ڈسکہ کا ضمنی انتخاب،ساری جدوجہد اور سیاسی توجہ لے گیا

ڈسکہ کا ضمنی انتخاب،ساری جدوجہد اور سیاسی توجہ لے گیا

  

20 پریذائیڈنگ افسروں کا مبینہ اغوا اور برآمدگی،نتیجے کا اعلان رک گیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار

این اے75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن نے پورے ملک کی توجہ مبذول کرائے رکھی اور تاحال بھی یہ الیکشن زیر بحث ہے۔ عوام حیران ہیں کہ اس جدید دور میں ایک دو نہیں اکٹھے بیس پریذائیڈنگ افسر بیک وقت ووٹوں کے بیگ سمیت غائب ہو گئے۔ ان کے موبائل فون بھی بند پائے گئے اور پھر صبح ایک ہی وقت میں سب واپس بھی آ گئے۔یہ تنازعہ بن گیا اور الیکشن کمیشن کو نوٹس لے کر تحقیقات کرنا پڑی،اب یہ فیصلہ کمشن ہی کرے گا کہ ان بیس پولنگ سٹیشنوں میں کیا ہوا اور اس کے نتیجے میں الیکشن کا کیا کِیا جائے۔ تحریک انصاف نے خود ہی اس الیکشن کو اہم ترین بنایا اور پورا زور لگا دیا جواب میں مسلم لیگ(ن) بھی پیچھے نہ رہی اور نائب صدر مریم نواز نے بھرپور جلسے کئے، اس حلقے کی خصوصی اہمیت یہ ہے کہ یہ آلو مہار شریف کی گدی سے وابستہ ہے۔صاحبزادہ فیض الحسن جو اہل سنت کے جید عالم اور گدی نشین تھے، اپنے طرزِ تقریر کی وجہ سے ملک بھر میں بہت مقبول اور مشہور تھے، ان کے صاحبزادے افتخار الحسن جو زاہرے شاہ کے نام سے موسوم تھے،اس حلقہ سے منتخب ہوئے تو مسلسل جیتتے رہے تھے یہ نشست بھی ان کی وفات کے باعث خالی ہوئی اور مسلم لیگ(ن) نے انہی کی صاحبزادی کو ٹکٹ دیا،لہٰذا سارے راستے اسی گھرانے سے آتے اور جاتے تھے اور اس نشست کو  کوئی خطرہ نہیں تھا،لیکن تحریک انصاف نے اس حلقہ کے ضمنی انتخاب کو بڑا معرکہ بنا دیا۔یوں بھی سیالکوٹ سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور سینیٹر فیصل ٹائیگر فورس کے سربراہ اور بانی ہیں اور اس فورس کا آغاز بھی سیالکوٹ ہی سے ہوا تھا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تعلق بھی سیالکوٹ ہی سے ہے، اس لئے یہ دونوں بہت ہی سرگرم تھے، دیکھنے والی یہ بات ہے کہ ابھی تک ٹائیگر فورس کا ذکر نہیں آیا، حالانکہ یہ ممکن نہیں کہ انتخابات میں اس فورس نے دلچسپی نہ لی ہو۔بہرحال حالات بہت خراب ہوئے،ہوائی فائرنگ کے واقعات ہوئے، جبکہ دو افراد بھی جان بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ یوں اس ضمنی انتخاب نے اس حد تک خونی رنگ بھی اختیار کر لیا، اگلا رنگ جو بھی ہو گا اس کا انحصار الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ہے،ممکن ہے کہ یہاں دوبارہ پولنگ ہو جائے کہ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ بیس پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا جائے۔

اس ضمنی انتخاب کی وجہ سے ساری توجہ ادھر رہی اور مریم نواز سمیت احسن اقبال اور مریم اورانگزیب بھی مصروف رہے، چناچہ لاہور میں کوئی بڑی سیاسی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ البتہ محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری رہی اور دونوں جب بھی پیشی پر آئیں کوئی خبر بن جاتی ہے۔ شہباز شریف کی درخواست پر تو ان کے معائنہ کے لئے میڈیکل بورڈ بھی بنا دیا گیا جس نے ان کا معائنہ مکمل کر لیا ہے اور اب رپورٹ تیار کر کے دینا ہے اس کے بعد ہی ان کے علاج کے لئے عدالت فیصلہ کرے گی کہ ان کی تکلیف کی نوعیت کیا ہے اور علاج کے لئے کیا سہولت دی جائے۔محمد شہبازشریف کینسر کے مرض کے شکار ہوئے اور لندن سے علاج کے بعد صحت ملی،تاہم ساتھ ہی مسلسل علاج کی ہدایت کے باعث وہ سال میں دو بار لندن جا کر چیک اپ کراتے اور نئی ہدایت لیتے تھے۔ یوں تو مستقل طور پر ان کے لئے طبی ہدایت یہ ہے کہ وہ تیراکی کیا کریں۔ زیر حراست ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں پا رہے اور نہ ہی وہ لندن جا کر اپنا معائنہ کرا سکے ہیں،اب طبی بورڈ کی سفارش کے بعد ہی ان کے علاج کا تعین ہو گا۔

لاہور میں صفائی اور آلودگی کا معاملہ بھی بہت اہمیت اختیارکر چکا ہوا ہے، جب سے ترک کمپنی سے معاہدہ ختم ہوا، صفائی کا نظام خراب ہو چکا اور کوڑا کرکٹ اٹھایا نہیں جا رہا، حکومت نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کی تشکیل نو کر دی اور بورڈ آف ڈائریکٹر بنا دیا گیا، ملک امجد علی نون چیئرمین منتخب ہوئے، جبکہ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کو لاہور میں صفائی کے لئے خصوصی ہدف دیا گیا۔ تاہم حالات بہتر ضرور ہوئے،لیکن صفائی کا نظام درست نہ ہو پایا اور نہ ہی کوڑے کے ڈھیر مکمل طور پر اٹھائے جا سکے۔ محلہ وار صفائی بھی ختم ہو چکی اور اب لوگ خود اپنے اپنے گھروں کا کوڑا ٹھکانے لگواتے ہیں۔ بہرحال اس عرصہ میں چیئرمین ملک امجد علی نون نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں مافیا ہے جو نہ صرف کام بہتر نہیں ہونے دیتا، بلکہ اب اس کی نگاہیں اس110 ارب روپے پر لگی ہیں جو گرانٹ کی صورت میں ملنے والے ہیں، اس کی تائید اور شکایت بھی میاں اسلم اقبال ہی نے کی ہے،اب تو وزیراعظم نے ملک امجد نون کو بُلا کر حالات دریافت کئے اور ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ ان کا استعفیٰ منظور نہ کریں اور ان کو دوبارہ کام کرنے دیا جائے اور اس حوالے سے ان کے تمام تحفظات دور کئے جائیں، وزیراعلیٰ  نے بھی ان کو ملاقات کے لئے بلایا ہے اب دیکھئے نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

موسم تبدیل ہو رہا ہے،سردی کی جگہ بہار لے رہی ہے، کلیاں کھلنے اور درخت سر سبز ہونے کی تیاری کر رہے ہیں،لیکن بارش نہ ہونے سے کسان/کاشتکار بہت پریشان ہیں کہ پانی اور قدرتی بارش کے نہ ہونے سے گندم کا ابھار کم تر ہو گیا اور خدشہ ہے کہ پیداوار بھی کم ہو گی، گندم کا دانہ بھی سکڑ جائے گا اور اس کے آٹے کا ذائقہ متاثر ہو گا، کاشتکار آسمان کو دیکھ کر دُعا مانگ رہے ہیں کہ اللہ بارش ہی دے دے، اس صورت حال کی وجہ سے اندیشے ابھر رہے ہیں کہ اس سال گندم کا بحران سر اٹھا سکتا ہے۔

دریں اثناء پہلے سے طے شادیوں کا سیزن بھی خوب لگ گیا ہے، شادی ہال اور کھلے پارکوں میں شادیاں ہو رہی ہیں، مانگ بڑھ جانے سے مرغی کے گوشت کے نرخ بھی320 سے330 روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں،جبکہ منڈی اور بازار میں سبزیوں کے نرخ بھی متاثر ہوئے ہیں کہ موسمی سبزیوں کا سیزن تبدیل ہو رہا ہے۔جاری موسم کی سبزیوں کی جگہ نئی سبزیاں لے رہی ہیں اور یوں ان کے نرخ بھی زیادہ ہیں،یوٹلیٹی سٹورز پر تو سبسڈی ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گھی اور آئل مزید 20سے30 روپے تک مہنگا کر دیاگیا ہے، اس سارے عرصہ میں کورونا کے حفاظتی اقدامات کی پروا نہیں کی جا رہی، شادی ہالوں میں بھی خلاف ورزی جاری ہے،جبکہ کھلی جگہ پر تو کوئی فکر نہیں کی جاتی، نہ ہی مارکیٹوں اور بازاروں میں عمل ہو رہا ہے۔ حکومت کو خود اہتمام کرنا ہو گا اور اس کے لئے خود سرکاری ٹرانسپورٹ اور دفاتر میں سختی سے عمل کرانا ہو گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -