این اے 168بورے والا،وہاڑی سیاست دھڑنے بندی ،ذات برادری پیرازم اور تعلقات کے گرد گھومتی ہے

این اے 168بورے والا،وہاڑی سیاست دھڑنے بندی ،ذات برادری پیرازم اور تعلقات کے ...
این اے 168بورے والا،وہاڑی سیاست دھڑنے بندی ،ذات برادری پیرازم اور تعلقات کے گرد گھومتی ہے

  

لاہور(شہباز اکمل جندران، معاونت مختار احمد بھٹی بیوروچیف )قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہنچ گیا۔ امیدواروں نے مختلف برادریوں اور گروپوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے گھوڑے دوڑانا شروع کردیے۔قومی اسمبلی کا ےہ حلقہ20مکمل یو نین کو نسلوںکے علا وہ تین جزوی یو نین کو نسلوںپر مشتمل ہے ان یونین کونسلوں میں دو تحصیل بوریوالہ کی او ر ایک تحصیل وہاڑی پر مشتمل ہے۔ حلقے میں، لڈن ،کچی پکی، دےوان صاحب ، فتح شاہ ، کوٹ سادات، موضع غفور واہ ، بڈھ غلام ، موضع محمد شاہ ، 35/WB،رتہ ٹبہ،سلدےرا،ساہوکا،ماچھےوال اور تحصیل وہاڑی اور تحصیل بورے والا و دےگر دےہی علاقے شامل ہیں۔ حلقے مےں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد2008ءکے الیکشن مےں 3لاکھ12ہزار267تھی جن مےں مرد ووٹرز کی تعداد1لاکھ 72ہزار 394اور خواتےن ووٹرز کی تعداداےک لاکھ39ہزار 873تھی جن کے لےے 239پولنگ اسٹےشن قائم کئے گئے تھے 48پولنگ اسٹےشن مردوں اور 46خواتےن کے لےے جبکہ 145مشترکہ پولنگ اسٹےشن قائم کئے گئے تھے اب کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2لاکھ99ہزار848ہے مرد ووٹرز کی تعداد 1لاکھ74ہزار535جبکہ خواتےن ووٹرز کی تعداد1 لاکھ 25 ہزار 313 ہے ےہ قومی اسمبلی کا حلقہ دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی پی234اور پی پی 235پر مشتمل ہے۔چونکہ یہ مکمل طور پر دیہی علا قوں پر مشتمل حلقہ ہے اس لیے اس حلقہ میں ووٹرز کا رویہ بھی شہری حلقہ سے ذرا مختلف ہے دیہا تی ایر یا ہونے کی وجہ سے یہا ں پر سیا ست ، دھڑے بندی ، ذات ، برادری ، پیر ازم اور تعلقات کے گرد گھو متی ہے ۔ اس علاقہ میں وڈیرہ شاہی مسلط رہی ہے تاہم اب نئی نسل اس جال سے با ہر نکلتی آرہی ہے ۔ اور آزادانہ حقِ رائے دہی کے ٹرینڈ کو رائج کررہی ہے ۔ اس حلقہ میں دولتانہ ، خا کوانی ، سلدیرے ، بھٹی ،کھچی خاندان انتخابات میںحصہ لیتے رہے ہیں ۔ اس حلقہ کے شمال مےں ضلع ساہےوال اور ضلع خانےوال کے کچھ علاقے واقع ہےں ،جنوب مےں ضلع بہاولپور کی تحصیل حاصل پور اور ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتےاں کے علاقے واقع ہےں مشرق مےں تحصیل بورےوالا اور مغرب مےں تحصیل وہاڑی ہے جبکہ جنوب مغرب مےں تحصیل میلسی ہے ےہ حلقہ دو تحصیلوں بورے والا اور وہاڑی پر مشتمل ہے۔مذکور حلقے میں دو سا بق ایم این اے سمیت پا نچ امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں موجود ہ ایم این اے نتا شا دولتانہ پی پی ، سا بق ایم این اے اسحاق خان خاکوانی سینئر وائس پریزیڈنٹ پی ٹی آئی ، سا بق نا ئب ضلع نا ظم سید سا جد مہدی سلیم شاہ مسلم لیگ (ن)، سا بق امیدوار قومی اسمبلی بلال اکبر بھٹی مسلم لیگ(ن) اور ڈاکٹر عارفہ نذیر جٹ آزاد امیدوار شامل ہیں ۔ اس حلقہ مےں خاکوانی پٹھان ،دولتا نے ،کھرل، لنگڑےال ،سلدےرے، بورانے،تجوانے، کملانے،لکھویرا،ارائےں ،جٹ، رحمانی، غفاری ،بےٹو، سےد ،سنپال ،مگھرانے ،جوئےے،شیخ ،ڈوگراور راجپو ت برادرےاں الیکشن پر بھر پور طرےقہ سے اثر انداز ہوتی ہےں اس حلقہ مےں مختلف برادرےوں کا تناسب کچھ اس طرح سے ہے ارائےں برادری کا تناسب18فیصد، دولتانہ برادری 12فےصد،جوئےہ برادری7فےصد،لنگڑےال برادری5فےصد،بھٹی برادری7فےصد، گجر برادری6فےصد، جٹ برادری10فیصد، راجپوت برادری5فیصد اور دےگر برادرےوں کا تناسب 30فیصد ہے۔ حلقہ این اے 168میں سیا سی سر گر میا ں عروج پر ہیں اور جو ڑ تو ڑ جاری ہے یہ حلقہ دیہات پر مشتمل ہے ہر امیدوار نے الیکشن میں لو گو ں کو سبز با غ دکھا ئے اور ترقیا تی کا مو ں کے جال بچھا نے کے وعد ے کیے ، لیکن الیکشن جتنے کے بعد علاقہ کے عوام محرومی کا ہی شکار رہے ہیں ، اور کوئی مسئلہ ان کا حل نہ ہو سکا اس حلقہ میں دو اہم قصبات ہیں جن میں ایک لڈن اور دو سرا ما چھیوال ہے سا بق و زیر اعلیٰ مغر بی پا کستان میا ں ممتا ز خا ن دولتانہ کا تعلق بھی قصبہ لڈن سے تھا اس دور سے لیکر آج تک لو گو ں کے بنیا د ی مسا ئل کو حل کرنے کی کسی سیا ستدان کو تو فیق نہیں ہو ئی اس وقت لڈن میں عرصہ6سال سے واٹر سپلا ئی بند ہے پینے کے صاف پا نی کی قلت ہے لو گ نا قص پا نی پینے پر مجبور ہیں اور اس علا قہ میں صاف پا نی کی عدم فراہمی کی بنا ءپر عوام کی اکثر یت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے ہیپاٹائٹس بی کی بیماری عا م ہے گز شتہ سا ل گیسٹرو کی وباءسے 13اموات ہو ئی تھیں ۔ لیکن کسی سیا ستدان یا حکو مت وقت کے کا نو ں پر جو ں تک نہ رینگی ، سیوریج سسٹم پرانا ہو نے کی بنا ءپر تبا ہ ہو چکا ہے گندگی کے ڈھیر جا بجا ہیں اور گندہ پا نی ملحقہ قبرستان میں داخل ہونے سے متعدد قبریں منہدم ہو چکی ہیں ۔ لیکن کو ئی سیا سی لیڈر تو جہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے گورنمنٹ گرلز ہا ئی سکول لڈن میں کمروں کی تعداد انتہا ئی کم ہے 600طا لبات کی گنجا ئش ہے لیکن 900سے ز ائد طا لبات زیر تعلیم ہیں جن میں سے چند کلا سیں کھلے میدان میں جبکہ چند کلا سیں ٹینٹ لگا کر کا م چلا یا جا رہا ہے جبکہ حکو مت وقت تعلیم کے شعبہ میں ترقی کے دعوے کر تے نہیں تھکتے ، یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس حلقہ میں چار سکول ایسے ہیں جو عرصہ دراز سے بند پڑے ہیں جن میں گورنمنٹ بو ائے پرائمری سکول موضع بورانہ ثانی ، گورنمنٹ بوا ئز پرائمری سکول مو ضع شا دا بلوچ ، گورنمنٹ بو ائز پرائمر ی سکول بستی چمن ، گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول مٹھا ہنجن شامل ہیں اس پورے حلقہ میں کوئی سٹیڈیم نہیں ہے اور نہ ہی پلے گراﺅنڈ اور اچھا پارک ہے پورے حلقہ میں سڑکوں کی حا لت زار انتہا ئی خستہ ہے لڈن تا بوریوالہ روڈ لڈن تا حاصل پور روڈ ، لڈن سے ما چھیوال کے درمیان چکوک کی رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھو ٹ کا شکار ہیں ۔ ماچھیوال بھی پرانا قصبہ ہے ا س کے چار بازار جو سب سے پرانی مارکیٹ ہے اس کی اہم سڑک عرصہ دراز سے ٹو ٹ پھو ٹ کا شکار ہے سیوریج سسٹم جو تباہ ہو چکا تھا اس علا قہ میں بھاری فنڈ ز خر چ کرکے نیا ڈالا گیا لیکن وہ منصوبہ بھی نا کام ہو گیا ہے اور سیوریج کا پا نی سڑک اور گلیوں میں پھیل جا تا ہے جا بجا گندگی کے ڈھیر ہیں اوریہ سڑک مختلف چکوک کو آپس میں ملا تی ہے آج تک مرمت تک نہ ہوسکی ، ریلو ے اسٹیشن کو جا نے والے راستہ پر تجا وزات کی بھر مار ہے مسافروں کا گز رنا مشکل ہے لیکن مقامی لیڈروں کی اشیر با د سے انہیں کو ئی ہٹا نہیں سکتا ، معلوم ہوا ہے کہ ما چھیوال میں زرعی بینک نہیں ہے سا بق گو رنر خا لد مقبول نے عوام کے مطالبہ پر منظوری بھی دی لیکن مقامی سیا ستدانوں کی نا اہلی کی بنا ءپر آج تک یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا ، حلقہ کے عوام نے لڈن اور ما چھیوال کو سب تحصیل کا درجہ دیئے جا نے کا مطا لبہ کیا ہے ۔ین اے 168میں پیپلز پارٹی کی مو جو د ہ ایم این اے نتا شا دولتانہ تحریک انصاف کے نو اب اسحا ق خان خا کوا نی جو سا بق ایم این اے ہیں ، مسلم لیگ(ن) کے سید ساجد مہدی سلیم شاہ نا ئب ضلع نا ظم وہاڑی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر عارفہ نذیر جٹ کے درمیا ن مقا بلہ ہے ۔ ڈاکٹر عارفہ نذیر پہلی بار میدانِ سیاست میں قدم رکھ رہی ہیں ڈاکٹر عارفہ نذیر سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ کی بیٹی ہیں اور چو ہدری نذیر احمد جٹ ان کی انتخا بی مہم شروع کیے ہو ئے اس حلقہ میں کا نٹے دار مقا بلہ دیکھنے کو ملے گا ، کیو نکہ پی پی کی امیدوار ایم این اے نتاشادولتانہ اپنے حلقہ میں اور کوئی ترقیاتی کا م کروانے میں کامیا ب ہو ئیں ہیں یا نہیں ؟ تا ہم سو ئی گیس کی فراہمی میں وہ بھر پور کو ششیں کر رہی ہیں اور مضبو ط امیدوار ہیں جبکہ تحریک انصاف کے رہنما سا بق ایم این اے نو ا ب اسحا ق خا ن خا کوانی جو پورے پا نچ سال اپنے حلقہ میں عوام سے کو ئی رابطہ نہ رکھ سکے ، اور کبھی کبھار ہی اپنے حلقہ میں آئے ، اور اس حوالہ سے ان کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ جو جیتا ہے وہ عوام کی خد مت کرے ، اس کے باوجو د وہ بھرپور مقا بلہ کی پوز یشن میں ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کے مضبوط امیدوار سید سا جد مہدی سلیم شاہ ہیں لیکن بلال اکبر بھٹی بھی این اے 168اور پی پی 235سے امیدوار ہیں۔ (ن) لیگ میں اگردھڑے بندی ختم نہ ہوئی تو امیدوار قومی اسمبلی کو نقصان ہو سکتا ہے کیو نکہ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی رہنما تہمینہ دولتانہ جو حلقہ این اے169سے ایم این اے ہیں ان کا بیٹاعرفان دولتانہ حلقہ پی پی 234سے صوبا ئی امیدوار ہے ۔ جو اپنی والدہ کے ہمراہ انتخابی مہم چلا ئے ہو ئے ہے جبکہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر سید سا جد سلیم مہدی شاہ صو با ئی امیدوار حلقہ 234افضل کریم بیٹو کے ہمراہ انتخا بی مہم شروع کئے ہو ئے ہیں ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کا صو با ئی ٹکٹ عرفا ن دولتانہ کو ملنے کے زیادہ چا نسز ہیں اس حوالہ سے افضل کریم بیٹو جو اس حلقہ میں پا نچ سال سے محنت کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی نے انہیں ٹکٹ نہ دیا تو وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے ، وہ بھی مضبو ط امیدوار ہیں ۔ بلال اکبر بھٹی بھی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ قومی اسمبلی کا یا صو بائی حلقہ پی پی 235سے ملے وہ پارٹی فیصلہ کے مطابق الیکشن میں حصہ لیں گے وہ صو با ئی حلقہ پی پی235ما چھیوال سے بھی مضبوط امیدوار ہیں ان کے مد مقا بل پیپلز پارٹی کے مو جو د ہ ایم پی اے ملک نو شیر لنگڑیال آئندہ بھی مضبوط امیدوارہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار سا بق ایم پی اے خا لد محمو د چو ہا ن ہیں ان کے درمیان بھی سخت مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے صحیح صورتحال الیکشن کے قریب ہی واضح ہو گی

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -