بعض امیدوار عملے کی ملی بھگت سے اپنے حق میں ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ظاہر کرتے ہیں

بعض امیدوار عملے کی ملی بھگت سے اپنے حق میں ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ظاہر کرتے ...

  

لاہور(انویسٹی گیشن سیل ) پوسٹل بیلٹ عام انتخابات میںدھاندلی کا بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ بعض امیدوار ،ریٹرننگ افسروں یا ان کے ماتحت عملے سے ملی بھگت کرکے اپنے حق میں ہزاروں کی تعداد میں پوسٹل بیلٹ کا استعمال ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ اصل ووٹر نہ تو ووٹ کاسٹ کرتا ہے اور نہ اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کا ووٹ استعمال ہوچکا ہے۔ پوسٹل بیلٹ کا اس انداز سے استعمال مجموعی نتائج کو بھی متاثر کرتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پوسٹل بیلٹ پاکستان میں رگنگ اور دھاندلی کا اہم ذریعہ بھی بن گیاہے اور بہت سے امیدوار اس حوالے سے باقاعدہ پلاننگ کرکے ریٹرننگ افسر یا اس کے ماتحت عملے کی ملی بھگت سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں ایک، دو یا تین ہزار ووٹ بذریعہ پوسٹل بیلٹ ڈالے گئے ہیں حالانکہ اصل ووٹر نے نہ تو ووٹ کاسٹ کیا ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کا ووٹ کاسٹ کیا جاچکا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پوسٹل بیلٹ کے لیے لازمی ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون 1976کے سیکشن 29کے تحت پوسٹل بیلٹ کے تحت ووٹ کاسٹ کرنے کا خواہشمند شخص اپنے ووٹ کی تفصیلات پر مبنی ایک درخواست اپنے حلقے کے متعلقہ ریٹرننگ افسر کو بذریعہ ڈاک بھیجے اور ریٹرننگ افسر تصدیق کرنے کے بعد ایسے شخص کو بذریعہ ڈاک بیلٹ پیپر ارسال کر تا ہے۔ لیکن عام طورپر جعلسازی کرنے والے امیدوار اور متعلقہ عملہ گنتی کی چند ایک درخواستیں موصول ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں پوسٹل بیلٹ کا استعمال ظاہر کرتے ہیں۔اس سلسلے میں جعلسازی کرنے والاامیدوار پولنگ سے قبل اپنے حلقے میں موجود ایسے سرکاری ملازمین اور دیگر ووٹروں کی تفصیلات اکٹھی کرواتا ہے جو ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں حلقے یا شہر سے ہی نہیں بلکہ ملک سے بھی باہر مقیم ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے بعد پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ان کے ووٹ کا استعمال ظاہر کیا جاتا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی حلقے یا شہر سے باہر مقیم ظاہر کرکے یہ دھاندلی کی جاتی ہے اوریہ دھاندلی بعد ازاں مجموعی نتائج کو بھی متاثر کرتی ہے۔ 2008ءکا الیکشن لڑنے والے ایک امیدوار کے مطابق اس کے حلقے میں ایک مخصوص جماعت کے امیدوار نے اڑھائی ہزار پوسٹل بیلٹ جعلسازی کرتے ہوئے استعمال کیے اور اس عمل میں متعلقہ عملہ بھی ملوث تھا۔ امیدوار کا کہناتھا کہ پوسٹل بیلٹ میں اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس ووٹر کا جعلی ووٹ کاسٹ کیا جاتا ہے، وہ بعد ازاں ووٹ کاسٹ کرنے ازخود چلا آتا ہے اور پولنگ سٹیشن پر آکر اسے پتا چلتا ہے کہ اس کا ووٹ تو پہلے سے ہی استعمال ہوچکا ہے۔

پوسٹل بیلٹ/ دھاندلی

مزید :

صفحہ اول -