بچوں کی تربیت اور دور جدید

بچوں کی تربیت اور دور جدید
بچوں کی تربیت اور دور جدید

  

جد ید دور میں موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بہت آسانیاں بخشی ہیں تو وہیں کچھ قباحتیں بھی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔یہ ایک ایسا آلہ ہے کہ اگردانشمندی سے استعمال کیا جائے تو یہ ہماری زندگی میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے دنیا کے کسی حصہ سے رابطہ کیاجا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے اور تحریری پیغام بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ موبائل فون ہمیں دنیا کی ہر طرح کی معلومات فراہم کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ موبائل فون کے ذریعے طلبہ اپنی پڑھائی میں کافی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا صحیح استعمال طلبہ کی تعلیم میں بہت مفید ثابت ہو گا۔موبائل فون کے ذریعے ہم پوری دنیا کے حالات سے باخبررہ سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے ہم پوری دنیا میں ہر طرح کی اہم معلومات حاصل کرتے ہیں۔ کاروباری لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے اور اشیاء کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔دفتروں میں کام کرنے والے لوگ بھی اپنے معاملات میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ تاہم  دوسری ایجادات کی طرح اس کے بہت نقصانات بھی ہیں۔ جن میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ والدین اکثر اپنے بچوں کی شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے بچے رات کو بہت دیر تک دوستوں کو پیغامات بھیجتے رہتے یا فیس بک یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں۔

اس سے بچوں کی تعلیم اور صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ رات کو دیر تک موبائل فون استعمال کرنے سے یا تو ان کی نیند پوری نہیں ہوتی اور یا پھر اس کی وجہ سے سکول سے چھٹی کرنا پڑتی ہے۔موبائل فون کا کثرت سے استعمال نظر کی کمزوری کا باعث بھی بنتا ہے۔سڑک پر چلتے ہوئے پیدل افراد اور گاڑی یا موٹرسائیکل چلاتے ہوئے موبائل فون کا استعمال حادثات کی بڑی وجہ بن گیا ہے۔یہ تو موبائل فون کے ظاہری نقصانات ہیں لیکن موبائل فون کے غلط استعمال سے بہت سے معاشرتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اگر ہم موبائل فون کو صرف ر ابطہ کا ذریعہ سمجھ کر استعمال کریں تویہ ہمارے لیے مفید ہو گا۔جس طرح گھر کا بڑا مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کے ذمے گھر کی ہر ضرورت کو پورا کرنا ہوتا ہے اسی طرح ہر گھرانے کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ بیوی بچوں کے رویے اور کردار کی بہتری کی کوشش کرنے کے ساتھ ان کی سرگرمیوں اور مصروفیات پر بھی گہری نظر رکھے۔بدقسمتی سے اس زمانے میں موبائل فون ایک ایسی آزمائش ہے جس پر کنٹرول بہت مشکل ہے اور جس کے منفی اثرات کا زیادہ تر شکار بچے اور نوجوان ہو رہے ہیں۔اس کاکثرت سے استعمال حد درجہ مضر ہے۔

اگرموبائل فون کا استعمال منفی مقاصد کیلئے ہو تو اس کی حیثیت شیطان کی سی ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ ہے۔لہٰذا دینی تربیت کا مقصد ایک طرف اچھی تربیت ہے اور دوسری طرف اپنے آپ کو اور بیوی بچوں کو منفی سرگرمیوں سے روکنا ہے۔ جس طرح موجودہ دور میں انسان اپنی اور بیوی بچوں کی دنیاوی ضروریات پور ی کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ توجہ ان کی دینی ضروریات پوری کرنے پر دی جانی چاہئے۔ہم نے اکثر اپنے معاشرے میں دیکھا ہے کہ کچھ لوگ خود تو دین کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، برائیوں سے پرہیز کرتے ہیں اور نیکی کی جانب راغب ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بیوی بچوں کی اتنی فکر نہیں کرتے جتنی انہیں کرنی چاہئے۔ بیوی نماز نہیں ادا کر رہی تو وہ اسے نماز کی ادائیگی کا نہیں کہتے اور اگر خود نماز ادا کر رہے ہیں تو بچوں کو مسجد میں نہیں لے کر جاتے ہیں۔ والدین بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور انہیں یہ جدید آلات خرید کر خود بے فکر ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں اکثر ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بعد میں والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چونکہ اولاداللہ تعالی کی بہترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور  والدین کے لیے مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہے۔اس لئے والدین کا فرض ہے کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی خواہشات کو ضرور پورا کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اور ان کو دی جانے والی جدید سہولتوں کی نگرانی کا عمل بھی مسلسل سر انجام دیتے رہیں۔بچوں کو لاڈ پیار ضرور کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں دینی و دنیاوی امور کے بارے میں آگاہی اور نصیحت کا عمل کبھی نہ چھوڑیں تاکہ اولاد جوان ہو کر آپ کیلئے نیک بختی کا باعث بنے اور دین و دنیا دونوں میں مفید و کارآمد ثابت ہوسکے۔

مزید :

رائے -کالم -