ماضی شاہد، ضمنی انتخابات حکومتی جماعت جیتتی ہے

ماضی شاہد، ضمنی انتخابات حکومتی جماعت جیتتی ہے

  

حالیہ انتخابات میں الٹ ہو گیا،غور کی ضرورت!

تاریخ بتاتی ہے کہ عمومی طور پر ضمنی انتخابات حکمران جماعت باآسانی جیت لیا کرتی ہے مگر اس مرتبہ تحریک انصاف کی حکومت کو چاروں صوبوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے،جو حکمران جماعت کے لئے سیاسی طور پر لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ اس میں اپوزیشن جماعتوں یا ان کے اتحادیوں کا کوئی کارنامہ نہیں، بلکہ وہ پالیسیاں ہیں جو مہنگائی کا سبب بن رہی ہیں اور عام آدمی پریشانی و غربت کی لکیر سے مزید نیچے چلا گیا ہے اور اسے اب سابق حکمران اور موجودہ اپوزیشن والے فرشتے نظر آرہے ہیں،جس کی بڑی وجہ حکومتی وزراء،وزرا ء اعلیٰ،عہدیدار اور میڈیا ٹیم کا غیر سنجیدہ رویہ اور بیانات ہیں جو عام آدمی کے ساتھ پڑھے لکھے طبقے کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے پاس اول تو تبدیلی لانے کے لئے کوئی مثبت اور مضبوط ایجنڈا ہی نہیں تھا دوئم یہ کہ ان کے پاس کوئی معاشی ٹیم نہیں، جس کا واضع ثبوت سندھ اور وفاق میں جنرل پرویز مشرف اور پھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں مالی امور کی دیکھ بھال کرنے والے حفیظ شیخ کی وزیر خزانہ اور ڈاکٹر باقر رضا کی بینک دولت پاکستان کے گور نر کے طور پر تعیناتی ہے،جبکہ اقتصادی اور مالی امور کے لئے نابغہ روزگار قسم کے مشیران کی ایک فوج ظفر موج الگ سے اپنا حصہ ڈال رہی ہے یا پھر لے رہی ہے، جس کا تمام تر منفی اثر عوام پر پڑ رھا ہے، یعنی وہ خاموش ووٹر،جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ کرے گا یا پھرکیا تھا،اب نالاں نظر آتا ہے اور برملا اس دُکھ کا اظہار کرتا ہے کہ غلط فیصلہ کیا۔اب اس تبدیلی میں یقینا اپوزیشن جماعتوں کا بظاہر کوئی کردار یا حکمت عملی نظر نہیں آتی، مگر حکمرانوں کی اپنی کہہ مکرنیاں سامنے آرہی ہیں جو کسی بھی بڑی تبدیلی کی طرف جاسکتی ہیں جس کا اظہار سابق صدرِ مملکت اور پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے واشگاف الفاظ میں کیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں حکومت کو ضمنی انتخابات سے بڑا سرپرائز دیں گے کہ اب سلیکٹیڈ کے گھبرانے کا وقت آگیا ہے، بلکہ یہ دعویٰ بھی کردیا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے،سیاست کے شہسوار آصف علی زرداری یقینا کچی گولیاں نہیں کھیلے کہ ان کے بارے میں منجھے ہوئے سیاستدانوں کی رائے ہے کہ ان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے  پی ایچ ڈی بھی فیل نظر آتے ہیں،سیاسی سائنسدان ہیں جو وقت پر سیاسی پتہ کھیلتے ہیں۔سندھ اسمبلی میں حلیم عادل شیخ اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری اور جیل یاترا معمولی نہیں ہے یہ ایک پیغام بھی ہوسکتا ہے اور اب سینٹ میں کامیابی کا دعویٰ ہوا میں تیر نہیں بلکہ غور کرنے کی بات ہے کہ سابق وزیر اعظم کی سینٹ میں جیت کے لئے سابق صدر مملکت اور 4سابق وزرائے اعظم سمیت سابق سپیکر قومی اسمبلی اور سابق چیئرمین سینٹ سمیت منجھے ہوئے پارلیمنٹرین کا ایک پورا گروپ مہم چلا رہا ہے جو دراصل موجودہ وزیراعظم عمران خان کو سیاسی شکست دینے کی تحریک ہوسکتی ہے دوسری طرف یوسف رضا گیلانی خود بھی برملا کہہ چکے ہیں کہ وہ یہ انتخاب ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں اس بات میں وزن ہے کہ اپنے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں انہوں نے حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے کافی کام کئے جبکہ ان تمام پر ایک اہم نکتہ بھاری ہے کہ ان کی رشتہ داریاں اندرون سے شروع ہو کررحیم یار خان، ملتان،خانیوال،لاہور،پاکپتن،اوکاڑہ،پشاور اور جنوبی پنجاب باقی اضلاع سمیت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ا ن کے صاحبزادے سابق ایم این اے سید عبدا لقاد ر گیلانی پیر پگارو کے چھوٹے بھائی کے داماد ہیں،جبکہ پیر پگارو کے والدین ان کے سگے خالو تھے۔ اب اس صورتِ حال میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان سیاست کے اپنے اسرار و رموز ہیں انہیں مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے تجویز دی ہے کہ سینٹ کے انتخابات تین ماہ کے لئے ملتوی کرکے آئین میں ترمیم لائی جائے، جس کے تحت سینیٹرز کاانتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہو اور ان کی تعداد بھی بڑھائی جائے کہ اس طریقہ کار سے ملک میں استحکام کے ساتھ ووٹ خریداروں کی منڈیا ں بھی نہیں لگیں گی، کیونکہ اس وقت ملک کے سیاسی اور معاشی حالات دِل کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں، انہوں نے مشاہد اللہ خان کی وفات پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا اور سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں حفیظ شیخ کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کو حکومتی پارٹی کی غلطی قرار دیا۔دوسری طرف پنجاب ایگری کلچر کمیٹی کے رکن اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے ڈائریکٹر معروف صنعت کار خواجہ جلال الدین رومی نے کپاس کے حالیہ بحران پر قابو پانے اور پیداوار میں اضافے کے لئے تجویز دی ہے کہ حکومت کپاس کی امدادی قیمت 4500روپے مقرر کرے اور ہنگامی بنیادوں پر کپاس کے کاشت کاروں کو پندرہ ہزار روپے فی ایکڑ براہ راست سبسڈی دی جائے،جس سے کپاس کی کاشت میں کمی پر قابو اور کاشت کو دوبارہ راغب کیا جاسکتا ہے ملکی ترقی کے لئے زراعت پر توجہ ضروری ہے، جس سے اربوں ڈالرز کی سالانہ بچت ہوسکتی ہے جو ہم درآمد پر خرچ کرتے ہیں مختلف فصلوں کی کاشت پر مراعات دی جائیں اور لاکھوں ایکڑ سرکاری زمین کو مقامی کاشتکاروں کو لیز پر دی جائے،جو  اوپن بولی پر ہونی چاہئے،انہوں نے انکشاف کیا کہ ہماری کمیٹی نے جو سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی تھیں اس پر بہت جلد زرعی پیکیج کا اعلان وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -