سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت ہوتی ہے، اپوزیشن شفافیت کے لئے ساتھ نہیں دے رہی : سینیٹر شبلی فراز

سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت ہوتی ہے، اپوزیشن شفافیت کے لئے ساتھ نہیں دے رہی ...
سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت ہوتی ہے، اپوزیشن شفافیت کے لئے ساتھ نہیں دے رہی : سینیٹر شبلی فراز

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سینٹ الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے، سب جانتے ہیں سینٹ الیکشن میں خرید و فروخت ہوتی ہے، سینٹ الیکشن کی شفافیت کے لئے ہر جگہ گئے ہیں،اپوزیشن اپنے مفاد کے لئے اوپن بیلٹ کے تحت سینٹ الیکشن کے لئے ساتھ نہیں دے رہی، آج اپوزیشن اعتراض کر رہی ہے لیکن شفافیت کے لئے یہ لوگ آگے نہیں بڑھتے، پارلیمانی بورڈ نے جن لوگوں کی نامزدگی کی ان کو سینٹ کے ٹکٹ دیئے گئے، جن ممبران کو ٹکٹ نہیں دیئے جاتے وہ تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ممبران میں سے ٹکٹ نہ ملنے کے حوالے سے جو لوگ آواز بلند کرتے ہیں یہ قابل فہم بات ہے، سینٹ کے الیکشن میں محدود سیٹیں ہوتی ہیں، ہر صوبے سے 12 سیٹوں کے لئے امیدوار لئے جاتے ہیں، پارٹی میں ممبر بہت ہوتے ہیں اور کئی لوگ سینٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، سب کو خوش نہیں کیا جا سکتا، ہر جماعت اپنی سیٹوں کے تناسب سے سینٹ کے ٹکٹ کے لئے امیدواروں کا انتخاب کرتی ہے، سندھ میں پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی کم سیٹیں ہیں تو ہم وہاں سے کم لوگوں کو ہی ٹکٹ دے سکتے ہیں، اس طرح جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملتا وہ لوگ آواز اٹھاتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں خرید و فروخت ہوتی ہے، وزیراعظم عمران خان اسی خرید و فروخت کو ختم کرنے اور سینٹ الیکشن میں شفافیت لانے کے لئے شو آف ہینڈز کے ذریعے سینٹ الیکشن کرانے کی بات کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بھی اس کاز کو لے کر گئی کہ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہونے چاہئیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا بھی میثاق جمہوریت میں اس بات پر اتفاق تھا کہ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہونے چاہئیں لیکن ابھی سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے اپوزیشن جماعتیں اس بات سے اختلاف کر رہی ہیں۔ 

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ہمیشہ پیسے کی سیاست کی ہے،پی ٹی آئی پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی، ہمارے پانچ سینیٹرز منتخب ہوئے اور کسی نے انگلی تک نہیں اٹھائی، 2018ء کے سینٹ الیکشن میں جن لوگوں نے پیسے لئے ان کو پارٹی سے نکال دیا گیا، اس سے پہلے کسی پارٹی نے اپنے ممبران کو پارٹی سے نہیں نکالا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں 70 فیصد حکومت وقت کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس نے جہاں بھی انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج کو تسلیم کیا، مسلم لیگ (ن) وزیر آباد کے الیکشن پر کیوں اعتراض نہیں کرتی کیونکہ یہ لوگ وہاں پر جیت گئے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ جہاں آپ جیت جائیں وہاں الیکشن ٹھیک ہوا اور جہاں ہار جائیں وہاں الیکشن غلط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کو سنا اور اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جن 20 پولنگ سٹیشنوں پر اعتراض ہے ان پر دوبارہ الیکشن کروایا جائے، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی یہی درخواست کی گئی تھی کہ متعلقہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کروایا جائے اور اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کرانے کے لئے تیار ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنے ادوار حکومت میں انتخابی اصلاحات کے لئے کچھ نہیں کیا، پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات لا رہی ہے، الیکٹرانک ووٹنگ ہم متعارف کروا رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ شفافیت ہو اور پیسے اور دھونس کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر الیکشن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے غیر سنیجدہ لوگ ہیں، اپوزیشن آج جو باتیں کر رہی ہے ان کا ماضی اس کے برعکس ہے، سارے اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپوزیشن عہد کرے کہ شفافیت کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ ہونی چاہیے۔

مزید :

قومی -