”راحیل شریف کو یہ اربوں روپے کا تحفہ کس قانون کے تحت دیا گیا“ سینٹ میں ایک ایسا سوال پوچھ لیاگیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا اور پھر۔ ۔ ۔

”راحیل شریف کو یہ اربوں روپے کا تحفہ کس قانون کے تحت دیا گیا“ سینٹ میں ایک ...
”راحیل شریف کو یہ اربوں روپے کا تحفہ کس قانون کے تحت دیا گیا“ سینٹ میں ایک ایسا سوال پوچھ لیاگیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا اور پھر۔ ۔ ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک فوج کے سابق سپہ سالار اور عرب اتحاد کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اربوں روپے کا 88ایکڑ رقبہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد الاٹ کرنے کا معاملہ سینٹ میں پہنچ گیا اور سینٹرفرحت اللہ بابر نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت یہ رقبہ دیاگیا، بعدازاں فرحت اللہ بابرنے بتایاکہ بار بار سوال کرنے کے باوجود رقبے کی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت سے متعلق ان کے سوال کا حکومت یا متعلقہ اداروں کی طرف سے اس الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیاگیا۔

ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق فرحت اللہ بابر نے بتایاکہ ان کے سوالات پر صرف ایک ہی جواب دیا گیا کہ یہ سب کچھ پاکستان کے آئین کے مطابق کیاگیا۔ انہوں نے مزید کیا کہ لاہور میں نیب نے ایک بیوروکریٹ کو مبینہ طورپر اراضی ٹرانسفر کرنے پر حراست میں لیا۔

انہوں نے کہاکہ ریٹائرڈ آرمی جنرلز کیخلاف بھی غیرقانونی طورپر اراضی کی منتقلی پر کرپشن ریفرنسز کھولنے چاہیں تاہم چیئرمین سینٹ رضاربانی نے اس معاملے پر فرحت اللہ بابر کو مزید بات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہاکہ وہ یہ سوال قومی اسمبلی کے فلور پر اٹھا سکتے ہیں ۔

مزید : رئیل سٹیٹ /علاقائی /اسلام آباد