اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے

اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے
 اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے

  

ڈیفنس لاہور کئی لحاظ سے کاروبار اور رہائش کے لیے محفوظ ترین ہاؤسنگ سکیم سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف اپنی لوکیشن کے اعتبار سے آئیڈیل ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی اسکی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ اس میں پاکستان کے سول و عسکری افسران کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ارب پتی ایلیٹ رہائش پذیر ہے۔ ساتھ ہی کنٹونمنٹ ، کورکمانڈر آفس اور اعلیٰ ترین آرمی آفیسرز کی رہائشی گاہیں ہیں۔ ڈیفنس لاہور میں کراچی سے لیکر خیبر تک جب بھی امن و امان اور سکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہوا تو وہاں سے ہجرت کرنے والے امیر زادوں یا مڈل کلاسیوں کی آخری منزل ڈیفنس لاہور ہی بنا۔ اسی طرح اورسیز پاکستانیز کی ایک بڑی تعداد بھی ڈیفنس لاہور میں رہائش پذیر ہے۔

ان تمام افراد جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ان کے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی بات ایسی ہے کہ ڈیفنس لاہور میں رہائش اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کی پراپرٹی محفوظ ہے آپکی فیملی اور بچے محفوظ ہیں اور یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی مگر حالیہ دھماکے کے بعد میں نے ڈیفنس میں جس قدر خوف ہراس کی کیفیت دیکھی ایسی صورتحال میں نے پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونیوالے دھماکوں کے بعد نہیں دیکھی اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ ڈیفنس کے لوگ چونکہ نسبتاً دوسرے علاقوں کے افراد کی نسبت زیادہ امیر ہیں تو ان کو موت سے زیادہ ڈر لگتا ہے ایسا ہر گز نہیں اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ڈیفنس کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہیں اس لیے وہ پرامن رہنا پسند کرتے ہیں۔ وائی بلاک ڈیفنس لاہور کا دل ہے یہ وہ کمرشل ایریا ہے جو ڈیفنس لاہور کی آباد کاری اور پہنچان کا باعث بنا اگر ڈیفنس لاہور کی وجہ سے بہت سے علاقے ‘ کمرشل بلڈنگز اور ایریاز جانے اور پہچانے جاتے ہیں تو ڈیفنس لاہور وائی بلاک کمرشل ایریا کی وجہ سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایسا کمرشل ایریا ہے جہاں رات کے 12 بجے اور صبح کے 4 بجے بھی چہل پہل اور رونق ہوتی ہے۔ فیمیلیاں شاپنگ کے لیے آتی ہیں اور دور دراز سے لوگ کھانا کھانے آتے ہیں۔ ڈیفنس کا سب سے با رونق شیبا پارک بھی وائی بلاک کی خوبصورتیوں میں اضافہ کرتا ہے جہاں ہم دو درجن کے لگ بھگ دوست ہفتے میں کم از کم چھ دن صبح کی واک اور یوگا کرتے ہیں۔ ڈیفنس وائی بلاک میں دھماکے کے حوالے سے گزشتہ تقریباً 9 روز سے سکیورٹی الرٹ جاری ہو رہے تھے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خوب بحث چل رہی تھی کہ کسی بھی وقت ڈیفنس وائی بلاک کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ڈیفنس کے رہائشیوں سمیت پورے لاہور کے باسیوں میں ایک خوف کی کیفیت تھی کیونکہ گزشتہ کئی روز سے ڈیفنس کی وائی بلاک مارکیٹ کو چاروں طرف سے بند کر کے جگہ جگہ پولیس ناکے لگا کر آنے اور جانے والوں کی تلاشی لینے کا سلسلہ جاری تھا حتیٰ کہ صبح پارکوں میں واک کرنے کے لیے داخل ہونے والوں کی بھی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ ڈیفنس اور کینٹ کے علاقہ میں انٹری کا مطلب جوئے شیر لانے کے مترادف تھا یعنی آپ نے اگر کینٹ اور ڈیفنس میں داخل ہونا ہے تو آپ کو انٹری پوائنٹ پر لگائے گئے چیکنگ ناکے سے گزرنے اور تلاشی وغیرہ کے لیے ایک سے دو گھنٹے کا اضافہ وقت درکار ہے۔ ڈیفنس اور کینٹ میں جانے والے لوگ سکیورٹی اور ناکوں سے باقاعدہ تنگ آچکے تھے اس کے باوجود فوج کے زیر انتظام ہاؤسنگ سوسائٹی کی سب سے اہم اور معروف ترین مارکیٹ میں دھماکہ کرنے والوں نے ریاستِ پاکستان کے تمام اداروں کو پیغام دیا ہے کہ ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں دھماکہ کر سکتے ہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح مال روڈ کے دھماکے پشاور اور کوئٹہ کے دھماکے میں بھی یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی دوسری طرف ہم ایک طرف سپریم کورٹ کے اندر اور باہر آپس میں دست و گریبان ہیں۔ ضرب عضب ، راہِ حق، راہِ نجات کے بعد اب نئے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف نئے آپریشن ردالفساد کا آغاز کر دیا ہے اور اسی حوالے سے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اب آپریشن رد الفساد کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کروایا جائیگا۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ اب تک کے سابقہ آپریشن شاید نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں ۔ حکومت اور حکمران پارٹی سپریم کورٹ کے اندر اور باہر بادشاہ سلامت کو بچانے کے لیے صبح و شام ایک کئے ہوئے ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ پورے ملک میں ایک ساتھ آپریشن ہونا چاہئے سپہ سالار فرماتے ہیں کہ دشمن کچھ بھی کر لے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ بھارت پی ایس ایل کے فائنل کو رکوانے کے لیے دہشت گردی کروا رہا ہے۔ جبکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ سی پیک کی قیمت تو پاکستان کو ادا کرنی ہے۔ پھر ہم روزانہ کی بنیاد پر بیانات بھی جاری کرتے ہیں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں پوری قوم سکتے کے عالم میں ہے سول اور عسکری قیادت اور اداروں کے کرتا دھرتاؤں سے سوال کر رہی ہے۔ آپ اگر کہتے ہیں کہ اکنامک کوریڈور دشمن کو ہضم نہیں ہو رہا دشمن ہماری کرکٹ کو بھی برداشت نہیں کرتا پاکستان کے وجود سے بھی دشمنوں کو مسئلہ ہے اور ہم حالت جنگ میں بھی ہیں کیا قومیں اس طرح جنگیں لڑا کرتی ہیں؟ کیا ہم تمام اداروں کو چوکنا کر کے اگر ڈیفنس کی ایک مارکیٹ کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو ہم دشمن کو شکست دیکر اس جنگ میں کامیابی کیسے حاصل کریں گے۔ پاکستان کو پر امن کیسے بنائیں گے۔ سی پیک کے نام پر ہم دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے اور سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے رہے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ سرمایہ اور سرمایہ کار ایسے حالات میں کیسے پاکستان کا رخ کرینگے۔ ہمیں اپنی اداؤں پر غور کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردی کی جنگ کو جیتنے کے لیے میکنزم ترتیب دینا ہوگا ورنہ ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ ہوگا:

بدترین حالات میں ایک دوسرے پر تنقید اور بلیم گیم کے ذریعے قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے والوں کیلئے صرف اتنا ہی عرض کر سکتا ہوں۔

تازہ ہوا کے شوق میں اے ساکنانِ شہر

اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے

مزید :

کالم -