وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور کریڈٹ

وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور کریڈٹ
وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور کریڈٹ

  

اس بات کو حسن ِ اتفاق کہیے یا سو ِ اتفاق کہ مَیں نے بھی دوسرے بہت سے اہل ِ قلم کی طرح مرکزی حکومت کی مجموعی کاکردگی کو بالخصوص اور پنجاب میں سردار عثمان بزدار کی حکومت کو بالعموم تنقیدی نگاہ ہی سے دیکھا ہے،لیکن یہ بھی واضح رہے کہ میں نے ہمیشہ منفی چیزوں میں سے بھی خیر ہی تلاش کی ہے اور وہ الحمد للہ ملی بھی ہے۔ میرے جذبات اکثر و بیشتر خیر سگالی کے ہی رہے ہیں۔ میں نے اگر تنقید بھی کی ہے تو تعمیری جذبے سے ہی کی ہے۔ بزدار اپنی افتادِ طبع اور مزاج میں انکساری اور سادگی کے باعث اپوزیشن جماعتوں پر اس کی منفی سیاست اور اختیار کردہ رویوں کے بارے میں حرف شکائت زبان پر لائیں یا نہ لائیں، میں کھلے دِل سے اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں نے گزشتہ دو اڑھائی سالوں میں بالخصوص 2020ء کے سال میں ملکی ترقی کا پہیہ روکنے کی اپنے تئیں کوششیں ضرور کی ہیں، لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پنجاب میں سردار عثمان بزدار اپوزیشن جماعتوں کے اختیار کردہ جارحانہ رویوں کے باوجود ملکی ترقی کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے پُرخار راستوں پر سفر کرتے رہے اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلا یا اس سے اگلا سال اس حوالے سے امید کی کرن کا سال ثابت ہو۔

وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار خاموشی سے اپنے کام میں منہمک رہے۔ ان کے شروع کردہ منصوبوں کی اکثر و بیشتر مناسب تشہیر ہوتی رہی، لیکن وزیراعلیٰ نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش شاذو نادر بھی نہ کی،جس کی گواہی ایک سے زائد مرتبہ وزیراعظم دے چکے ہیں کہ پنجاب میں جو کام ہو رہا ہے، بزدار صاحب اپنے شرمیلے پن اور دھیما مزاج ہونے کی وجہ سے اس کا کریڈٹ نہیں لے سکے، لیکن چونکہ کام ہو رہا ہو تو وہ بولتا بھی ہے۔ مجھے وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر لکھتے ہوئے ماضی کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ مرحوم صدر ضیاء الحق کا مارشل لاء عروج پر تھا کہ 1982ء میں بھارت کے ایک انگریزی اخبار ”سنڈے“ کے ایڈیٹر نے ان کا انٹرویو کیا۔ اس دوران مرحوم صدر نے بڑا دلکش اور خوبصورت انکشاف کیا جو کچھ یوں تھا کہ وقت کے وزیراعظم (اشارہ بدیہی طور پر جناب ذوالفقار علی بھٹو کی جانب تھا) نے مجھے چیف آف آرمی سٹاف منتخب کیا، تو میں صرف حیران نہیں ہوا، بلکہ ہکا بکا رہ گیا، کیونکہ بقول صدر ضیاء الحق مرحوم کم از کم دس جرنیل ان سے سینئر تھے، یہاں تک کہ میں وزیراعظم کو نہ اتنا جانتا تھا اور نہ ہی میرا سیاسی زندگی سے کبھی تعلق رہا تھا۔ بعینہٖ اسی طرح سردار عثمان کے بارے میں خود  ان کو، نہ صوبے کے عوام کو اس بات کا اندازہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی نظر انتخاب ان پر آکر رک جائے گی، لیکن انہوں نے وزیراعظم کے اعتماد کو ہمیشہ پختہ کرنے میں کوئی کسر نہ رہنے دی۔

 گزشتہ دو اڑھائی سالوں میں اکثر سننے میں آیا کہ وزیراعلیٰ اب گئے کہ گئے، لیکن وہ ہمیشہ وزیراعظم کی نظروں میں نہ صرف معتبر رہے، بلکہ صوبے کی خدمت کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی اچھی کتابوں میں بھی موجود رہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت نے یہاں تک کہہ دیا کہ حکومت اتحادی جماعتوں سے رابطے نہیں رکھتی، نیز یہ کہ حکومت نے دروازے بند کئے رکھے تو ہم بھی فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے، لیکن ہر بار وزیراعظم نے یہی کہا کہ بزدار صاحب کہیں نہیں جارہے۔ یہ رویہ اور طرزِ عمل وزیراعلیٰ پر ان کے بھرپور اعتماد کا مظہر ہے اور سچی بات ہے کہ وزیراعلیٰ نے بھی کورونا ہو یا ہیلتھ سیکٹر، ایجوکیشن ہو یا بلدیات، صحت انصاف کارڈ ہوں یا فلاح و بہبود کے ادارے، اینٹی کرپشن کا ادارہ ہو یا جیل خانہ جات، پولیس ہو یا سول بیوروکریسی، بیک وقت صوبے بھر میں چلنے والے تین چار درجن کے قریب اداروں پر کڑی نظر رکھی اور ان کا قبلہ درست کرنے پر اپنی توجہات مرکوز کئے رکھیں۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں اداروں کے لئے مختص کردہ بجٹس کی رقوم اِدھراُدھر کرلی جاتی تھیں یا ان پر لگائی نہیں جاتی تھیں،جبکہ آمدہ بجٹ  میں بھرپور کوشش کی جائے گی کہ اداروں کے لئے مختص کردہ رقوم بروقت اور بہترین بنیادوں پر استعمال ہوسکے گا۔ اس موقعے پر ہمارا مشورہ ہے کہ و ہ وزیراعظم کے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش ضرور کریں کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شرمیلے ہیں، جو اپنی کارکردگی کا کریڈٹ نہیں لیتے۔ ایسا تو ہماری نظر میں وزیراعظم بھی کرتے ہیں، کیونکہ انہیں بھی سرخ فیتے کا شکار ہوتے کبھی نہیں دیکھا، بالکل بزدار صاحب کی طرح۔

مزید :

رائے -کالم -