دہشت گردی کے عجب  بیانیے

دہشت گردی کے عجب  بیانیے
دہشت گردی کے عجب  بیانیے

  

اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں سائنسی ترقی اپنے عروج پرہے۔سائنسی ترقی کی وجہ سے انسانی زندگی میں جتنی آسانیاں آج کے دور میں ہوئیں دنیا کی معلوم تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔چاند اورمریخ تک انسان جا پہنچا۔مصنوعی بارشوں،مصنوعی زلزوں،مصنوعی کھیتیوں،سبزیوں،پھلوں اورمصنوعی گوشت سے لے کر انسانی وحیوانی اعضاء کے متبادل اور زمین وآسمان کی فضاؤں اور تہوں تک پرانسان نے گرفت حاصل کرلی۔موت وحیات پر قابو پانے کے لیے زبردست کوششیں جاری ہیں۔مشیتِ خداوندی کی وجہ سے مکمل طور پر اگرچہ قابونہیں پایاجاسکتا ،لیکن بہرحال ابتدائی طور پر بڑے بڑے ہسپتالوں اور جدیدقسم کی ادویہ کی صورت اس پر کسی حدتک کنٹرول حاصل کرلیا گیاہے۔لیکن حیرت انگیز طور پر اکیسویں صدی کے سائنسی دورکے اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود آج تک سائنس دہشت گردی کے بیانیے کی کوئی واضح اور متفق علیہ تعریف کرپائی ہے،نہ دنیا کے ذہین دماغ دنیا کو کسی دہشت گردی کے کسی ایک بیانیے پر جمع کرپائے ہیں۔ہرملک،ہرقوم ،ہرمذہب اور ہرتہذیب میں دہشت گردی کابیانیہ الگ الگ ہے۔کہیں دہشت گردی کے بیانیے کو اسلام سے جوڑا جاتاہے تو کہیں صلیبیوں اور صہیونیوں کو دہشت گرد کہا جاتاہے۔کہیں معصوم لوگوں پر وحشیانہ بمباری کرنے والوں کو دہشت گردی کے بیانیے کا حامل ٹھہرایا جاتاہے تو کہیں خودکش بمباروں کو دہشت گرد قراردیا جاتاہے،کہیں طالبان کو دہشت گرد کہاجاتاہے تو کہیں داعش کو ۔کہیں اچھے اور برے طالبان کی تفریق کرکے دہشت گردی کے بیانیے میں تبدیلی کی جاتی ہے،تو کہیں حقانی گروپ اور افغان طالبان گروپ سے مذاکرت کرکے دہشت گردی کے بیانیے میں استثناء پیداکیاجاتاہے۔کبھی سیاسی جماعتوں کے ٹارگٹ کلرز کو دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑا جاتاہے تو کبھی عام مسلکی جماعتوں کو اس بیانیے کا ذمہ دار ٹھہرایاجاتاہے۔لیکن دہشت گردی کے مروجہ بیانیے کا بغور جائزہ لیا جائے تو آج کے دور میں اسلام کو دہشت گردی کا بیانیہ سمجھاجانے لگاہے۔

بین الاقوامی منظرنامے میں دہشت گردی کے اسی بیانیے کو زبان زد عام کروایا گیا۔ اسلام ایسے دنیا کے پرامن مذہب کے خلاف تاریخ کی یہ بدترین خیانت دراصل اسلام کے دشمنوں نے کی ہے۔لیکن افسوس ان دشمنوں کی دیکھادیکھی آج بہت سے مسلمان شعوری اور لاشعوری طور پر دہشت گردی کے اس مزعومہ بیانیے کو مذہبِ اسلام سے جوڑنے لگے ہیں۔منافقت یا جہالت کا حال دیکھئے کہ یہی لوگ ڈھنڈورا پیٹتے پائے گئے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

دہشت گردی کا دوسرا بیانیہ وہ ہے جو ہمارے ہاں رائج ہے۔ حالیہ دنوں پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی جو مذموم لہر بڑھکائی گئی،بجائے اس کے کہ درندگی کرنے والے اصل عناصر کو پکڑکر پوری قوم کے سامنے لایا جاتا اور انہیں سرعام پھانسی دی جاتی تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔لیکن افسوس پہلے کی طرح اس بار بھی ہرمسلک، ہرفکر،ہرجماعت اور ہرادارے نے دہشت گردی کی اس مذموم لہر کودہشت گردی کے بیانیے کے نام پر اپنے مخالفین کے سر تھونپ کر عوام کو خاموش کرادیا۔ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حالیہ المناک سانحات پرروٹین کے مطابق عوام کی حفاظت اوران کی نمائندگی کا دم بھرنے والوں کے مذمتی بیانات سامنے آگئے،زخمیوں کی عیادت کے نام پر فوٹوسیشن کرلیاگیا۔مظلوم مرنے والوں کے لاوارث اور یتیم بچوں کوکچھ پیسے دے کر خاموش کرادیا گیا۔عوام کی حفاظت کرنے والوں نے پہلے کی طرح دہشت گردی کے ان واقعات کے بعدچند دہشت گردوں کا ٹھکانے لگادیا۔رہی عوام تو وہ بھی روٹین کے مطابق ان سانحات کو دوچاردن میں بھول جائی گی،جب کہ حکومت گزشتہ پندرہ سالوں کے سانحات کی طرح ان سانحات کو بھی داخل دفتر کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہوجائی گی۔یہ ہے دہشت گردی کاوہ بیانیہ اور اس بیانیے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال جوگزشتہ دس سالوں سے ہمارے ہاں رواج پذیر ہے۔دہشت گردی کے اس بیانیے سے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ہماری قوم،ہمارے ادارے دہشت گردی کے اس بیانیے سے کس قدر واقف ہیں اور کس قدر اس بیانیے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔غور کیا جائے تو دونوں بیانیوں میں فرق بس اتنا ہے کہ بین الاقوامی منظرنامے میں دہشت گردی کے بیانیے کو مذہب اسلام سے جوڑاجاتاہے،جب کہ ہمارے ہاں مذکورہ تفصیل کی شکل میں وسعت دی جاتی ہے اگرچہ کچھ بیمار ذہن ہمارے ہاں بھی اسلام اور مذہبی فکر کو دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑتے پائے گئے ہیں۔

بہرحال دہشت گری کے دونوں بیانیوں کوسامنے رکھ کر اگرہرقسم کی دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دینا اور ملک کو پرامن بنانا ہوتو اس کے لیے سب سے پہلا کام ہمیں اپنے نظام انصاف کو آزاد اور خود مختار کرنا ہوگا۔بھلاجس نظام میں ایک آدمی سو سے زائد قتل کرنے کے بعد بھی زندہ رہے،جس نظام میں ٹارگٹ کلرز رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں اور پھر انہیں آنکھوں سے اوجھل کردیاجائے،جس نظام میں سیاسی جماعت کے مشیر اور اہم عہدیدا ر پیسوں کے لیے مطلوب مجرموں کا ہسپتال میں علاج کرائیں،جس نظام میں منی لانڈرنگ کرنے والے کرپٹ لوگوں کے ایجنٹوں کوایمان دار افسر گرفتار کریں اور اگلے دن انہیں ابدی نیند سلادیا جائے،جس نظام میں کرپٹ اور خائن حکمران واضح ثبوتوں کے باوجود عدالتوں سے سزا نہ پاسکیں ،بتائیے ایسے نظام کے ہوتے ہوئے ملک میں دہشت گردی کا بیانیہ پروان نہیں چڑھے گا تو اور کیا کرے گا۔دہشت گردی کاایک تیسرا بیانیہ یہ ہے،جس کوکسی خاص فکر،مسلک،مذہب،زبان،قوم،قبیلہ،صوبہ،شہر اور ملک سے وابستہ نہیں کیاجاسکتا۔بلکہ دہشت گردی کے اس بیانیے کا مقصد نظام ِ عدل کا گھلا گھونٹنا اورمجرموں کو سزاؤں سے بچانا ہے،جس کے نتیجے میںبدترین سانحات رونما ہوتے ہیں۔غور کیا جائے توآج تک ہمارے ہاں دہشت گردی کے جتنے افسوس ناک سانحات ہوئے ان کے پیچھے دہشت گردی کا یہی بیانیہ کارفرما رہا۔دہشت گردی کے اس بیانیے کو لوگوں کی نظروں سے محو کرنے کے لیے دہشت گردی کو کبھی کسی خاص فکر سے جوڑا گیا تو کبھی کسی خاص جماعت سے اس کے تعلق کو دکھایاگیا۔نتیجتاًاصل مجرم درندگی کرنے کے بعد ہمیشہ چھپتے رہے اورعوام کو باہم لڑا کر وقتا فوقتاخون میں نہلایاجاتارہا۔گزشتہ چند مہینوں میں ہونے والے المناک سانحات کے بعد ماضی کی طرح دہشت گردی کے اس بیانیے کونئے اندازمیں داعش کے ساتھ بھی جوڑا جارہاہے۔حیرت اس پر ہے کہ یہی داعش ہے جس کے نام پر ہنستے مسکراتے شام کو کھنڈر بنادیا گیا۔یہی داعش ہے جس کی وجہ سے عراق کے نہتے لوگوں کا قتل عام کیا جارہاہے اور یہی داعش ہے جس کا ہوا کھڑا کرکے ترکی ،سعودی عرب ،مصر اور دیگر خلیجی ممالک کو مسلسل بدامنی کا شکار کیاجارہاہے ۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک دہشت گردی کے موہوم بیانیے کی وجہ سے خون میں لت پت ہوتے رہیں گے؟کیا ہمارے لیے طالبان کے نام پر دہشت گردی کےخلاف لڑی جانے والی مزعومہ جنگ کافی نہیں؟کیا اچھے اور برے طالبان کی تفریق سے ہمارے جسموں کونہیں نوچاگیا؟توپھر کیوں اب داعش کے نام پر عوام کے خون بہانے کا ارادہ ہے۔عوام اور وطن عزیز کو پرامن بنانے کے لیے صرف ایک کام کرلیاجائے توان شاء اللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف ہرقسم کی دہشت گردی کا بیانیہ ختم ہوجائے، بلکہ دہشت گردی کی متنازع تعریف بھی حل ہوجائے اور وہ ہے بلاتفریق،بغیر کسی دباؤ کے فوراًانصاف مہیاکرنا ، مجرموں کو بغیر کسی لالچ یا دباؤ یا پسند ناپسند کی بنیاد پر کیفرکردار تک پہنچانا اورجو لوگ مسلکی یاقومی یا ملکی یا خاندانی بنیاد پر لوگوں کو بدنام کرکے تہمتیں لگائیں   انہیں کٹہرے میں لاکر ان کا احتساب کرنا۔

.

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -