’’عمران خان کو اقتدار میں لانے والے اب انہیں لے جانا چاہتے ہیں لیکن کون آئے گا‘‘ معروف کالم نویس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

’’عمران خان کو اقتدار میں لانے والے اب انہیں لے جانا چاہتے ہیں لیکن کون آئے ...
’’عمران خان کو اقتدار میں لانے والے اب انہیں لے جانا چاہتے ہیں لیکن کون آئے گا‘‘ معروف کالم نویس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  



لاہور (کالم: احمد جواد  بٹ) واقعات گواہی دیتے ہیں کہ ملکی حالات دھیرے دھیرے بدل رہے ہیں۔باخبر حلقوں میں آج کل یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والے اب انہیں لے جانا چاہتے ہیں۔منیر نیازی مرحوم نے کہا تھا کہ قدم تیز تر ہیں،اور سفر آہستہ! اپنے ملک کی سیاست میں یہی تو ہوتا چلا آ رہا ہے۔مقتدر حلقوں کی رعایت سے آج کل یہ خبر،جسے افواہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے،عام ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں نئے مہمانوں کی آمد آمد ہے، نئے مہمان؟ پرانے جو ازسر نو آ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے پھر سے شہباز کی پرواز کا آغاز ہوا چاہتا ہے!

میاں محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تو ”خادم اعلیٰ“ کی ترکیب و اصطلاح عام ہوئی تھی۔ شاید خادم اعلیٰ کی دوبارہ ضرورت پڑ گئی ہے، اگر ایسا ہوا، جیسا کہ امکانی طور پر لگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ”تبدیلی“ آ نہیں رہی،بلکہ تبدیلی آ گئی ہے۔

تبدیلی کی ہواؤں کا آغاز ضمانتوں سے ہوا، کیا وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بڑھکوں کا پول کھل اور قلعی اُتر گئی؟عام خیال یہ ہے کہ عمران خان وقت سے پہلے ”ایکسپوز“ ہو چکے،لیکن مَیں کہتا ہوں کہ وہ توقع سے زیادہ عرصہ نکال گئے ہیں،وہ نااہل تھے،ہیں اور رہیں گے۔انہیں سمجھنے میں متعدد حلقوں نے دھوکا کھایا۔اب تبدیلی پر تبدیلی درکار ہے!مَیں نے مستقبل کے سمندر میں اتر کر یہ دیکھا ہے کہ عمران خان کے ہاتھ سے اقتدار ایسے نکل رہا ہے، جیسے مٹھی سے ریت!جس کا نباہ پیر پگاڑا اور چودھری برادران سے نہیں ہو سکا،اس کا اتحاد کسی اور سے کیسے کیوں اور کس طرح ہو گا؟ موجودہ پیر پگاڑا وضع دار اور چودھری برادران دوستی و دشمنی میں ایک معیار رکھتے ہیں،بااصول دوستی اور کھلم کھلا دشمنیٖ! ان پر کوئی بھی الزام آ سکتا ہے، مگر منافقت کا نہیں!

میاں حمزہ شہباز کی ضمانت ہو چکی، محترمہ مریم نواز صاحبہ کے حق میں مسلم لیگ(ن) کی متحرک ایم پی اے ثانیہ عاشق نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی، عدالت ِ عالیہ میں درخواست زیر سماعت ہے، تاہم مریم نواز کی اپنے والد ِ محترم کے پاس روانگی پتھر پر لکیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیا شریف خاندان، پاکستان کے لئے ناگزیر ہے؟مجھے تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ شریف خاندان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی عوام میں مقبولیت بڑھی ہے، کم نہیں ہوئی۔کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ثبوت چاہئے کہ نئے پاکستان میں پھر سے کون آنے والا ہے! مستقبل قریب میں جلد ہی کچھ ایسا ہونے جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خود اپنے ہاتھوں تحلیل ہو جائے گی؟ جلد یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھا جانے والا ہے!

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور