امریکہ جوہری مسئلہ حل کرنے کیلئے ایران سے بات چیت کرنے پر تیار: وائٹ ہاؤس

امریکہ جوہری مسئلہ حل کرنے کیلئے ایران سے بات چیت کرنے پر تیار: وائٹ ہاؤس

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ میز پر بیٹھ کر سفارتی بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ پریس سیکرٹری جین ساکی نے ایک تازہ پریس بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کیلئے ڈپلومیسی ہی بہترین طریقہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجما ن سے ایک اور سوال کیا گیا کہ رومن کیتھولک پوپ فرانسسس ایرانی حکومت کے ساتھ کافی رابطہ ہے اوران کے صدر بائیڈن کے ساتھ بھی گہرے تعلقات ہیں ایسی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کیلئے پوپ کا کوئی کردار ہوسکتا ہے۔ اس پر انہوں نے اسے خارج ازامکان بھی قرار نہیں دیا۔ جین ساکی نے کہا یہ درست ہے کہ صدربائیڈن کے پوپ کیساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اوول آفس میں پوپ کی تصویر اس تعلق کی مظہر ہے لیکن میرے خیال میں ایران کے ساتھ رابطے کا اصل چینل وہ چھ عالمی طاقتیں ہیں جن کے ساتھ مل کر جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ ان کے ذریعے اس معاہدے کو بحال کرنے کیلئے ہم کام کر رہے ہیں۔ جسے ٹرمپ انتظامیہ نے منسوخ کردیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ ”اس مرحلے پر ہم ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمارے یورپی اتحادی بھی ایران کے جواب کے منتظر ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ایران امریکہ کے ساتھ سفارتی بات چیت کرنے کو تیار ہے یا نہیں“ ترجمان کا کہنا تھاکہ وہ پوپ فرانسس کی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتیں اس لئے اس بارے میں ان سے ہی سوال کیا جانا چاہئے۔ یادرہے پوپ نے 2016ء میں ایرانی صدر حسن روحانی کا ویٹیکن سٹی میں خیرمقدم کیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس ایران کے آیت اللہ سید مصطفی احمد آبادی نے پوپ کے نام ایک خط میں درخواست کی تھی کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے ایران پر امریکی پابندیوں کو ختم کرائیں۔

وائٹ ہاؤس

مزید :

صفحہ اول -