ڈگریوں کی تصدیق کا مسئلہ ،الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ آمنے سامنے!

ڈگریوں کی تصدیق کا مسئلہ ،الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ آمنے سامنے!
ڈگریوں کی تصدیق کا مسئلہ ،الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ آمنے سامنے!

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تازہ ترین وضاحت اور سپیکر کی طرف سے ڈگریوں کی تصدیق کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے وفاقی وزیر قانون کی قیادت میں آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد یہ مسئلہ دوسری شکل اختیار کر گیا ہے۔ اگر تو تحمل اور بردباری سے کام لیا گیا تو یہ معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھ جائے گا، دوسری صورت میں تنازع بڑھ بھی سکتا ہے جس کے اثرات آئندہ الیکشن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اراکین اسمبلی سے ڈگریوں کی تصدیق طلب کی گئی۔ اس سلسلے میں کمیشن کے ڈائریکٹر لیگل کی طرف سے جو خط لکھا گیا، اسے حزب اختلاف کے قائد چودھری نثار علی خان نے توہین آمیز جانااور پارلیمنٹ میں احتجاج کیا تو سب متفق ہو گئے کیونکہ 232 کے قریب اراکین متاثر ہو رہے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس پر چودھری نثار کو فون کرکے بات کی تو یہ تاثر دیا گیا کہ خط واپس لے لیا گیا اور معذرت بھی کی گئی لہٰذا معاملہ ختم ،لیکن بات یہ نہیں تھی۔ الیکشن کمشن کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کے انداز اور طرز تحریر پر معذرت ہوئی مگر ڈگریوں کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ یوں اب الیکشن کمیشن اور منتخب اراکین آمنے سامنے ہیں۔

یہ صورتحال نیک شگون نہیں، اسے احسن طور پر سلجھنا چاہئے۔ بی اے کی شرط سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف نے 2002ءکے عام انتخابات کے لئے لگائی۔ یہ اور پھر 2008ءوالے انتخابات اسی شرط کے تحت ہوئے، اگرچہ بعد میں عدلیہ اور پھر پارلیمنٹ نے یہ شرط ختم کردی لیکن اس کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوا۔ چنانچہ جعلی ڈگریوں کا معاملہ عدالت تک بھی گیا اور عدالت عظمیٰ نے کارروائی کی ہدایت کی۔ متعدد اراکین جعلی ڈگریوں کے باعث حق نیابت سے محروم ہوئے اور بعض کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے گئے ۔اب الیکشن کمشن سب کی ڈگریوں کی تصدیق چاہتا ہے اور اس کے لئے آسان راستہ یہ اختیار کیا گیا کہ ان اراکین پر ہی بوجھ ڈالا گیا کہ وہ اپنی ڈگریوں کا اصلی ہو نا خود ثابت کریں۔ حالانکہ آسان کام تو یہ تھا کہ اسمبلی سے تعلیمی ریکارڈ کے حوالے سے معلومات جمع کرکے ہائر ایجوکیشن کمشن سے تصدیق کے لئے کہا جاتا، ریکارڈ تو بہرحال تعلیمی بورڈوں اور یونیورسٹیوں ہی کے پاس ہوتا ہے، یہ تصدیق آتی تو اس کے مطابق ان اراکین کو نوٹس جاری کر دیئے جاتے جن کی ڈگریاں درست ثابت نہ ہوتیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ شاید تاخیر کا خدشہ یا پھر ایچ ای سی پر عدم اعتماد ہے۔ اب کوئی بتائے کہ خود منتخب رکن کیوں اپنے پاﺅں پر کلہاڑا مارے کہ جس کی ڈگری مصدقہ نہ نکلی اسے نااہلی اور مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا چنانچہ یہ معاملہ الجھ گیا ہے۔ حل اب بھی تعلیمی اداروں ہی کے پاس ہے اور الیکشن کمشن کو اس طرف بھی توجہ دینا چاہئے کہ معاملہ صادق اور امین کا ہونے کے علاوہ نااہلیت کا بھی ہے۔

جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے تو تعلیم کی کوئی پابندی نہیں اور آنے والی اسمبلی گریجوایٹ اسمبلی نہیں ہو گی، یوں بھی عوامی نمائندگی کے لئے ڈگری کی شرط عجیب ہے۔ ہمارے ملک میں شرح خواندگی شرمناک حد تک کم ہے چہ جائیکہ یہاں ڈگری والے حضرات تلاش کئے جائیں۔ ہم نے اپنی صحافتی زندگی میں متعدد ایسے پارلیمینٹیرین ایوانوں میں دیکھے اور ان کی بہترین کارکردگی نظر آئی جو ڈگری ہولڈر نہیں تھے لیکن تجربے کی بناءپر ان کا پارلیمانی علم وسیع تھا۔ ایسے ہی ایک رکن رانا پھول محمد خان (مرحوم) بھی تھے جن کو اسمبلی کے قواعد ضوابط از بر تھے اور ہمیشہ حوالہ دے کر بھی بات کرتے تھے۔ اس لئے یہ شرط ختم ہو جانا تو اچھی بات ہے لیکن 2002ءاور 2008ءکا کیا کیا جائے جب پابندی تھی اور اسے جعلی ڈگریوں نے داغدار کیا۔

اس وقت ملک کو استحکام، امن اور اس کے ساتھ ہی عام انتخابات کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے ساز گار ماحول ہونا چاہئے، محاذ آرائی قطعاً نہیں ہونا چاہئے۔ توقع کرنا ہو گی کہ پارلیمانی کمیٹی یہ راہ اختیار نہیں کرے گی اور الیکشن کمیشن بھی درمیانی راہ نکالے گا ، کیونکہ اس الیکشن کمیشن پر طاہر القادری کے اعتراض کے باوجود سب کو اعتماد ہے۔

ڈگریوں کا مسئلہ

مزید :

تجزیہ -