زارا نعیم ڈار پاکستان کی تعلیمی سفیر

زارا نعیم ڈار پاکستان کی تعلیمی سفیر
زارا نعیم ڈار پاکستان کی تعلیمی سفیر

  

 ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) امتحان میں پاکستانی طالبہ زارا نعیم ڈار نے دنیا بھر میں سے سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے اور پہلی پوزیشن حاصل کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا انہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے اکاؤنٹنگ کے اس مشکل ترین امتحان میں د نیا کے تقریبا179 ممالک کے پانچ لاکھ ستائیس ہزار سٹوڈنٹس نے حصہ لیا جنہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے زارا نے ٹاپ کیا زارا نعیم کرکٹ کے ہیرو علیم ڈار کی بھتیجی اور برگیڈئیر نعیم ڈار کی صاحبزادی ہیں جنہوں نے ملکی خدمت کی اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھا ہے زارا سے میری ملاقات ایک’ نیوز چینل‘ کے لاہور آفس میں ہوئی جہاں میں اپنے ہمدم دیرینہ سابق سیشن جج اعجاز احمد بٹر صاحب کے ساتھ ’نیوزچینل‘ لاہور کے بیورو چیف کے نیاز حاصل کرنے پہنچا تھا اس ملاقات میں زارا سے میں نے جو چند سوال پوچھے انکے جوابات کا خلاصہ یہی ہے کہ زارا کسی بھی امتحان کو مشکل قرار نہیں دیتی کہ محنت و لگن سے کچھ بھی مشکل نہیں رہتا وہ والدین کی شفقت و التفات کو بچوں کے لئے روشن مستقبل سے تعبیر کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ والدین کو اس مسئلے سے نکلنا چاہئے  جو چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی ڈاکٹر بنے اسکی شادی کر دی جائے اور بس۔حالانکہ ترقی اور کامیابی کے لئے مقاصدکا وسیع ہونا ضروری ہے زارا ٹھیک ہی تو کہتی ہیں ہم محدود مقاصد کے لئے سرگرداں رہتے ہیں پھر ان کے حصول کے بعد ہمارا علمی سفر رک سا جاتا ہے آج کے تیز ترین ترقی یافتہ اور پرتشدد دور میں تو تعلیم کی اہمیت اور بھی دو چند ہوجاتی ہے اللہ کریم نے انسان کو شعور کی لازوال خوبیوں سے نوازا عقل کے نہ ختم ہونے والے خزانے عطا کئے ہم نے ان خزانوں سے جتنی دولت حاصل کی اتنے ہی مالا مال ہوئے یہی وجہ ہے کہ علم والے زمانے میں بامراد ٹھہرے۔

ہم نے شائد معاشرے میں تعلیم کو ایسی سنجیدگی سے نہیں لیا ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم روبہ زوال ہیں حالانکہ تعلیم تو ایسی چابی ہے جس سے ہم اپنی کامیابیوں  اور ترقیوں کے بند دروازوں کو کھول سکتے ہیں علم کی جستجو ہی تو در اصل ہمیں دنیامیں وہ آبرو عطا کرتی ہے جس سے دنیا میں ہم معتبر ہوتے ہیں زمانہ ہمارا مداح ہوتا ہے، لہٰذا دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے تعلیم کے میدان میں سبقت لیجانا ناگزیر  ہے تعلیم ہمیں دنیا میں بولنا سکھاتی ہے وگرنہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو مال و متاع رکھتے ہیں لیکن دانش و حکمت کے موتیوں کے بغیر انکا دامن خالی خالی سا محسوس ہوتا ہے تعلیم سے ہماری شخصیت بنتی ہے کسی بھی ملک کا نظام تعلیم ہی اسکے بہتر مستقبل کا ضامن ہوتا ہے جہاں جیسا نظام تعلیم ہوگا وہاں ویسا خوشحال معاشرہ ہوگا جس کے پاس جتنی تعلیم ہوگی اسے اتنا ہی زندگی گزارنے کا سلیقہ آئے گا ہم معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں ہمیشہ سست روی کا شکار رہے ہیں۔ تعلیم کے نام پر بلند وبانگ دعوے ضرور کئے گئے اور  بہت سے تجربات بھی ہوئے لیکن ہم با مقصد نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے   پاکستان میں ترقی کے مراحل طے کرنے کے لئے تعلیمی صورتحال کو بہتر بنایا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہتا ہے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے خواندگی کا تناسب زیادہ ہونا ضروری ہے جہالت تو افلاس کو جنم دیتی ہے۔

بد امنی پیدا کرتی ہے۔ معاشرے کو بیمار بناتی ہے اور بیمار معاشرہ تندرست قوموں کا مسکن نہیں ہوتا تعلیم سے بہرہ ور ہوکر ہی ہمارا کل روشن ہو سکتا ہے کیونکہ ز ند گی کا مقصد صرف اپنے لئے جینا نہیں بلکہ یہ سوچنا بھی ہے کہ ہمیں کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا۔ اپنے مقاصد کا تعین کر کے ہمیں اس کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔علم کی روشنی میں اپنی راہوں کا تعین کرنا چاہئے اور راستوں میں حائل مسائل کی رکاوٹیں بھی ہمت و حوصلے سے دور ہوجاتی ہیں اپنی منزل کو پانے کے لئے جہدِ مسلسل لازم ہے۔ہمیں مشکل حالات سے گھبرانے کی بجائے جذبے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ ناخواندگی سے جہاد کرنا چاہئے۔ہم لوگ کھیل تماشوں میں بہت خوش رہتے ہیں اور کھیل بھی ایسے جس سے معاشرے میں صحت مند سرگرمیاں فروغ پانے کی بجائے منفی رجحانات میں اضافہ ہو ہم لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ہمارے حکمران ہماری بے بسی ہماری مفلسی سے کھیلتے ہیں اور اس کھیل میں ہمارے حکمرانوں کی انانیت طمانیت پاتی ہے اب تک پب جی وڈیو گیم۔

ٹک ٹاک اور ایسے دوسرے کھیلوں میں کئی نوجوان جان سے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوصف ان کھیلوں کے رجحانات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے سوشل میڈیا پر فضول حرکتیں کرتی لڑکیاں چشم زدن میں شہرت کے آسمان کو چھو لیتی ہیں انکو لائک کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں جا پہنچتی ہے، لیکن میں زارا نعیم جیسی تعلیمی شخصیات کو دیکھتا ہوں تو میرا یہ دکھ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے اور دل سے شکر کی دعا نکلتی ہے کہ ایسے تعلیمی شخصیات بھی ہیں جن کی وجہ سے علم کا جہاں آباد ہے اور پاکستان کا نام روشن ہے ہماری حکومت کو چاہئے کہ زارا نعیم ڈار کے لئے کسی قومی اعزاز کا اعلان کرے کہ زارا ایسی شخصیات ہی ہماری حقیقی سفیر ہیں جن سے دنیا میں ملک کا وقار بڑھتا ہے ۔

مزید :

رائے -کالم -