ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟ (آخری قسط)

ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟ (آخری قسط)

  



25فروری کو ڈائری میں ایوب خان صاحب لکھتے ہیں: ’’گورنروں کی کانفرنس میں جماعت اسلامی کی طرف سے پیدا کیا جانے والا دباؤ زیربحث آیا، اور حسب ذیل نکاتِ کار کی مناسبت سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی: اوّل یہ کہ علما اور مساجد کو کس طرح قومی پالیسی کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے؟ دوم یہ کہ مخالفت کرنے والوں کو کس طرح بے اثر بنایا جائے؟ سوم یہ کہ جماعت اسلامی جیسی سیاسی پارٹی نے مذہب کے لبادے میں موجودہ حکومت کو غیراسلامی قرار دینے کی مہم چلا رکھی ہے۔ اس سے کس طرح نبٹا جائے؟‘‘ [ایضاً، ص 66،67]

اندازہ ہوتاہے کہ ایوب خان صاحب ہر اس شخص کی بات پر یقین کرکے اس کی مدد لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جو انھیں مولانا مودودی کی مخالفت کرتے ہوئے ملتا ہے۔ 27مارچ 1967ء کو لکھتے ہیں: ’’صاحبزادہ فیض الحسن اپنی سربراہی میں 20علما کا ایک وفدلے کر مجھے ملنے آئے۔ انھوں [صاحبزادہ صاحب ]نے مودودی کی سرگرمیوں کے خلاف ناراضی ظاہر کرتے ہوئے راے ظاہر کی ہے کہ اس کی سرگرمیاں انتشار انگیز اور سیاسی محرکات کی حامل ہیں اور پھر اس ارادے کا اظہار کیا کہ ہم ہر طرح سے ان [یعنی مولانا مودودی]کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں133 علما کے اس وفد نے میرے دستور پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط مرکز کی وجہ سے [ایوبی] دستوراسلامی تصور کے بہت قریب ہے133 صاحبزادہ صاحب نے علیحد گی میں مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ علما[جنھیں وہ خود لائے تھے] اگرچہ مودودی کے مقابلے میں بہت اچھا کام کر سکتے ہیں، لیکن روپے پیسے کے معاملے میں ان کی دیانت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی‘‘[ایضاً، ص75]۔ اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مالی وسائل صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کے تصرف میں دیے جائیں۔

ایوب خان صاحب کی طرف سے مولانا مودودی کے خلاف سلگتی ہوئی مخاصمت کا اندازہ 4اپریل 1967ء کے اس نوٹ سے ہوتاہے: ’’عربی زبان میں لکھا ہوا ایک کتابچہ میرے نوٹس میں لایا گیا ہے جس پر میرا اور پاکستان کا ذکر سخت بْرے الفاظ میں کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مْلّاازم کی اجازت نہیں ہے اور میری پالیسیاں غیر اسلامی ہیں۔اگرچہ اس کتابچے پر مصنف کا نام نہیں دیا گیا لیکن گمان یہی ہے کہ یہ مودودی کی تصنیف ہے۔یہ کتابچہ عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر تقسیم کے لیے لکھا گیا ہے‘‘[ایضاً، ص 79]۔ ایوب خان نے اگلے جملے میں مولانا پر انتہائی گندے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انھیں ’پاکستان کا غدار اور اسلام کا دشمن‘ قرار دیا ہے۔

تاریخی اعتبار سے امرواقعہ ہے کہ مولانا نے کوئی تحریر اپنے نام کے بغیر کبھی شائع نہیں کی۔ حتیٰ کہ بیرون ملک سفر کے دوران پاکستان کے اندرونی حالات پر تبصرہ کرنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ امپیکٹ انٹرنیشنل، لندن کے ایڈیٹر حاشر فاروقی صاحب راوی ہیں کہ: ’’1968ء میں جب مولانا مودودی لندن تشریف لائے اور بی بی سی اردو سروس کے براڈکاسٹر انعام عزیز نے ان سے پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں سوال کیا، تو مولانا نے بیرونِ ملک ہونے کے باعث تبصرہ کرنے سے معذرت کی۔ اسی دورے میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے دوران بھی مولانا نے پاکستان کے حالات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

ایوب خان کی اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اقتدار کا رنگ پھیکا اور ترقی کا غلغلہ اپنی کشش کھورہا تھا۔ ملک میں بے چینی کی لہر بڑھتی جا رہی تھی۔ حزب اختلاف مختلف جماعتوں میں منتشر تھی۔ایوب حکومت کی تمام تر الزام تراشیوں اور بدنام کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود مولانا مودودی کی سربراہی میں جماعت اسلامی اپنے اصولی اور جمہوری موقف کے ساتھ حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہی تھی۔اس کا حل ایوب خان کے قلم سے 22 اپریل 1967ء کو یہ سامنے آتا ہے: ’’الطاف گوہر [سیکرٹری اطلاعات] سے علما کے معاملے پر بات چیت کے دوران انھیں ہدایت کی ہے کہ مودودی اور اس کی پارٹی کے ساتھ صرف اور صرف سیاست دانوں کے طور پر معاملہ کیا جائے، جنھوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے‘‘۔[ایضاً، ص 85]

پاکستان نیوی میں مبینہ سازش کے حوالے سے21مئی 1967ء کو ایوب خان کے بقول: ’’گورنر موسیٰ اور ڈی آئی جی ترین صبح مجھے ملنے آئے اور رپورٹ دی کہ پاکستان نیوی کے ایک معمولی افسر فیض حسین نے مارشل لا لگانے، گورنروں اور فوجی قیادت کو برطرف کرنے،مشرقی پاکستان میں [جنرل] اعظم اور مغربی پاکستان میں مولوی فرید احمد کو گورنر اور مودودی کو وزیرقانون مقرر کرنے کی سازش کی ہے‘‘ [ایضاً، ص 98]۔ اس بے سروپا سازش کو ’بے نقاب‘ کرنے پر ایوب خان نے پولیس کی تعریف، جب کہ آئی ایس آئی اور نیول انٹیلی جنس کو کوتاہی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اگرچہ ایوب خان نے اس سازش میں مولانا کو ملوث نہیں کیا کیوں کہ انھیں اچھی طرح علم تھا کہ مولانا مودودی صرف جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے اور تبدیلی کے لیے کسی سازش، شارٹ کٹ یا پْرتشدد طریقوں کے سخت مخالف ہیں۔ ایوب خان کو یہ بھی معلوم تھا کہ 27اکتوبر 1963ء کو لاہور میں جماعت کے کْل پاکستان اجتماع پر سرکاری غنڈوں نے مولانا مودودی پر براہِ راست اندھا دھند فائرنگ کرکے جماعت کے ایک کارکن اللہ بخش کو شہید کر دیا، لیکن اس موقعے پر بھی مولانا نے گولی کا جواب تشدد سے دینے سے منع کردیا۔ اپنے کارکنوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے پْرامن طریقے سے اپنی جدوجہد پر قائم رہنے کا سبق دیا تھا۔

ایک سال اور پانچ ماہ بعد 14اکتوبر 1968ئکو ایوب خان صاحب لکھتے ہیں: ’’حیدرآباد اور کراچی کے اسکولوں میں خسرے کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کے لگانے پر بے چینی پھیلانے میں جماعت اسلامی کا ہاتھ لگتا ہے۔ ہمارے لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور ہراحمقانہ بات کو مان لیتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ صوبائی حکومت ان شرپسندوں کو پکڑے گی اور ان کی گردن مروڑ دے گی‘‘ [ایضاً، ص272]۔یاد رہے یہی ہے وہ زمانہ کہ جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے طول و عرض میں ایوب حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے ہورہے تھے، مگر وہ اپنا غصّہ صرف جماعت اسلامی پر نکالتے نظر آتے ہیں۔

ایوب خان اقتدارسے محروم ہونے کے حالات کو خاموش تماشائی کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک سال دو ماہ بعد، 18جنوری 1970ء کو انھوں نے ڈائری میں ایک بار پھر ذکر کیا، مگر پہلی دفعہ مولانا مودودی کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یاد رہے اس روز عوامی لیگ نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کے جلسے پر حملہ کرکے سیکڑوں کارکنوں کو زخمی اور چھ کارکنوں کو قتل کر دیا تھا۔ ایوب خان نے لکھا ہے کہ:’’صبح کی خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا مودودی کے حامیوں اور دوسروں کے درمیان ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کے جلسہء عام کے دوران لڑائی ہوئی ہے۔ ایک آدمی کے قتل ہونے کی خبر ہے، جب کہ 400 زخمی ہوئے۔ جلسہ منتشر کردیا گیا اور ڈایس کو آگ لگا دی گئی۔ مولانا کا ان کی قیام گاہ تک تعاقب کیا گیا‘‘[ایضاً، ص357]۔ ایوب خان کو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے اپنے طویل دور حکومت میں جس طرح مولانا مودودی کے خلاف جذباتی انداز سے نفرت کی سوچ کو پروان چڑھایا تھا، عوامی لیگ کے دہشت گرد اور کمیونسٹ انتہاپسند اس کا عملی مظاہرہ پیش کر رہے تھے۔

14اگست 1970ء کو ایوب خان لکھتے ہیں: ’’راولپنڈی کے جلسے میں پیپلزپارٹی کے مقررین نے میرے اور مودودی کے خلاف تقریریں کیں‘‘ [ص 404] اور 28ستمبر کو لکھا کہ: ’’مودودی اور دولتانہ کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہوئے قادیانی، حتیٰ کہ شیعہ بھی بھٹو کی حمایت اور مدد کر رہے ہیں‘‘ [ایضاً،ص 407]۔ 23دسمبر 1970ء کو تحریر کیا: ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ مودودی جیسے لوگ انتخابات میں مجیب اور بھٹو کی ناقابلِ مثال کامیابی میں خطرات دیکھتے ہیں‘‘۔ [ایضاً، ص 428]

23 مارچ 1971ء کو لکھا ہے: ’’آج روزنامہ جنگ بھٹو اور اس کے ساتھیوں کی بہت سی تصویروں سے بھرا پڑا ہے۔ دراصل یہ سب اس کی دل جوئی کا سامان ہے کیوں کہ بھٹو کے آدمیوں نے حمایت نہ کرنے پر جنگ کی تنصیبات کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ پھر اس بات کے آثار بھی موجود ہیں کہ پیپلزپارٹی کے یہ لوگ مودودی کے گھر کو آگ لگانا چاہتے ہیں‘‘۔ [ایضاً، ص 467]

ایک سال دو ماہ بعد بھٹوصاحب کے دورِ حکومت میں 19جون 1972ء کو لکھتے ہیں: گذشتہ مہینے متعدد سیاسی قتل ہوئے، جن میں جماعت اسلامی کے نمایاں افراد بھی شامل ہیں۔ اس ضمن میں جنرل اکبر نے بھٹو کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ بلاشبہہ جماعت اسلامی ایک تشدد پسند جماعت نہیں ہے‘‘۔[ایضاً، ص 530]

اسی طرح ایوب خان صاحب کی بے خبری دیکھیے کہ14نومبر 1972ء کو لکھتے ہیں: ’’اگر بھٹو نہیں تو پھر کون؟‘‘ کا نعرہ جماعت اسلامی نے گھڑ ا اور پھیلایا ہے‘‘[ایضاً،ص 542]۔ حالاں کہ یہ وہ زمانہ ہے جب بھٹوحکومت بڑے پیمانے پر اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈال رہی تھی۔ معلوم نہیں یہ نکتہ کس طرح موصوف کے حاشیہ خیال میں آیا؟

سابق صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صاحب کی یہ ڈائری بڑے سائز کے 552 صفحات کے خودنوشت اندراجات،50 صفحات پر ذاتی تصاویر اور 46صفحات کے تعارفی و ادارتی حاشیوں کے ساتھ کْل 649 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ڈائری کے صرف ان مندرجات کو سمجھنے اور تبصرہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جن کا تعلق مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے ہے۔ یہ ڈائری ایوب خان صاحب کے صاحبزادے گوہر ایوب صاحب کے پاس محفوظ تھی۔ ایوب صاحب کی خواہش تھی کہ الطاف گوہر اس ڈائری کو مرتب کریں۔ واقعات اور شخصیات کی حساسیت کے باعث اس کی اشاعت پر کچھ عرصہ کے لیے رضاکارانہ پابندی لگائی ہوئی تھی۔ جب اس کی اشاعت کا وقت آیا تو الطاف گوہر صاحب کا انتقال [14نومبر2000ء] ہو چکا تھا۔

فیلڈ مارشل محمدایوب خان کی ڈائری کے مطالعے سے ان کے ’نظریۂ حکمرانی‘ کی بنیاد دیکھی جاسکتی ہے کہ: ’’جب ایک لیڈراقتدار سنبھال لے تو اس کے پاس اتنی زیادہ طاقت ہونی چاہیے کہ وہ خودحکومتی اْمور کنٹرول کر سکے۔ایک مضبوط مرکزی اتھارٹی [شخصیت ] کے بغیر ملک کو متحد نہیں رکھا جا سکتا‘‘۔ اس وقت پاکستان میں اور بھی مذہبی جماعتیں موجودتھیں، لیکن ایوب خان صرف مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے ہی کیوں خائف تھے؟ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایوب خان اپنی سیکولر سوچ کے تحت اسلام کے حرکی تصور سے ہراساں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مولانا مودودی کی سربراہی میں جماعت اسلامی نہ صرف ایک منظم سیاسی قوت ہے بلکہ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات مانتے ہوئے اسلام پر مبنی نظام حکومت کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستانی حکمرانوں میں ایوب خان وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے منظم اسلامی قوتوں کے ’خطرے‘ کو محسوس کیا۔پھر اسلامی قوتوں کی طرف سے سیکولرزم اور لبرلزم کو بے اثر کرنے کی سعی کی مزاحمت کے لیے اپنی سی کوششیں کیں۔ (بشکریہ، عالمی ترجمان القرآن لاہور)

مزید : رائے /کالم