پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو وزیراعظم کا انتباہ

پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو وزیراعظم کا انتباہ

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں سب کو پارٹی پالیسی اور ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے پارٹی امیدواروں کو ووٹ دینا ہو گا، جس نے بھی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی اُس کے خلاف کارروائی ہو گی،کیونکہ تحریک انصاف اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرتے ہوئے پیسے کا عمل دخل ختم کرنا چاہتی ہے،جس کے لئے ہم اوپن بیلٹ طریق ِ کار کا آرڈیننس بھی لائے، لیکن اپوزیشن جماعتیں خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ہم ہر حال میں شفافیت لانا چاہتے ہیں، ہم سینیٹ انتخابات میں اپنے تمام امیدواروں کو کامیاب کراتے ہوئے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے ارکان پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اِس سے پہلے جو ہو چکا اس حوالے سے کارروائی جاری ہے،لیکن آئندہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہئے،جو سب کے لئے باعث ِ شرمندگی ہو۔ پی ٹی آئی نے نہ تو پہلے کبھی ڈسپلن پر سمجھوتہ کیا اور نہ آئندہ کریں گے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں۔ وہ پشاور میں تحریک انصاف کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے اپنی جماعت کے جن ارکان سے خطاب کیا ان میں 14 ایم این اے اور 6 ایم پی اے شریک نہیں ہوئے،جن میں حال ہی میں صوبائی وزارتوں سے ہاتھ دھونے والے دو ارکان،یعنی سلطان محمد خان اور لیاقت خٹک بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں ارکان کو  شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔سلطان محمد خان کو2018ء کے سینیٹ الیکشن سے پہلے رقم وصول کرتے ہوئے وڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد وزارتِ قانون سے ہٹایا گیا ہے۔ قابل ِ لحاظ بات یہ ہے کہ جب انہوں نے مبینہ طور پر رقم وصول کی اُس وقت وہ تحریک انصاف میں شامل نہیں تھے،سینیٹ کے یہ انتخابات مارچ2018ء میں ہوئے تھے اور رقم وصول کرنے کے الزام میں پی ٹی آئی کے 20ارکان کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں، پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ سلطان محمد خان کے خلاف کارروائی اِس لئے نہیں کی گئی تھی کہ وہ اُس وقت پارٹی میں شامل ہی نہیں تھے،لیکن وہ بعد میں نہ صرف تحریک انصاف میں شامل ہوئے،بلکہ اس کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہو کر وزیر بنے۔یہ وڈیو اس وقت منظر عام پر آ گئی تھی جب پیسے وصول کئے گئے تھے  تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سلطان محمد خان کو جماعت میں شامل کیوں کیا گیا انہیں ٹکٹ کیوں دیا گیا اور پھر انہیں کابینہ میں شامل کیوں کیا گیا، اِس کا کوئی مسکت جواب آج تک نہیں ملا۔لیاقت خٹک، وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی ہیں اور ان پر نوشہرہ کے حالیہ ضمنی انتخاب میں پارٹی امیدوار کی مخالفت کا الزام ہے۔ان دونوں ارکان کی اجلاس میں عدم شرکت کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے،لیکن باقی اٹھارہ ارکان کیوں شریک نہیں ہوئے اس پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اِن میں سے دو بیرونِ ملک ہیں، جبکہ باقی سولہ ارکان کی کوئی نہ کوئی ایسی مصروفیت تھی، جس کی وجہ سے وہ نہ آ سکے البتہ ان سب نے قبل از وقت اطلاع  دے دی تھی۔یہ تو پارٹی کا موقف ہے البتہ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ شرکت نہ کرنے والے ارکان ناراض ہیں اور انہوں نے باہمی مشاورت سے ایک ہم خیال گروپ بنایا ہوا ہے، جو سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ دینے سے پہلے باہمی مشاورت سے کوئی فیصلہ کرے گا، غالباً ایسے ہی ”ہم خیال“ حاضر یا غیر حاضر ارکان کو وزیراعظم نے متنبہ کرنا ضروری خیال کیا کہ وہ پارٹی امیدواروں کو ووٹ دینے کے پابند ہیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔یہ تو3مارچ ہی کو پتہ چلے گا کہ اس انتباہ کا کتنا اثر ہوا،تاہم اِس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر اپنے ارکانِ اسمبلی کو یہ یاد دِلا دیاکہ اپوزیشن پیسے کی سیاست کر رہی ہے،ان لوگوں نے ہر جگہ پیسہ استعمال کیا جس کی وجہ سے وہ نشانِ عبرت بن چکے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول کیا جائے گا۔اجلاس میں حاضر ارکان نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ  وہ پارٹی امیدواروں ہی کو ووٹ دیں گے۔

کے پی کے ایسا صوبہ ہے جہاں تحریک انصاف کو صوبائی ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔اِس لئے اگر پارٹی کے تمام ایم پی اے سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں ہی کو ووٹ دیں گے تو وہ تمام نشستیں جیت سکتی ہے،باقی کسی صوبے میں ایسی صورت نہیں، پنجاب میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) بڑی آسانی سے پانچ نشستیں جیت سکتی ہے اور ان پر اسے کوئی پیسہ خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔البتہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ناراض ارکان کو منانے کے لئے اعلیٰ سطح پر کوششیں جاری ہیں ایک رکن نے تو وزیراعظم سے ملاقات بھی کی تھی،جس نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ وہ اور ان کے پانچ ساتھی سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ نہیں دیں گے، تقریباً تمام ہی بڑے بڑے نیوز چینلوں نے اُن کے ساتھ انٹرویو کیا جس میں انہوں نے اپنا یہ عزم دہرایا اِس دوران انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کر لی اور پھر اعلان کر دیا کہ اُن کی شکایت رفع ہو گئی ہے،اِس لئے انہوں نے اب پارٹی چھوڑنے کے اعلان پر نظرثانی کر لی ہے،ایسے ہی اور بھی کئی ارکان ہو سکتے ہیں جن کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہو گا،اِس لئے بظاہر پنجاب میں تو پیسے کا عمل دخل نظر نہیں آتا،البتہ بلوچستان کے بارے میں جناب وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ ایک سینیٹر کو رکنیت حاصل کرنے کے لئے 50 سے70 کروڑ روپے تک خرچ کرنا پڑ رہے ہیں اُن کے اِس اعلان اور معروضی حالات سے یہی اندازہ ہوتا ہے  کہ پیسے کے عمل دخل کے خدشات کے پی کے اور بلوچستان ہی میں زیادہ ہیں۔پنجاب اور سندھ میں ایسے امکانات نہیں یا بہت ہی محدود ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ جہاں خدشات موجود ہیں وہاں ووٹوں کی خریداری روکنے کے لئے کیا کِیا جا رہا ہے؟کے پی میں تو انتباہ کر دیا گیا، بلوچستان میں یہ بھی ممکن نہیں کہ وہاں ”روایات“ زیادہ مضبوط ہیں اور مبینہ طور پر نرخ بھی بہت زیادہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -