بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حق میں بیان ،بھارتی میڈ یا کو مرچیں لگ گئیں

بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حق میں بیان ،بھارتی میڈ ...
بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حق میں بیان ،بھارتی میڈ یا کو مرچیں لگ گئیں

  



ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کی تعریف کی تو یہ بات بھارتی میڈ یا کو ہضم نہ ہوئی ،گھر آئے دنیا کے طاقتور ترین مہمان کو ہی سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ۔بھارتی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں میزبان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ”امریکہ فرسٹ “،وہ سب سے پہلے امریکہ کو دیکھتے ہیں اور اس بیان پر بھی امریکی صدر نے ’امریکہ فرسٹ‘کے اصول پر عمل کیا ،دہشت گردی سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے جس قسم کیا بیان دیا ،اس میں انہوں نے اپنے ملک اور اپنی سوچ کا ذکر کیا اور بھارت میں پاکستان کی تعریف کر کے چلتے بنے ۔پروگرام میں موجود بھارتی پینلسٹ نے کہا کہ اس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ اپنے مفادات کو دیکھیں ،ہر کوئی اپنے مفادات دیکھتا ہے لیکن میری سرزمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کے بارے میں اتنی گرمجوشی کے ساتھ بیان دینے کی کیا ضرورت تھی ،اس پر چپ بھی رہا جا سکتا تھا ،بولنے کی ضرورت کیا تھی ؟ایک موقع ہوتا ہے بات کرنے کا،وہ اس موقع پر پاکستان کو پیغام دے رہے تھے کہ بھارت سے ہمارے رشتے بڑھنے سے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، میں نے اس سٹیج سے پیغام دے دیا کہ آپ کے اور ہمارے اچھے رشتے ہیں ۔پروگرام کی میزبان نے ایک پینلسٹ سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کا سربراہ بھارت آکر پاکستان کی تعریف کر رہا ہے ،یہ تو سیدھا سیدھا پاکستان کو شہہ دینے والی بات ہے ،کیا میں غلط کہہ رہی ہوں ۔اس پر پروگرام میں موجود پینلسٹ نے کہا کہ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد بھارت کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے ۔

واضح رہے کہ احمد آباد سٹیڈیم میں ’نمستے ٹرمپ ‘نامی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکااور پاکستان مل کر دہشت گردتنظیموں اورسرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور امریکا پاکستان کے ساتھ انتہائی مثبت انداز میں کام کررہا ہے“۔انہوں نے کہا پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بے حد اچھے ہیں،ان کوششوں کی بدولت ہی پاکستان کے ساتھ بہتری کے امکانات واضح ہوئے۔“ انہوں نے کہا جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے حوالے سے پرامید ہیں۔

مزید : بین الاقوامی