این اے 75ڈسکہ، 4مشتبہ پولنگ سٹیشنز کلیئر، 14ردوبدل ہوا، ریٹرننگ افسر

      این اے 75ڈسکہ، 4مشتبہ پولنگ سٹیشنز کلیئر، 14ردوبدل ہوا، ریٹرننگ افسر

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) الیکشن کمیشن میں این اے 75 میں ری پولنگ کی درخواست پر ریٹرننگ افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے، پریذائیڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، 20 مشتبہ پولنگ سٹیشنز میں سے 4 کلیئر ہیں، 337 پولنگ سٹیشنز کا کوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا۔  منگل کو این اے 75 میں ری پولنگ کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ریٹرننگ آفیسر این اے 75 الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کی رپورٹ فریقین کو دینے کی ہدایت کی۔ ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ صبح 3 بج کر37 منٹ تک337 پولنگ سٹیشنز کے نتائج جمع ہوچکے تھے، 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے، 20 پریذائیڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، ایک پریذائیڈنگ افسر کے علاوہ کسی کا فون نہیں مل رہا تھا، یہ تمام 20 پولنگ سٹیشنز 30 سے 40 کلومیِٹر کے احاطے میں ہیں۔ آر او نے کہا کہ یہ ممکن نہیں تھا پریذائیڈنگ افسر اکیلا ہو، پولیس بھی ساتھ تھی، پولنگ سٹیشن نمبر 9،47،50 اور 140 کے نتیجہ میں کوئی فرق نہیں، 20 مشتبہ پولنگ سٹیشنز میں سے 4 کلیئر ہیں، 3 پولنگ سٹیشنز کے نتائج تاخیر سے واٹس ایپ پر ملے۔ ریٹرنگ افسر نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمشنر کی ہدایات پر 20 پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ آفیسرز کو تحقیقات کیلئے بلایا گیا تو 13 گمشدہ پریزائیڈنگ آفیسرز میں سے 08 نے اگلے روز پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا کہ رات ساڑھے دس بجے تک ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا اور دھند کے باعث ان کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی، جبکہ موبائل فون کی بیٹری ختم ہونے کے باعث وہ کئی گھنٹے سے رابطہ نہیں کر سکے۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران پریزائیڈنگ آفیسرز خوفزدہ اور پریشان تھے، بادی النظر میں 14 پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ آفیسرز نے نتائج میں ردوبدل کیا، لہذا شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن این اے 75 کے 14 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ الیکشن کرائے اور تب تک الیکشن کمیشن این اے 75 کے نتائج کا اعلان نہ کرے۔، چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ فائرنگ جہاں ہوئی وہاں پولنگ کتنی دیر رکی اور مکمل ہوئی کہ نہیں ووٹرز موجود رہے یا چلے گئے؟آراو نے کہا کہ ہلاکت پولنگ اسٹیشن سے باہر ہوئی،تھوڑی دیر کے لیئے پولنگ روکی رہی بعد میں شروع ہو گئی،ممبر خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسکے بعد ٹرن آٹ کیا تھا،آر او نے کہا کہ کسی پولنگ اسٹیشن کے اندر فائرنگ نہیں ہوئی باہر ہوئی،الیکشن کمیشن کی جانب سے استفسار پر آر او نے کہا کہ کسی پریزائیڈنگ افسر نے کہا گاڑی خراب ہو گئی تھی،دھند تھی، راستہ دور تھا، ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں تیس کلومیٹر کے فاصلے میں وہ دھند میں نہیں پہنچ سکتے تھے، ممبرپنجاب الیکشن کمیشن نے کہا کہ محکمہ موسمیات سے کوئی رپورٹ لی تھی؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا مسئلہ تھا اس وقت تو آپ بہت گھبرائے ہوئے تھے، آر او نے کہا کہ ہجوم بھی بہت زیادہ تھا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عثمان ڈار نے کہا تھا ڈسکہ الیکشن نہیں جنگ ہے، شہر میں بھی یہ حالات پیدا کیئے گئے، لاپتہ پریزائڈنگ افسر ایک ہی وقت میں تین گاڑیوں میں آئے ان کی ویڈیو موجود ہے، یہ ایک آپریشن تھا ان کو کہیں رکھا گیا،سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کی امیدوار کے وکیل کی جانب سے ضمنی الیکشن میں بدنظمی اور فائرنگ کی ویڈیوز الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں اور کورٹ روم میں فائرنگ کی ویڈیوز چلائی بھی گئیں،ممبرالیکشن نے استفسار کیاکہ کسی کو گرفتار کیاگیا ہے؟ آپ اس کوموقع پر نہیں پکڑسکتے تھے؟ جو بھی انچارج تھے پولیس والے وہ کیا کر رہے تھے؟وہ تماشہ دیکھ رہے تھے؟ ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نے کہا کہ ووٹرز کو مارا گیا،میرے ہاتھوں پر ڈنڈے مارے گئے، مجھے توقع نہیں تھی کہ وہاں اموات ہوں گی، میرے بچوں کے سامنے مجھے ہراساں کیا گیا، میں الیکشن کمیشن نے صرف انصاف چاہتی ہوں،مجھے ڈرایا جاتا تھاکہ سیاست میں مت آؤ، سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے امیدوار اور ان کے وکیل نے بھی دلائل دیئے،ممبر خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک پولنگ اسٹیشن پر بھی الیکشن کراسکتا ہے اور پورے حلقے میں بھی الیکشن کراسکتا ہے،۔پی ٹی آئی کے امیدوار کے وکیل نے ریکارڈ جمع کرانے کے لیئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ہم تمام ڈاکومنٹس جمع کرائیں گے،انہوں نے دستاویزات جمع کرانے کے لیئے اگلے ہفتے کی تاریخ مانگی تاہم الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت (کل)جمعرات تک ملتوی کر دی۔

الیکشن کمیشن

مزید :

صفحہ اول -