بجلی کے بل کے تنازعہ پر تہرے قتل 4 زخمی کرنیوالے ملزم کی اپیل منظور رہا

بجلی کے بل کے تنازعہ پر تہرے قتل 4 زخمی کرنیوالے ملزم کی اپیل منظور رہا

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس روح الامین کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے بجلی بل کے تنازعہ پر تین افراد کو قتل جبکہ 4 کو زخمی کرنے کے مقدمے میں 45 سال قید اور جرمانے کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کردیا ملزم جہانگیر کی جانب سے کیس کی پیروی سید مبشرشاہ ایڈوکیٹ نے کی استغاثہ کے مطابق ملزم جہانگیر پرالزام تھا کہ انہوں نے 2013 میں پولیس اسٹیشن جہانگیرہ کی حدود میں بجلی بل سے متعلق تنازعہ کے حل کے لئے منعقدہ جرگے کے دوران فائرنگ کرکے حلیم خان سمیت تین افراد کو قتل جبکہ ثنا خوا اور دولت سمیت 4 افراد کو زخمی کردیا تھا ماتحت عدالت نے ملزم کو قتل کے مقدمے میں عمرقید جبکہ دیگر افراد کو زخمی کرنے کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا سنائی تھی دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے استغاثہ نے جو الزام لگایا ہے وہ حقائق کے برعکس ہے کیونکہ اس کیس میں ایک کراس ایف آئی آر بھی ہوئی تھی جس سے متعلق مدعی مقدمہ نے عدالت میں غلط بیانی کی اور اس ایف آئی آر کے حقائق کو چھپایا اس کے ساتھ ساتھ نقشہ ضرر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جس کمرے میں فائرنگ ہوئی ہے مدعی اس کمرے میں موجود ہی نہیں تھا اور وہ باہر دیگر افراد کے ساتھ مبینہ طور پر موجود تھا جب وہ کمرے کے اندر موجود نہیں تھا اور انہوں نے فائرنگ ہی نہیں کی تو کس طرح اس کو ناکردہ جرم کی سزا سنائی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں بہت سے حقائق مدعی مقدمہ چھپا چکا ہے اور یہ ایک کراس فائرنگ کا واقع ہے جس میں دونوں فریقین کے خلاف دعویداری کی گئی دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدلت کو بتایا کہ طبی شواہد بھی درخواست گزار کو فائدہ دے رہی ہے اور استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی شہادتوں میں بھی کافی تضاد پایا گیا ہے لہذا ملزم کو بری کی جائے دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے درجنوں افراد کی موجودگی میں فائرنگ کی اور وہ اپنی بھائی سمیت فرار ہوا ہے جس کا بھائی تاحال مفرور ہے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کری دیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -