ملیر کا ضمنی الیکشن،حلیم عادل شیخ کی گرفتاری

ملیر کا ضمنی الیکشن،حلیم عادل شیخ کی گرفتاری

  

مبنیہ تشدد اور سانپ نکلنا، محاذ آرائی میں مزید شدت

ملک کے سیاسی میدان میں سینیٹ الیکشن مکمل طور پر چھایا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ضمنی الیکشن نے بھی سیاسی ماحول کو خوب گرمایا، الیکشن کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن عوام اور سیاسی پارٹیوں کا الیکشن کے ذریعے اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرنا بھی خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔جو بات تشویش کی ہے  وہ یہ کہ عدم برداشت اور تشدد پسند انداز سیاست ضمنی الیکشن میں نظرآیا۔سندھ میں ہونے والے ضمنی الیکشن حکمران پیپلزپارٹی نے جیتے، لیکن بہت سی تلخیاں بھی ساتھ ساتھ  چل رہی ہیں۔کراچی کے ضلع ملیر میں ہونے والا ضمنی انتخاب اس لحاظ سے قابل ذکر ہے۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے رہنما اور حال ہی میں اپوزیشن لیڈر بننے والے حلیم عادل شیخ نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔ پیپلز پارٹی کو گذشتہ ڈھائی برس میں سید فردوس شمیم نقوی کی خاموش اور کمزور اپوزیشن کا سامنا تھا،جو کراچی الیکٹرک کے آفس کے باہر گارڈز کو دروازہ کھولنے کے لئے درخواست کرتے دکھائی دیتے تھے، لیکن حلیم عادل شیخ کا معاملہ مختلف نظرآیا۔

اپوزیشن راہنما حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے بعد جیل میں مبینہ تشدد اور سانپ نکلنے کے واقعے پر تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے بھی صوبائی حکومت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس حوالے سے سخت الفاظ استعمال کئے جب انہوں نے آئی جی سندھ مشتاق مہر سے اس واقعے پر گفتگو کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کی۔آئی جی سندھ نے انہیں تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن ان کا خیال ہے کہ آئی جی پولیس بے بس ہیں،جو کچھ وزیراعلیٰ سندھ چاہ رہے ہیں وہ ہورہا ہے۔حیرت اس بات کی ہے کہ حلیم عادل شیخ ایک رکن سندھ اسمبلی بھی ہیں، لیکن اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ضمنی الیکشن کے اس واقعے کے بعد کی صورت حال نے سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔یہ سلسلہ اگرچہ گذشتہ ڈھائی برس سے جاری ہے، لیکن اس مرتبہ اس میں شدت نظرآتی ہے۔

سیاسی اختلافات ہونا اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی یہاں کا معمول ہے، لیکن تشدد کا استعمال کسی بھی انداز سے ہو  قابل افسوس ہے۔اختلافات کو اس مقام تک لے جانا کہ دونوں جانب سے وزراء الفاظ کی گولہ باری شروع کردیں یہ بہت ہی عجیب انداز ہے۔وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بہت واضح طورپر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی اختلافات کو بنیاد بناکر وزیراعلیٰ سندھ یہ کہتے ہیں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو وزیراعظم پاکستان کے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہیں تو یہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے سندھ حکومت کو ہدف تنقید بنایا اور اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کی بات بھی کی۔ان کا خیال ہے کہ اس وقت صوبوں کو بہت زیادہ اختیارات دیئے گئے تھے۔ صوبوں کو بلدیاتی نظام کے لئے پابند کیا جانا چاہئے تھا۔ صوبوں نے صوبائی مالیاتی کمیشن بنانے پر بھی کام نہیں کیا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اٹھارہویں ترمیم پاس کرنے والی اسمبلی میں اسپیکر تھیں۔

صوبہ سندھ سے سینیٹ الیکشن کے لئے امیدواروں کی حتمی فہرست تیار ہوگئی ہے۔ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کو ٹیکنو کریٹ کی نشست پر الیکشن میں حصہ لینے کے اہل تصور نہیں کیا گیا، کیونکہ انہوں نے 16برس تک تعلیم حاصل نہیں کی۔فیصل واوڈا کے کاغذات کی منظوری کے بعد بھی غیر ملکی شہریت کے حوالے سے ان کی منظوری کو چیلنج کردیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی کی رکن پلوشہ زئی خان پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ ان کا ووٹ حال ہی میں کراچی منتقل کیا گیا ہے، لیکن اعتراض مسترد ہوگیا ویسے یہ حقیقت ہے کہ پلوشہ زئی خان صوبہ سندھ کی رہائشی نہیں۔سینیٹ الیکشن کی انتخابی مہم میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی جدوجہد بہت دلچسپ دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ،یوسف رضا گیلانی کے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ دونوں اسلام آباد کی نشست سے امیدوار ہیں۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انہوں نے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے ملاقات کی۔جی ڈی اے کے سربراہ پیرصاحب پگارو نے اعلان کیا کہ حکومتی اتحاد کی جماعتیں سینیٹ الیکشن ساتھ مل کر لڑیں گی۔ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے ڈاکٹر حفیظ شیخ سے گلے شکوے بھی کئے۔غالباًحفیظ شیخ کو اندازہ ہورہا ہوگا کہ وہ گذشتہ دو برس تک اراکین اسمبلی کی بات اتنے غور سے نہیں سن سکے ہوں گے جتنا ان کو اپنی انتخابی مہم کے لئے سننا پڑرہی ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے ایک مرتبہ پھر کراچی کی مردم شماری کے نتائج پر پیپلزپارٹی کے رویے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دیگر معاملات پر وفاقی حکومت کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے، لیکن بلاول بھٹو کو چاہئے کہ اس مسئلے پر بھی وزیراعظم سے بات کریں۔

اس تمام سیاسی گرما گرمی میں کراچی میں کرکٹ میلے پی ایس ایل کا آغاز ہوگیا ہے۔ کرکٹ کے بخار نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ایس ایل اس وقت دنیائے کرکٹ میں ایک نمائندہ ٹورنامنٹ ہے۔پاکستان کی سافٹ پاور کی عمدہ مثال ہے۔ حکومت سندھ کو چاہئے کہ اس موقع پر ٹریفک پلان پر نظر ثانی کرے کیونکہ میچ کی وجہ سے شہر کراچی کے عوام کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں کرکٹ گراؤنڈ کی شہرت سے پاکستان  نے بھی ایک منفرد انداز سے خراج تحسین حاصل ہے۔ دنیا بھر سے کئی کرکٹرز نے وہاں کھیلنے کی خواہش کی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے لئے ایسی کئی خبریں مستقبل قریب میں سننے کو ملیں گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -