استاد کی تنخواہ میں کٹوتی یا برطرفی، بچوں پر تشددکیخلاف بل منظور 

استاد کی تنخواہ میں کٹوتی یا برطرفی، بچوں پر تشددکیخلاف بل منظور 

  

  اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں بچوں کو جسمانی سزائیں دینے کی ممانعت کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ بل (ن) لیگ کی رکن اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے پیش کیا تھا۔بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت کے بل کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حد تک ہوگا۔ بل کے متن کے مطابق کام کرنے کی جگہ، تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت ہوگی۔ سرکاری اور غیر سرکاری، تعلیمی اداروں، مدارس، ٹیوشن سنٹرز میں بھی بچوں پر تشدد کی ممانعت ہوگی۔ بچے کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی میں جسمانی تشدد شامل نہیں ہوگا۔بچوں پر تشدد کے مرتکب افراد کو نوکری سے فارغ کرنے کی انتہائی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جبری ریٹائرمنٹ، تنزلی اور تنخواہ میں کٹوتی کی سزا بھی دی جا سکے گی۔جبکہ  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز اجلاس میں ہنگامہ آرائی کرانے والے ارکان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معزز ایوان ہے،سب کی عزت اسی میں ہے کہ قواعد وضوابط کا خیال رکھیں،کوئی ایک طرف سے دوسری طرف نہ جائے۔ اسپیکر کے انتباہ کے باوجودحکومتی و اپوزیشن اراکین اجلاس میں پلے کارڈز لے آئے، اپوزیشن کے پلے کارڈز پر مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے اور حکومتی ارکان نے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس دس منٹ کیلئے ملتوی کر دیا۔بعد ازاں  اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت دوبار ہ شروع ہوا۔قبل ازیں  اسپیکر اسد قیصر نے شمالی وزیرستان میں چار خوراتین سماجی کارکنوں کی شہادت پر چیف سیکرٹری کے پی کے سے رپورٹ طلب کرلی۔ محسن داوڑ نے کہاکہ شمالی وزیرستان میں چار خواتین سماجی کارکنوں کو شہید کیا گیا،اس معاملہ پر ایوان میں بات تک نہیں کی گئی۔

قومی اسمبلی 

مزید :

صفحہ آخر -