلی توڑی جاتی ہے تو انتخابات 90دنوں میںہونگے جبکہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کی صورت انتخابات 60دنوں کے اندر کرانے جانے لازمی ہوتے ہیں۔ اور انتخابات کے نتائج کا اعلان 14دنوں کے اندر کیا جائے گا۔ اور 90دنوں میں الیکشن کرانے کی صورت الیکشن کمیشن کو ایک طرف سکروٹنی کے لیے خاطرخواہ وقت مل سکتا ہے تو دوسری طرف کمیشن کے پاس دیگر معاملات کو نمٹانے اورتیاریوں کے لیے بھی وقت کی کمی نہ ہوگی جبکہ 60دنوں میں انتخابات کروانے کی صورت میں الیکشن کمیشن ہر کام جلد بازی کے تحت کرنے پر مجبور ہوگا۔اور اس کے پاس شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کروانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوگا۔ اسی طرح مسلم لیگ ن نے باور کروارکھا ہے کہ جب تک چاروں صوبوں کے گورنر تبدیل نہیں کیے جاتے تب تک وہ نگران سیٹ اپ کے قیام میں حکومت کی مدد نہیں کرے گی۔ جبکہ قائد حزب اختلا ف چوہدری نثار احمد کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کے چناﺅ کے لیے وہ وزیر اعظم سے مشاورت نہیں کرینگے۔ ایسی صورت میں اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کو یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ ن لیگ مشاور ت کرتی ہے یا نہیں ۔راجہ پرویز اشرف آئین کے آرٹیکل 224(A)(4)کے تحت اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی نگران وزیرا عظم کے چناﺅ تک 8دن تک وزیر اعظم رہے گے ۔ اور ن لیگ کا چاروں گورنروں کی تبدیلی کا مطالبہ اپنی موت آپ مرجائے گا۔ علاوہ ازیں اگر 16مارچ کو وفاقی حکومت ختم ہوتی ہے اور وفاق کے ساتھ ہی سندھ ، خیبر پی کے اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی جاتی ہیں تو تینوں صوبوں میں بھی قومی اسمبلی کے ساتھ ہی الیکشن کا اعلان کیا جاسکتا ہے اور پنجاب حکومت 12اپریل سے قبل اسمبلی نہیں توڑتی تو بھی پیپلز پارٹی کو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے اس عمل کو غیر جمہوری اور عوام کے خلاف اقدام قرار دے گی۔ اور تب ن لیگ کے پاس اسمبلی توڑنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوگا۔ اس طرح ن لیگ کے تمام تر مطالبات ہوا ہو سکتے ہیں۔

سیاسی فوائد

مزید :

تجزیہ -