نشتر ہسپتال: ڈاکٹر کی بچی سے چھیڑ چھاڑ‘ لوگوں کا وارڈ میں ہنگامہ 

      نشتر ہسپتال: ڈاکٹر کی بچی سے چھیڑ چھاڑ‘ لوگوں کا وارڈ میں ہنگامہ 

  

ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی۔خواتین اٹینڈنٹ اپنے آپکو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں۔نشتر ہسپتال کے شعبہ پیڈز سرجری میں زیر علاج بچے کی 14 سالہ بہن کو ہاس آفیسر ڈاکٹر کی جانب سے بداخلاقی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی‘ شور شرابہ پر(بقیہ نمبر42صفحہ 6پر)

 دیگر مریض آگئے۔ معلوم ہوا ہے نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر تین پیڈز سرجری میں واسا کے ملازم امجد علی کا ایک سالہ بچہ محمد انس زیر علاج تھا۔جس کے ساتھ بطور اٹینڈنٹ بچے کی والدہ رابعہ بی بی اور بہن عنابیہ موجود تھیں۔گزشتہ علی الصبح تقریب چار بجے وارڈز میں ہاس آفیسر ڈاکٹر شاہ نواز وارڈ راونڈ کرنے کی نیت سے آئے۔جہنوں نے آتے ہی زیر علاج بچے کو چیک کیا۔اور قریب کھڑی 14 سالہ عنابیہ کو رپورٹس لیکر اپنے روم بلوایا۔جیسے ہی مذکورہ بچی ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئی تو کمرے میں پہلے سے موجود ڈاکٹر شاہ نواز نے اس کو پکڑ لیا۔اور غیر اخلاقی چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کردی۔شور مچانے پر ڈاکٹر نے دھمکی دی۔اسی دوران وارڈ میں دیگر لوگ بھی کمرے میں آگئے۔معاملہ ڈی ایم ایس تک پہنچ گیا۔جہنوں نے متاثرہ بچی اور اسکے والد کا تحریری بیان لیا۔15 کی اطلاع پر مقامی پولیس پنچ گئیں۔دوسری جانب نشتر ہسپتال انتظامیہ نے مذکورہ واقعہ پر انکوائری شروع کردی ہے۔تاکہ ذمے دار کے خلاف قرار واقعی سزا دی جائے گی۔جبکہ واقعہ پر وارڈ میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔

ہنگامہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -