پی ٹی آئی نو شہرہ میں اپنی نشست سے ہاتھ کیوں دھو بیٹھی؟

 پی ٹی آئی نو شہرہ میں اپنی نشست سے ہاتھ کیوں دھو بیٹھی؟

  

لیاقت خٹک نے اپنے بیٹے کو ٹکٹ نہ دینے کا خوب بدلہ لیا، وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے

نوشہرہ کے صوبائی حلقہ پی کے 63 میں مسلم لیگی امیدوار اختیار ولی کے ہاتھوں حکمران جماعت تحریک انصاف کے امیدوار میاں عمر کی شکست آج کل اہم ترین موضوع بحث بنی ہوئی ہے، خیبر سے کراچی تک اس ضمنی الیکشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور ہر بیٹھک میں کہا جا رہا ہے،  آخر کیا وجہ بنی کہ ماڈل صوبہ بنانے کی دعوے دار حکومت کو اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ چونکہ یہ حلقہ وزیر دفاع پرویز خٹک کے آبائی علاقے نوشہرہ میں آتا ہے اس لئے اس پر خاصی گرما گرم بحث جاری ہے، خود وزیر اعظم عمران خان بھی اس معاملے کی تحقیقات کے لئے پشاور تشریف لائے اور اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ وزیر اعلیٰ محمود خان بھی اس پر خاصے برہم ہوئے جبکہ پرویز خٹک نے تو اپنا غصہ اس انداز میں نکالا کہ شکست کو اپنوں کی سازش قرار دیا اور کہا کہ ہم نے (ن) لیگ کے چھ ہزار سے زائد ووٹ پکڑ لئے ہیں جس پر عدالت میں جائیں گے۔ لیگی امیدوار کی مبینہ حمایت کے الزام میں صوبائی وزیر لیاقت خٹک کو بھی وزارت سے فارغ کر دیا گیا اور انہیں صوبائی قیادت کی جانب سے زبردست تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

اس حلقے  کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی شکست سے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجوہات سامنے آ گئیں،معلوم ہوا ہے کہ لیاقت خٹک نوشہرہ سے اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے لیکن پرویز خٹک راستے میں آڑے آگئے۔ لیاقت خٹک جو پرویز خٹک کے سگے بھائی ہیں اپنے بیٹے احد خٹک کے لیے ٹکٹ کے خواہش مند تھے  لیکن پرویز خٹک نے ٹکٹ میاں عمر کو دلوا دیا، پرویز خٹک کا مؤقف تھا کہ سیٹ 2023ء  تک جمشید الدین فیملی کا حق ہے۔جس کے بعد احد خٹک نے (ن) لیگی امیدوار کی کامیابی کے لیے مہم چلائی،  اور  نوشہرہ کلاں تنظیم کے پلیٹ فارم پر پی ٹی آئی کے مختلف دھڑوں کو اکٹھا کیا، تنظیم نے ملکر ن لیگ کی کو مضبوط بنایا  جو پی ٹی آئی کی شکست کا باعث بنی۔ لیاقت خٹک کو وزیراعلیٰ   محمود خان، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیراعظم عمران خان کی باہمی مشاورت سے وزارت سے ہٹایا گیا، یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ لیاقت خٹک کے پی ٹی آئی کے دیگر اراکین سے بھی رابطے ہیں اور وہ خیبر اسمبلی میں ایک الگ گروپ بنانے کے لئے بھی کوشاں ہیں، یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ پرویز خٹک کے خاندانی بزرگ دونوں بھائیوں کے درمیان تنازع طے کرانے کی کوشش میں بھی ہیں اور اس حوالے سے آئندہ چند روز میں جرگہ بھی ہو سکتا ہے۔  اس حوالے سے صوبائی وزیر  شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ لیاقت خٹک نے نوشہرہ کے ضمنی الیکشن میں پارٹی کو دھوکا دیا اور  لیاقت خٹک کے ایسے عمل سے پرویز خٹک کی سیاست پر بھی اثر پڑے گا۔لیاقت خٹک کو  پی ٹی آئی نے سنجیدہ نہیں لیا تھا، لیاقت خٹک اتنے اثر رسوخ والے ہیں یا نہیں اس کا علم نہیں، لیکن یہ ہمارے لیے سبق ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ لیاقت خٹک اگر اس پر خوش ہیں کہ ہمیں ہرا دیا تویہ بھی دیکھیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو تا ہے۔  ان کے خلاف فوری ایکشن لیا گیا، لیاقت خٹک کے خلاف کارروائی کے لیے پارٹی قانونی پہلوؤں کو بھی دیکھے گی۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ    مسلم لیگ ن کے اختیار ولی کی کامیابی کا جشن لیاقت خٹک کے عزیز اصغر خٹک کی رہائش گاہ پر منایا گیا۔ جشن میں سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک اور بیٹے احد خٹک نے بھی شرکت کی اس معاملے کو بھی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا جس پر زبردست تنقید ہوئی اور بات یہاں تک پہنچی کہ لیاقت خٹک اور ان کے بیٹے کے خلاف اس قدر سخت ایکشن ہونا چاہئے کہ دوسری پارٹی رہنماؤں کے لئے سبق کا باعث بنے۔ (ن) لیگ کے ہاتھوں پی ٹی آئی کو نوشہرہ کے صوبائی حلقے میں شکست اس وجہ سے بھی زیادہ اہمیت اور شہرت اختیار کر گئی کہ سینٹ  الیکشن کی آمد آمد ہے اور خیبرپختونخوا جہاں دیگر صوبوں کی نسبت پی ٹی آئی کو غالب اکثریت حاصل ہے وہاں اس قسم کی ریشہ دوانیاں اپوزیشن کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اسی لئے وزیر اعظم عمران خان ضمنی الیکشن کے فوری بعد صوبائی دارلحکومت پہنچے  اور  ان کی   صدارت میں  اجلاس منعقد ہوا جس میں سینٹ کے الیکشن پر بالعموم اور نوشہرہ کے ضمنی انتخاب پر بالخصوص تفصیلی گفتگو کی گئی تمام امور زیر بحث آئے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ  وزیر اعظم نے ڈسپلن کے معاملات پر خاصی برہمی کا اظہار کیا اور یہاں تک کہا کہ مجھے تنظیمی معاملات میں کمزوری اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی طور مقبول نہیں ہم ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک اور اہم اطلاع یہ ہے کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں اس اجلاس کے دوران دو برطرف شدہ صوبائی وزراء  سمیت خیبر سے منتخب ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے 14 اراکین بھی مختلف وجووہ کی بنا پر غیر حاضر رہے،  تاہم اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پرویز خٹک کے بھائی اور تحریک انصاف کے برطرف صوبائی وزیر لیاقت خٹک اور مبینہ ضمیر فروشی کے الزام میں کابینہ سے فارغ شدہ سابق وزیر قانون سلطان محمد نے شرکت نہیں کی۔

وزیر دفاع پرویز خٹک کے موقف کی روشنی میں گزشتہ روز ضمنی انتخاب کے نتائج الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دئیے گئے،  درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ  بیلٹ پیپرز میں خرد برد کی گئی،جتنے بیلٹ پیپر جاری ہوئے، اس سے زیادہ جمع کرائے گئے،کئی پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپر غائب ہوئے، فارم 45 کی ایک سے زیادہ کاپیاں جاری کی گئیں۔ کئی پولنگ اسٹیشنز پر بدانتظامی ہوئی جس سے نتائج قابل بھروسہ نہیں رہے،الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کرائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن  تحریک انصاف کی اس درخواست پر کیا کارروائی کرتا ہے۔

دوسرا اہم موضوع افغانستان میں امن و امان کے قیام سے متعلق ہے جہاں دوحہ امن معاہدہ پر عملدرآمد میں رکاوٹیں حائل ہیں اور کوئی نہ کوئی امن دشمن کارروائی سامنے آ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستانی علاقوں میں بھی دہشت گردی جنم لیتی ہے ابھی گزشتہ روز شمالی وزیر ستان   کے علاقے تحصیل شیواہ  میں گاڑی پر فائرنگ سے 4خواتین جاں بحق ہوگئیں۔ واقعہ ٹنڈی کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے بعد گاڑی میں سوار8 افراد کو اغوا کرکے لے گئے۔ 

اسی تناظر میں  طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کی واپسی کی مدت میں توسیع پر کبھی رضامند نہیں ہوں گے، افغان تنازع حل کرنے کیلئے امن معاہدہ نافذ کیاجائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -