بنوں، شمالی وزیر ستان، 4خواتین قتل کیخلاف تاجربراداری کی ایک ہفتہ کی ڈیڈلائن 

بنوں، شمالی وزیر ستان، 4خواتین قتل کیخلاف تاجربراداری کی ایک ہفتہ کی ...

  

بنوں (بیو رورپورٹ) بنوں تاجر برادری کا شمالی وزیرستان تحصیل میرعلی میں شہید 4 خواتین کے انصاف کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دیا گیا۔ متحدہ انجمن تاجران کا قومی سطح پر گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان متحدہ انجمن تاجران کا شمالی وزیرستان ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والی 4 بے گناہ خواتین کے انصاف کے لئے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔جسمیں چیمبر آف کامرس کے ضلعی صدر شاہ وزیر خان، ملک سلیم رحمان صدر ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن، پینٹ ایسوسی ایشن صدر غفور خان، چیمبر آف کامرس جنرل سیکرٹری غلام قیباز خان، گھی چینی ایسوسی ایشن صدر ناصرخان،متحدہ انجمن تاجران رہنما عبدالروف قریشی، گل پیر خان و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کل میرعلی میں ہونے والے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ہمارا 85 فیصد بجٹ اداروں پر خرچ ہورہا ہے۔لیکن عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔ عوام اج عدم تحفظ کا شکار ہے بجلی، گیس عوام کو میسر نہیں لیکن ٹیکس مسلسل بڑھا کر لیا جارہا ہے۔وزیرستان میں شہید ہونے والے خواتین ہمارے مائیں بہنیں ہے۔ہم ان کو انصاف دلانے کے لئے ہر دروازہ کٹکٹھائیں گے۔ہم وزیرستان کے عوام سے بھی سوال کرتے ہیں۔ کہ یہ خواتین اپ کے خواتین کو گھروں کے اندر ہنر سیکھانے اوان لوگوں کی مستقبل کے لئے  وزیر ستان گئے لیکن ان لوگوں نے ہماری بیٹیوں پر فائرنگ کرکے قتل کئے جب وزیر ستان میں ضرب عضب اپریشن ہو رہا تھا تو انکی مائے بہنوں کو ہم نے  پردے میں رکھا لیکن وزیر ستان کے مشران سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اگر ہماری بنوں کی بچیوں کا پتہ نہ کیا تو ہم ائیندہ کیلئے بنوں کے تمام مشران لائخہ عمل تیار کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹیاں ان کی سرزمین پر ان لوگوں نے خون میں لت پت کرکے نہلا دیا ہے  انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں پولیس امن وامان کو بر قرار رکھنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر پولیس کنٹرول نہیں کر سکتی تو وزیرسستان کو فوج کے حوالے کیا جائے ایک طرف سیکورٹی ادارے والے کہہ رہے تھے کہ ہم نے وزیر ستان میں امن قائم کر دیا ہے اگر امن قائم نہیں  تھا تو ان لوگوں کو واپس کیوں  بیھجا انصاف کا تقاضہ یہ کہ جو حواتین شہید ہوچکی ہے انکو شہدا پیکج  دیا جائے ان بے گناہ خواتین کا قصور کیا تھا۔ ایسا ظلم تو کافر میں بھی ممکن نہیں کہ کسی بے گناہ مہمان خواتین کو اس طرح قتل کیا جائے۔اپریشن کے باوجود وزیرستان میں امن نہیں پولیس ہر جگہ ناکام دیکھائی دے رہی ہے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کہ بے گناہ خواتین کے قاتلوں کو فوری انجام تک پہنچایا جائے۔اور ان خواتین کو فورسز کی طرح شہداء پیکج میں شامل کرکے ان کے ورثہ کو انصاف دیا جائے۔ہم حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نا کئے گئے تو قومی سطح پر ایک گرینڈ جرگہ بلایا جائیگا، جس میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -