پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کریں،دہشتگردی میں سب سے زیادہ نقصان پشتونوں کا ہوا ،پشتون پہلے دہشت گرد تھا نہ اب ہے ، :محمود خان اچکزئی

پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کریں،دہشتگردی میں سب سے ...
پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کریں،دہشتگردی میں سب سے زیادہ نقصان پشتونوں کا ہوا ،پشتون پہلے دہشت گرد تھا نہ اب ہے ، :محمود خان اچکزئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کریں ، وہ ریاستیں جنہوں نے افغانستان کی بربادی میں حصہ لیا تھا اب افغانستان کے استحکام کی ضمانت دیں، جب یہ ضمانت ملے تب پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے کیساتھ تعاون کریں اور دونوں نے ایک دوسرے کے دشمنوں کو پناہ نہیں دینا ہوگی ،پاکستان اور افغانستان کو ترقی و خوشحالی کیلئے اپناکردار ادا کرتے ہوئے موجودہ حالات میں تصادم سے گریز کرنا چاہئے ۔

’’ غیرملکی خبررساں ادارے ‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغان مہا جرین ہماری یا اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے یہاں آئے ہیں، اسی طرح افغان مہا جرین دنیا کے دیگرترقی یا فتہ ممالک میں بھی پناہ لے چکے ہیں، افغانوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت یہاں رہنے کا حق دیا جائے ،دنیا میں یہ شوشہ چھوڑا جا رہا ہے اور ایک سازش کے تحت پشتونوں کو دہشت گرد اور فرقہ پرست قرار دیا جا رہاہے ،لیکن ہماری تاریخ ایسی ہے کہ ہم پشتون دنیا جہاں کی تاریخ میں نہ کبھی دہشت گرد اور نہ ہی فرقہ پرست رہے ہیں، تمام باشعور پشتون اور مثبت سوچ رکھنے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دنیا کو بتادیں کہ نہ ہم پہلے دہشت گرد تھے اور نہ اب دہشت گردی پر یقین رکھتے ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان پشتونوں نے اٹھایا،پھر بھی ہمیں ان القابات سے نوازا جارہا ہے جو کسی بھی صورت درست نہیں،ہم اپیل کر تے ہیں کہ پشتونوں کو دہشت گرد پکارنے سے اجتناب کریں، البتہ ہم نے بحیثیت قوم تاریخ میں اپنی مٹی اور اپنی سر زمین ، اپنی مادر وطن اور اپنی خود مختاری پر خاموش نہیں رہے۔

محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اپنی بساط کے مطابق اپنے تمام دوستوں کو بہت پہلے سے یہ کہا ہے کہ اگر یہ پالیسی ایسی رہے گی تو یہ تمام خطہ جنگ کے شعلوں میں جل جائے گا لہٰذا پالیسیوں پر نظرثانی کر کے حالات کو مستحکم کریں ،افغانستان کی جنگ میں پوری دنیا ملوث رہی ہے، ایک طرف امریکہ کی رہبری میں اور دوسری طرف سے سویت یونین کے دوستوں کی جانب سے،جب سوویت یونین کی فوجیں نکل پڑیں تو اس کے بعد جنگ کو کیوں جاری رکھا گیا؟ اب ہو نا یہ چا ہئے کہ وہ ریاستیں افغانستان کے استحکام کی ضمانت دے دیں اور جب یہ ضمانت ملے تب بالکل پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ یہ وعدہ کریں کہ ہم نے ایک دوسرے کے دشمنوں کو پناہ نہیں دینی ہو گی ،دونوں آزاد مملکتوں کو بین الاقوامی گارنٹی دینا ہو گی کہ ایک دوسرے کے ناراض لو گوں کو ٹریننگ ، اسلحہ، مسلح ٹھکانے، ٹریننگ کیمپ اور دیگر بربادیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید :

قومی -