وزارت خارجہ فالکنز کی ایکسپورٹ کے عالمی قوانین سے وزیراعظم کو آگاہ کرے: اسلام آباد ہائیکورٹ 

وزارت خارجہ فالکنز کی ایکسپورٹ کے عالمی قوانین سے وزیراعظم کو آگاہ کرے: ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)اسلام آباد ہائیکورٹ میں 150 فالکنز کی ایکسپورٹ روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ نے کہا کہ فالکنز ایکسپورٹ نہیں بلکہ تحفتاً دئیے جارہے ہیں، خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ حساس معاملہ ہے۔عدالت نے وزارت خارجہ کو فالکنز ایکسپورٹ پر عالمی قوانین سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کرنے کی ہدایت کردی۔وفاق نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ فالکنز برآمد نہیں کیے جارہے بلکہ تحفہ کے طور پر بھجوائے جا رہے ہیں۔وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ عالمی قوانین کی پاسداری ہم پر لازم ہے، ہم نے کوئی پرمٹ جاری نہیں کیا، نہ ہی فالکنز ایکسپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وزارت خارجہ جواب جمع کرائے اور وزیراعظم کو فالکنز کی ایکسپورٹ پر عالمی قوانین کی پاسداری سے آگاہ کرے۔چیف جسٹس نے کہا یہ نہ کہیں، نہ کوئی قانون سے بالاتر ہے نہ ہی اس طرح تحفہ دیا جا سکتا ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے تحریری جواب داخل کرایا کہ انہوں نے کوئی پرمٹ جاری نہیں کیا،نہ ہی فالکنز ایکسپورٹ کیے جا سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر کیا آپ یہ بات وزیر اعظم کے نوٹس میں لائے؟چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت خارجہ فالکنز ایکسپورٹ پر وزیر اعظم کو آگاہ کرے کہ ہم بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے پابند ہیں نہ آئین کی کوئی شق اس کی اجازت دیتی ہے نہ کوئی اتھارٹی اس طرح تحفہ دے سکتی ہے۔کیس کی مزید سماعت 4 مارچ کو ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

علاقائی -