عدالتی فیصلوں پر تنقید ، کوڈ آف کنڈکٹ نے اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی زباں بندی کر رکھی ہے

عدالتی فیصلوں پر تنقید ، کوڈ آف کنڈکٹ نے اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی زباں بندی کر ...
عدالتی فیصلوں پر تنقید ، کوڈ آف کنڈکٹ نے اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی زباں بندی کر رکھی ہے

  

تجزیہ :سعید چودھری

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے کئی راہنماؤں کی طرف سے عدالتی فیصلوں پر تنقید کی جارہی ہے ۔نہ صرف یہی بلکہ ججوں کے رویہ پر بھی گفتگو ہورہی ہے ۔عدالتی ریمارکس کی شکل میں گاہے بگاہے اس تنقید کا جواب بھی سامنے آتارہتا ہے ۔ایک طرف آئین عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈہ اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے روکتا ہے تو دوسری طرف عدلیہ کے ارکان کو بھی کوڈ آف کنڈکٹ کا پابند بناتا ہے ۔کوڈ آف کنڈکٹ کی عدم پاسداری ججوں کے آئینی حلف کی خلاف ورزی ہے ۔اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی انسان ہیں تاہم کوڈآف کنڈکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے تنقید کا نشانہ بننے والے جج صاحبان کی طرف سے انتہائی محتاط رویہ اورردعمل دیکھنے میں آرہا ہے ۔ آئین کے آڑٹیکلز 178اور194کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں سے جو حلف لیا جاتا ہے وہ آئین کے شیڈول3میں درج ہے ،جس میں جج اس بات کا بھی صدق دل اور خلوص نیت سے حلف اٹھاتا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ (ضابطہ اخلاق )کی پابندی کرے گا۔آئین کے آرٹیکل 209(5)بی کے تحت مس کنڈکٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے ،صدر مملکت (وزیراعظم کی ایڈوائس پر)مس کنڈکٹ پر کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیج سکتا ہے جبکہ آئین کی 18ویں ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو از خود کارروائی کا اختیار بھی حاصل ہے ۔

ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل ایک میں کہا گیا ہے کہ زمین اور آسمان عدل (توازن)کے ساتھ قائم ہیں ،توازن کا مطلب ہے کہ انصاف کے ترازو میں سے ظلم اور ناانصافی کا بوجھ اتار کر دونوں پلڑے مساوی کردیئے جائیں۔ایک جج کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام معاملات میں اس مساوات کے قیام کو یقینی بنائے ۔کوڈ آف کنڈکٹ کا آرٹیکل 2عدالت میں ججوں کے رویہ اور نشست و برخاست سے متعلق ہے ،اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ایک جج کو اللہ سے خو ف کھانے والا ،قانون کا پابند ،پرہیز گار ،زبان کا دھنی ،رائے دینے میں ذہین ،محتاط ،بردبار ،الزامات سے پاک اورلالچ سے ماوراہونا چاہیے ۔جج کو کھردراہوئے بغیر مضبوط ہونا چاہیے ،اسے کمزوری دکھائے بغیر نرم مزاج ہونا چاہیے ،اس کی وارننگ احترام کے دائرہ میں رہتے ہوئے متاثر کن ہونی چاہیے اور اسے اپنے الفاظ کے ساتھ دیانتدار ہونا چاہیے ،اسے ہمیشہ پرسکون ،متوازن اور غیر جانبدار رہنا چاہیے ،جج کو عدالتی نشست و برخاست کے حوالے سے وقت کا پابند ہونا چاہیے اورخوش مزاجی وتواضع کے احساس کے ساتھ عدالت میں بیٹھنا چاہیے، اسے عدالت کا وقار برقرار رکھنے کے لئے محتاط ہونا چاہیے جبکہ وہ مقدمہ کے فریقین اور پیش ہونے والے وکلاء کے لئے کارروائی کے دوران تمام پہلوؤں سے مساوات قائم رکھے ۔کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 3میں کہا گیا ہے کہ جج کو طعنہ زنی اور رسوائی سے بالاتر ہونا چاہیے ،اس کے لئے سرکاری اور نجی معاملات میں ججوں سے غیر موزونیت سے بچے رہنے کی توقع کی جاتی ہے ۔آرٹیکل 4میں کہا گیا ہے کہ جج کو لازمی طور پر ایسا کیس سننے سے انکار کردینا چاہیے جس میں اس کا اپنا یا قریبی دوستوں اور رشتے داروں کا مفاد وابستہ ہو ،جج کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کوکسی کاروبار اوربزنس ڈیلنگ سے باز رکھے ،اسے زیرسماعت مقدمہ کے کسی فریق سے ادنیٰ نوعیت کی بزنس ڈیل میں بھی ملوث نہیں ہونا چاہیے ،اگر یہ بزنس ڈیلنگ نا گزیر ہو تو جج کو فوری طور پر خود کو مقدمہ سے الگ کرلینا چاہیے ۔جج کو لازمی طور پر ایسا مقدمہ سننے سے بھی انکار کردینا چاہیے جس کے ایک فریق یا اس کے وکیل سے دوسرے فریق یا اس کے وکیل کی نسبت زیادہ تعلقات ہوں ۔جج ناصرف انصاف کو یقینی بنائیں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے ۔جج کو لازمی طور پر اپنی ایسی ممکنہ رائے اور اقدام سے احتراز کرنا ہوگاجس سے مقدمہ کا جھکاؤ ایک فریق کی طرف نظر آئے ،جج کو ایسے تاثر سے باالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بچنا ہوگا۔کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 5میں کہا گیا ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران جج مکمل طور پر عوام کی نظروں میں ہوتا ہے ،اس دوران جج کو جو شہرت ملتی ہے اسے اس سے زیادہ کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔اسے کسی عوامی تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہیے ، اسے کسی سیاسی سوال میں بھی ملوث نہیں ہونا چاہیے ہرچند کہ اس میں قانون کا سوال ہی کیوں نہ ملوث ہو۔کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل6میں کہا گیا ہے کہ جج کو جس حد تک ممکن ہو خود کو مقدمہ بازی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے ،اسے مقدمہ بازی کا سبب بننے والے معاملات میں بھی ملوث نہیں ہونا چاہیے ،جیسا کہ صنعت ،تجارت اور مشکوک ٹرانزیکشن کے معاملات ہیں۔اگر کوئی جج فوری یا مستقبل میں فائدہ کے لئے اپنی موجودہ حیثیت کا استعمال کرتا ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہے ۔جج کے لئے لازم ہے کہ وہ خود کو کسی نجی ادارے یا فردکی مالی اور دیگر ذمہ داریوں سے خود کو الگ رکھے ،ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کی وجہ سے اسے پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔آرٹیکل 7میں کہا گیا ہے کہ جج کو ماورائے عدالت سرکاری اور پرائیویٹ ذمہ داریوں سے عمومی طور پر بچتے رہنا چاہیے ،اسے کسی تنظیم کے منتخب عہدہ کے لئے امیدوار بھی نہیں ہونا چاہیے ۔آرٹیکل 8میں کہا گیا ہے کہ جج کو قریبی رشتے داروں اور دوستوں سے صرف روایتی تحائف ہی وصول کرناچاہئیں ۔ایسا تحفہ جوفرائض منصبی پراثر پذیری پر منتج ہو جج کو وہ تحفہ لینے سے انکار کردینا چاہیے ۔کسی بھی تفریح کی دعوت کو قبول کرتے وقت یہ خیال رکھا جانا چاہیے کہ اس دعوت کا اصل مقصد جج کے فرائض سے متصادم نہ ہواور اس سے جج کی غیرجانبداری پر کوئی حرف نہ آئے ۔کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل9میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتی امور کی انجام دہی کے دوران جج کو اپنی عدالت میں ہمیشہ دوسرے ججوں کے ساتھ ہم آہنگی اور حسن تناسب کو برقرار رکھنا چاہیے ۔اسی طرح دوسری عدالتوں میں نظام عدل کے ادارے کی سالمیت اور وقار کا خیال رکھنا چاہیے ۔اگر کسی جج سے مقدمہ کے فیصلہ کے حوالے سے اختلاف رائے ہو تواس بات کا خیال رکھے بغیر کہ وہ جج سینئر ہے یا جونیئر،اپنی رائے کو غیر متغیر انداز میں خوش اخلاقی اور تحمل کے ساتھ پیش کیا جائے ۔کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل10میں کہا گیا ہے کہ عدالتی امور کی انجام دہی کے دوران جج مقدمہ کے جلد ازجلد فیصلہ کے لئے اقدامات کرے ،جج مقدمات کو جلد نمٹانے اور سائلین کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرے اور مناسب تحریری فیصلہ جاری کرے ۔اگرکوئی جج انصاف کی جلد فراہمی کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے کام سے مخلص نہیں ہے اور یہ ایک سنگین غلطی ہے ۔کوڈ آف کنڈکٹ میں آرٹیکل 11کی سپریم جوڈیشل کونسل کے 8اگست 2009ء کو منعقدہونے والے اجلاس میں منظوری دی گئی ۔اس اجلاس کی صدارت اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے کی تھی ۔جس کا نوٹیفکیشن 2ستمبر2009ء کو جاری کیا گیا ،اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج کسی بھی انداز میں ماورائے آئین اقتدار کے لئے کسی اتھارٹی کی مدد نہیں کرے گااور آئین کے تیسرے شیڈول میں دیئے گئے ججوں کے حلف کے خلاف یا منافی کوئی حلف نہیں اٹھائے گا۔جج آئین کے منافی کوئی حلف اٹھائیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے جج سے اس بابت حلف لیں گے ۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے احتساب کے لئے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت قائم سپریم جوڈیشل کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8)کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لئے یہ ضابطہ اخلاق جاری کررکھا ہے جس کی پاسداری کا جج نہ صرف حلف اٹھاتے ہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 209میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کوپابند بھی کیا گیا ہے کہ وہ اس ضابطہ اخلاق کوملحوظ خاطررکھیں گے ۔سپریم جوڈیشل کونسل نے سب سے پہلے 1962ء کے آئین کے آرٹیکل 128(4)کے تحت ججوں کا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا تھا جو 10آرٹیکلز پرمشتمل تھا ۔ 29اگست2009ء کو سپریم جوڈیشل کونسل نے اس میں آرٹیکل11کے اضافہ کی منظوری دی جس کے تحت ججوں کو آئین کے منافی حلف اٹھانے سے روکا گیا ہے ۔2ستمبر2009ء کو اس اضافی آرٹیکل کے ساتھ کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا گیاجو اس وقت نافذ العمل

مزید : تجزیہ