کیا دبئی میں صدر زرداری اور گورنر عشرت العباد کی ملاقات متوقع ہے

کیا دبئی میں صدر زرداری اور گورنر عشرت العباد کی ملاقات متوقع ہے
کیا دبئی میں صدر زرداری اور گورنر عشرت العباد کی ملاقات متوقع ہے

  

سندھ اسمبلی نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس 2012ءواپس لے کر 1979ءکا بلدیاتی نظام بحال کیا تو گورنر عشرت العباد خاموشی سے بیرون ملک چلے گئے، اُن کی آخری منزل تو لندن بتائی گئی تھی لیکن شنید ہے کہ وہ ابھی تک دبئی میں ہی ہیں، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری بھی گزشتہ رات پہنچ گئے۔ دونوں میں ملاقات اگر ابھی تک نہیں ہوئی تو امید ہے جلد ہو جائے گی، شاید ملاقات کے لئے ہی وہ ابھی تک دبئی میں رکے ہوئے ہیں۔ بہرحال اُن کی غیرحاضری میں قائم مقام گورنر سپیکر نثارکھوڑو نے 1979ءکے بلدیاتی نظام کی بحالی کے بل پر دستخط کردیئے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ گورنر عشرت العباد اس بل پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تھے، اسی لئے وہ نجی دورے پر ملک سے باہر چلے گئے۔

گورنر عشرت العباد کو یہ اعزاز حاصل ہوچکا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مدت تک گورنر کے عہدے پر فائز چلے آرہے ہیں۔ انہیں جنرل پرویز مشرف نے گورنر مقرر کیا تھا اور وہ اب تک اس عہدے پر متمکن چلے آرہے ہیں۔ ماضی میں ایک دو مواقع پر ایسی صورت حال پیدا ہوگئی تھی کہ شاید انہیں استعفا دینا پڑتا، لیکن معاملات حل ہوگئے۔ 2008ءکے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم وفاق اور صوبہ سندھ میں حلیف چلی آرہی تھیں، اس دوران کئی مواقع پر ایم کیو ایم حکومت سے الگ بھی ہوئی، ناراض بھی ہوئی، اسکے وزراءنے اپنے عہدوں سے استعفے بھی دیئے، لیکن بالآخر مان گئے اور دوبارہ کام شروع کردیا۔ روٹھے ہوﺅں کو منانے میں گورنر عشرت العباد کا بھی کردار رہا ہوگا، کیونکہ وہ بھلے سے گورنر ہیں، لیکن وہ ایم کیو ایم کے بھی باقاعدہ رکن ہیں اور اس لحاظ سے اپنی پارٹی قیادت کے بھی وفادار چلے آرہے ہیں اور اب تک ہیں۔ صوبے کے سب سے بڑے عہدے پر فائز رہتے ہوئے بھی انہوں نے ایم کیوایم کے مفادات کا خیال رکھا۔ اِس وقت بھی وہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے تھے اور صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے کہا بھی ہے کہ اب یہ پل ٹوٹ گیاہے۔

ابھی تک یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ کیا ڈاکٹر عشرت العباد مستعفی ہوجائیں گے؟ اُن کے استعفے کی قیاس آرائیاں ضرور ہوتی رہیں، اِن قیاس آرائیوں کو اس وقت ہوا ملی جب ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے بعض وزیروں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد ڈاکٹر عشرت العباد بھی استعفا دے دیں گے، لیکن تاحال اُن کا باقاعدہ استعفا منظرعام پر نہیں آیا۔ ایوانِ صدر نے بھی استعفے کی تردید کی ہے۔

اب وہ دبئی میں ہیں تو یہ قیاس آرائیاں بھی ہورہی ہیں کہ اُن کی صدر زرداری سے ملاقات ہوگی، لیکن کراچی میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسے ڈاکٹر عشرت العباد کے قیام دبئی کا مقصد معلوم نہیں اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ واقعتا دبئی میں ہیں اور اگر وہاں ہیں تو اُن کے قیام کا مقصد کیا ہے؟ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایم کیو ایم کی صوبائی قیادت اپنے گورنر کے بارے میں اس طرح کی سردمہری کا اظہار کررہی ہے، جس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں گورنرعشرت العباد اور ایم کیو ایم کی قیادت کے درمیان فاصلے تو پیدا نہیں ہوگئے اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ فاصلے کس نوعیت کے ہیں اور کیا ایسے ہی فاصلوں کی وجہ سے گورنر عشرت العباد کچھ دن کے لئے کراچی کے اُفق سے غائب ہوگئے ہیں؟ یہ صورت حال اس لئے بھی حیران کن نظر آرہی ہے کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہوتی رہی، لیکن کبھی ایسی صورت پیدا نہیں ہوئی کہ گورنر کے بارے میں اس طرح کے ٹھنڈے ٹھار جذبات کا اظہار کیا گیا ہو۔ بہرحال اب اگر گورنر عشرت العباد کا استعفا منظر عام پر نہیں آتا، تو قیاس آرائیوں کا دائرہ پھیلتا رہے گا اور لوگ اپنے اپنے انداز میں اس پر تبصرے بھی کرتے رہیں گے۔

صدر زرداری اور عشرت العباد کی ملاقات

مزید :

تجزیہ -