پاکستان اور سری لنکا کے مابین مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط، سی پیک کے ذریعے اقتصادی روابط وسط ایشیاء، سری لنکا تک بڑھائے جا سکتے ہیں: عمران خان 

  پاکستان اور سری لنکا کے مابین مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط، سی پیک کے ...

  

 کولمبو (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ سی پیک کے ذریعے اقتصادی روابط وسط ایشیا، سری لنکا تک بڑھائے جاسکتے ہیں، پاکستان اور سری لنکا کو دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، جو ملک سیاحت پر انحصار کرتا ہو وہاں دہشت گردی ہو تو سرمایہ کاری نہیں آتی۔اپنے دورہ سری لنکا کے موقع پر سری لنکن ہم منصب مہندا راجہ پاکسا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'سری لنکا کا پہلا دورہ اس وقت کیا جب کرکٹ کریئر شروع کر رہا تھا، میرا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہے'۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے اور چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس کا اہم ترین پروگرام ہے جو علاقائی روابط کے فروغ کی نئی راہیں کھولے گا، سی پیک کے ذریعے اقتصادی رابطے وسط ایشیا اور سری لنکا تک بڑھائے جاسکتے ہیں، سری لنکا کو دعوت دیتا ہوں کہ پاکستان کے ذریعے اپنے اقتصادی علاقائی روابط کو فروغ دے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کو دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، پاکستان 10 سال بدترین دہشت گردی کا شکار رہا جس میں 70 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، سری لنکا نے 30 سال تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا جس میں پاکستان نے اس کی مدد کی اور دہشت گردی نے سری لنکا کی ترقی اور سیاحت کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک سیاحت پر انحصار کرتا ہو وہاں دہشت گردی ہو تو سرمایہ کاری نہیں آتی اور یہی پاکستان کے ساتھ ہوا، ان 10 سالوں میں ملک سے سیاحت ختم ہوگئی اور دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے سرمایہ کاری بند ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں کورونا وائرس کی صورت میں جیسے ایک اور مسئلے کا سامنا ہے، مجھے معلوم ہے کہ سری لنکا بھی سیاحت پر انحصار کرنے والے دیگر ممالک کی طرح اس وبا سے متاثر ہوا ہے، ہم نے اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ اس وقت کس طرح ترقی یافتہ ممالک، ترقی پذیر ممالک کی مدد کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کو خود کو اس معاملے سے دور نہیں کرنا چاہیے، کورونا وبا نے غریب ممالک اور ہر ملک کے غریبوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے دنیا میں عدم برابری کو بالکل واضح کر دیا ہے لہٰذا اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیموں کو آگے بڑھ کر غریب ممالک کا خیال رکھنا چاہیے۔ عمران خان نے سری لنکن ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔قبل ازیں سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے کہا کہ کورونا وائرس نے ملک کو متاثر کیا ہے، وبا سے قبل سیاحت اور ایوی ایشن کے شعبوں میں سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا تھا۔ انہوں نے بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے سیاحت کے دروازے کھولنے اور کھیلوں کے شعبے میں تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد جاری رکھیں گے جبکہ غیر قانونی منشیات، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور دیگر تمام غیر قانون سرگرمیوں کے خلاف دونوں ممالک کی متعلقہ ایجنسیاں روابط کو مضبوط بنائیں گی۔  اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی سری لنکن ہم منصب مہندا راجا پاکسا سے ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں پاکستان اور سری لنکن قیادت کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم عمران خان جبکہ سری لنکن وفد کی قیادت وزیراعظم مہندا راجا پاکسا نے کی۔ ان مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان خصوصی طیارے میں کولمبو پہنچے تو بچوں نے انہیں پھول پیش کئے۔ سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسا نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔وزیراعظم کو سلامی کے چبوترے پر لے جایا گیا جہاں دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ مختصر تقریب کے بعد سری لنکن وزیراعظم نے عمران خان سے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف کرایا۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔پاکستانی وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے سری لنکن ہم منصب ڈائنش گناوردنا کے ساتھ  ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات،باہمی دلچسپی کے حامل کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، سری لنکن وزیر خارجہ نے سری لنکا آمد پر وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہا، اس موقع پر وزیر  خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان، سری لنکا کے ساتھ، گذشتہ کئی دہائیوں پر محیط، دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان، سری لنکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور مزید مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہے، 

پاکستان، سری لنکا

مزید :

صفحہ اول -