سانحہ تیزگام کی انکوائری کیلئے درخواست پر سماعت،نائن الیون واقعے میں 7 سال میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوئے ،جسٹس محسن اخترکیانی

سانحہ تیزگام کی انکوائری کیلئے درخواست پر سماعت،نائن الیون واقعے میں 7 سال ...
سانحہ تیزگام کی انکوائری کیلئے درخواست پر سماعت،نائن الیون واقعے میں 7 سال میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوئے ،جسٹس محسن اخترکیانی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے سانحہ تیزگام کی انکوائری کیلئے درخواست پر جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ جب تک پوسٹ مارٹم نہیں ہوگا موت ثابت نہیںہوگی تو کیس چارج کس طرح ہوگا؟، نائن الیون واقعے میں 7 سال میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوئے ۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں سانحہ تیز گام کی انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزار حنیف راہی ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل درخواستگزار حنیف راہی نے کہا کہ تیزگام حادثہ کیس کی میتیں تاحال لواحقین کو نہیں دی گئیں ،جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ کیاتحقیقاتی رپورٹ جمع کروا دی گئی؟،سی ای او ریلوے دوست محمد نے کہا کہ جی !رپورٹ جمع کرادی ہے،حادثے میں کل اموات87 ہیں ،10 میتوں کا ڈی این اے نہیں ہو سکتا وہ خانیوال میں دفن ہیں ۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی آر درج ہو گئی ؟،ڈی ایس پی ریلوے ملتان نے عدالت میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی! ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ ایک خاندان کے لواحقین نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے 11 افرادحادثے میںجاں بحق ہوئے،وکیل ریلوے نے کہاکہ ہم تمام متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دیںگے ،صرف شناخت کررہے ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ جب تک پوسٹ مارٹم نہیں ہوگا موت ثابت نہیںہوگی تو کیس چارج کس طرح ہوگا؟۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ نائن الیون واقعے میں 7 سال میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوئے ،متاثرہ لواحقین نے کہا کہ کم زخمیوں کو 50 ہزاراورزیادہ زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیئے گئے،وکیل حنیف راہی نے کہاکہ 5لاکھ کا کہا گیا اور صرف50 ہزار روپے دیئے ۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ کیا زخمی ہونے والوں کاسرکار علاج کررہی ہے یاوہ خود کررہے ہیں؟،متاثرہ لواحقین کے خاندان نے کہا کہ اپنی مددآپ کے تحت علاج کروا رہے ہیں،ریلوے حکام نے کہا کہ 12 لوگوں کی شناخت نہیں ہوئی ،10 کا ڈی این اے نہیں اور2 امانت کے طور پر دفن ہیں ۔

درخواست گزار حنیف راہی نے کہا کہ وزیرریلوے نے تحقیقات کئے بغیر کہہ دیا سلنڈر سے آگ لگی ،متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر کیوں نہیں درج کی گئی ؟،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ متعلقہ تھانے کا دائرہ اختیار کیوں نہیں تھا،ریلوے پولیس کا کیسے تھا؟،وکیل نے کہا کہ ریلوے پولیس کا پورے پاکستان میں ایف آئی آردرج کرنے کا اختیار ہے ،وکیل ریلوے نے کہا کہ پنجاب حکومت کے پراسیکیوشن کو عبوری چالان جمع کرادیا،ڈی ایس پی ریلوے نے کہا کہ مقدمے میں پولیس دیگر حکام جنہوںنے سلنڈر کا خیال نہیں رکھا انکو نامزد کیا ۔ عدالت نے سانحہ تیزگام کی انکوائری کی درخواست پرسماعت 14 اپریل تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد