ڈیفنس دھماکے کے ایک شہید کے دل کی آواز

ڈیفنس دھماکے کے ایک شہید کے دل کی آواز
ڈیفنس دھماکے کے ایک شہید کے دل کی آواز

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈیفنس کے علاقے میں ہونیوالے دھماکے میں جہاں ایک پادری اپنے بیٹے کے سہارے سے محروم ہوگیا، وہیں کئی ماﺅں نے بیٹے اور کئی بیگمات اپنے سہاگ سے جدا ہوگئیں، کئی کمپنیاں اپنے چیف ایگزیکٹوآفیسر سے محروم ہوگئیں تو وہیں کئی بچوں کے سر سے باپ کا سایہ شفقت ہی اٹھ گیا ،آنکھوں میں روشن مستقبل کے کئی خواب سجائے اور کچھ پچھتاوے لے کر دن کے پہلے پہر لاہور کے پوش علاقے میں پہنچنے والوں نے شاید سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایسا سانحہ بھی ہوسکتا ہے جس میں اُنہیں اپنی جان تک کی قربانی پیش کرنا پڑسکتی ہے ۔

ایسی ہی کچھ کہانی موبائل کمپنی کے ویئرہاﺅس انچارج جاوید اقبال کی ہے جواپنی کمپنی کے سی ای او سمیت ڈیفنس کے زید بلاک کے بدقسمت پلازے میں پہنچا اور ’پراسرا‘ دھماکے کے نتیجے میں موبائل فونز کی ڈسٹری بیوٹرکمپنی کے سی ای اومعظم حیات پراچہ اور دودیگرساتھی ملازمین سمیت شہید ہوگیا، جاوید اقبال کی تدفین بندیال میں کردی گئی ۔جاوید اقبال جہاں ایک وفاءدار شوہر اور بیٹیوں کا شفیق باپ تھا ، وہیں رشتہ داروں کو بھی کبھی نہیں بھولے لیکن ان کے بھی کچھ پچھتاوے تھے جن پر اب وہ وقت گزرجانے کے بعد سوچ بچار میں رہتے تھے لیکن گیا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

جاوید اقبال کا پچھتاوا بھی کوئی ایک نہیں تھا جس کا مداوا کرنے کی کوشش میں وہ جلد ہی کامیاب ہوپاتے، یہ پچھتاوے ان کی پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے تھے ۔جاوید اقبال کی اپنی سوچ اور پچھتاوے کچھ یوں تھے’جب موقع تھاتب سفر نہیں کیا، ناکام رشتے نبھانے کی کوشش میں لگے رہے،لوگ کیا کہیں گے؟اس کی بہت فکرکی، پیارکا اظہار کرنے سے کتراتے رہے،زندگی کا بیشترحصہ کام میں وقف کردیا، اپنی اولاد کیساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا، اپنے والدین کو زیادہ وقت نہیں دیا، خوف کے باعث اپنے دل کی نہیں سنی، جس کام میں دل نہیں لگتا تھا، وہی نوکری کرتے رہے،آپ کتنے خوبصورت ہیں؟اس بات کو ہی نہ پہچان سکے،یادرکھیں زندگی کی نعمت ایک بار ملتی ہے،زندگی بھرپورطریقے سے بے خوف ہوکر گزاریں، اپنوں میں پیار بانٹیں اور خوش رہیں۔

یہ واقعی ہی جاوید اقبال کے اپنے ہی احساسات تھے جو اُنہوں نے اپنی شہادت (23جنوری )سے دودن قبل یعنی 21جنوری کو سہہ پہر سوا ایک بجے ایک ویڈیوکی صورت میں چند دوستوں کیساتھ شیئرکردیئے تھے اور یہی ان کی سوشل میڈٖیا پر آخری پوسٹ بھی قرارپائی جس کے بعد ان کی ٹائم لائن پر دوست احباب کی طرف سے آخرت میں اعلیٰ مقام ملنے کی دعاﺅں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

شہداءہمیشہ کیلئے قوم کے دلوں میں گھر کرکے اس دنیا فانی سے پردہ کرگئے لیکن دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطاءفرمائے ۔آمین۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ