ٹانک،اراضی ملکیتی تنازعہ،متحارب قبائل عارضی فائر بندی 

ٹانک،اراضی ملکیتی تنازعہ،متحارب قبائل عارضی فائر بندی 

  

 ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان: جرگے کی کوششوں سے زمین ملکیتی تنازعے پر زلی خیل اور دوتانی قبائل میں عارضی فائربندی ہوگئی، جرگے کے ذریعے فریقین نے ایک دوسرے کے پکڑے گئے افراد کا تبادلہ کرکے رہا کردیئے، انگریز دور کے مثل پر دوتانی اور وزیر قبائل کے مابین ڈیڈ لاک برقرار، ذرائع تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان سب ڈویژن وانا کے علاقہ کرکنڑہ میں زمینی تنازعے پر دوتانی اور زلی خیل وزیر قبائل کے مابین گزشتہ 7 دنوں سے جاری لڑائی قبائلی عمائدین کے جرگے کی کوششوں کی بدولت عارضی فائربندی ہوگئی ہے، سرکردہ قبائلی رہنما چیف اف احمد زئی ملک جمیل کی قیادت میں گزشتہ شام قبائلی عمائدین پر مشتمل مصالحتی جرگہ نے دوتانی قبائل کے دو برآمتہ شدہ افراد زخمی آغاجان دوتانی اور سیف الدین  کو دوتانی قبائل کے حوالے کردیا جس کے بعد دوتانی قبائل نے گزشتہ دن کی لڑائی میں جاں بحق ہونے والے آمیر خان وزیر کی نعش سمیت ایک زخمی محمد ایدریس وزیر کو مصالحتی جرگے کے حوالے کردیا، دوسری جانب متنازعہ علاقہ کرکنڑہ میں گزشتہ رات سے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم دونوں اقوام کے مسلح افراد بدستور متنازعہ علاقے میں مورچہ زن ہیں، زرائع کے مطابق دونوں فریقین میں انگریز دور حکومت کے مطابق زمین کی حد بندی پر ڈیڈلاک برقرار ہے، دوتانی قبائل کا موقف ہے کہ زمین کی حد بندی انگریز دور کے دستاویزات مثل کے مطابق کی جائے جبکہ زلی خیل وزیر قبائل کا کہنا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد حکومتی دستاویزات کے مطابق زمین کی حدبندی کی جائے، جس کے باعث مسلے کے حل میں رکاوٹیں حائل ہوگئی ہیں، واضح رہے کہ متنازعہ علاقے میں تیسرا سب سے بڑا فریق محسود قبائل ہے جوکہ دوتانی اور زلی خیل وزیر قبائل کے مابین جاری تنازعے کی باعث ابھی تک ان کا موقف سامنے نہیں آیا ہے ذرائع کے مطابق محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے مشران نے اعلی حکومتی حکام کو متعدد بار جرگے کے ذریعے محسود قبائل کی زمین پر بنایا گیا کثیر المقاصد منصوبہ گومل زام ڈیم میں پانی اور بجلی کی پیداوار میں رائلٹی دینے سمیت متنازعہ زمین پر اپنی تحفظات سے آگاہ کرنے کے علاوہ اپنی ملکیت پر کسی قسم کی دراندازی پر راست اقدام آٹھانے کا واضح پیغام دیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -